کویت میں 27 سالہ ’بے وطن‘ لڑکے کی خود سوزی کے بعد شہریت کے قوانین پر سوالات

سمیّہ بخش - بی بی سی مانیٹرنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کویت
Getty Images
کویت میں بدون افراد کا مسئلہ 1961 سے چل رہا ہے
دسمبر میں جب کویت میں 27 سالہ حماد نے خود کو آگ لگا لی تو اس واقعے نے ملک میں تہلکہ مچا دیا۔

تیل سے مالا مال خلیجی ریاست میں بظاہر ایسے دکھی حالات نہیں ہوتے جو کسی کو اس طرح کے انتہائی اقدام پر مجبور کر دیں۔ لیکن حماد کویت میں بِدون برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

بدون سے مراد وہ لوگ ہیں جنھیں شہریت حاصل نہیں ہوتی۔ بِدون برادری کے ارکان کو وسیع تر معاشرے تک محدود رسائی ہوتی ہے کیونکہ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب ہے تعلیم، طبی نگہداشت اور ملازمت کے حصول کے لیے انھیں زیادہ مشکل راستے سے گزرنا پڑتا ہے اور افسوسناک طور پر حماد اور اُن کے اہل خانہ کے لیے اس کا مطلب تو ناامیدی بھی ہے۔

صلیبیہ کویت کے دارالحکومت کویت سٹی سے 17 کلومیٹر دور ہے۔ اس علاقے میں اور دارالحکومت کے بڑے بڑے شاپنگ مالز اور شیشے کی بلند عمارتوں کی دنیا میں بہت فرق ہے۔

یہ بھی پڑھیے

روہنگیا مسلمانوں کا درد

ریاستی صرفِ نظر کا شکار برمی اور بنگالی

بنگالی ہونا جرم بنا دیا گیا ہے

عمر وہاں اپنے والدین اور 10 بہن بھائیوں کے خاندان کے ساتھ ایک خستہ حال ہاؤسنگ پروجیکٹ کے ایک معمولی پانچ کمروں والے مکان میں رہتے ہیں۔ اس ہاؤسنگ پروجیکٹ اور بھی بدون رہائش پذیر ہیں۔

عمر 33 سال کے ہیں اپنے چھوٹے بھائی حماد کے قریب ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’وہ دنیا کا سب سے مہربان شخص ہے۔ وہ بھولا بھالا ہے اور ہمیشہ مسکراتا ہے۔‘

لیکن لگ بھگ ایک سال قبل یہ نوجوان تنہائی پسند ہوگیا۔ اس نے اپنے آپ کو اپنے کمرے میں بند کر دیا اور بھائیوں کی جانب سے اسے گھر سے باہر لے جانے کی تمام کوششوں کے خلاف مزاحمت کرتا رہا۔

عمر اپنے بھائی کے درد کے بارے میں کہتے ہیں: ’ان کے لیے سب کچھ مشکل ہو گیا ہے۔‘

کویت میں بدون کا مسئلہ 1961 سے جاری ہے جب برطانیہ سے آزادی کے بعد ملک کی حدود میں بسنے والے کچھ خاندانوں نے شہریت کے لیے درخواست نہیں دی۔

دوسرے خلیجی عرب ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی بغیر کسی شہریت کے ایسے افراد ہیں جن میں سے بیشتر خانہ بدوش قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جو اس خطے میں رہتے تھے لیکن جدید ریاست کے قیام کے وقت انھوں نے شہریت کے لیے درخواست نہیں دی۔

کویت

BBC
حماد کو بدون ہونے کی وجہ سے کم عمری میں ہی اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی

خطے کے دوسرے حصوں میں کچھ ایسے افراد بھی ہیں جن سے وہاں کی حکومت نے ان سے شہریت چھین لی، مثلاً بحرین میں، جس نے متعدد مخالفین کی شہریت منسوخ کر دی۔

کویت کی حکومت کے لیے یہ معاملہ پیچیدہ ہے جو بدون کو ’غیر قانونی باشندے‘ قرار دیتی ہے۔

کویت کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک لاکھ بے وطن افراد میں سے صرف 34 ہزار شہریت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں جبکہ باقی ماندہ دوسرے ممالک کے شہری یا ان کے بچے ہیں۔

روزانہ جدوجہد

حماد پرائمری سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سرکاری ہائی سکول میں داخلہ لینے سے قاصر رہے کیونکہ وہ ایک بدون ہیں اور ان کا خاندان انھیں نجی ادارے سے تعلیم دلوانے سے قاصر تھا۔

حماد اپنے والد اور بھائیوں کو گاڑیوں کی خرید و فروخت کر کے غیر مستحکم روزی کماتے دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے۔ وہ ایک مہینے میں ایک کار فروخت کرتے اور مزید چار ماہ زندگی گزارنے کے لیے جدوجہد کرتے رہتے۔

حماد نے بظاہر یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ وہ زندگی نہیں تھی جو وہ چاہتے تھے۔ اُن کے بھائی کا کہنا ہے کہ فوج میں شامل ہونا اُن کا خواب تھا۔

تاہم محدود مواقع کی وجہ سے اُنھوں نے آمدنی پیدا کرنے کی پوری کوشش کی اور سڑک پر تربوز بیچنا شروع کر دیے لیکن پھر بلدیہ کے اہلکاروں نے اُنھیں پکڑ لیا۔

پھر اُنھوں نے کبوتروں کی افزائش کر کے انھیں بیچنے کی کوشش کی جنھیں وہ نصف کویتی دینار (1.65 امریکی ڈالر) میں خریدتے تھے، لیکن جب انھوں نے پایا کہ انھیں اس میں نقصان ہو رہا ہے، تو یہ کام بھی چھوڑ دیا۔

حماد کو بھیڑیں فروخت کرنے کے لیے چوری کرنے کے الزام میں آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ جیل کاٹنے کے بعد اُن کے دوسرے بھائی جاسم اُن کے لیے سفری دستاویز حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اُنھیں مراکش کے سفر پر لے گئے۔

عمر کا کہنا ہے کہ اس چھٹی نے اُن کے بھائی کو ایک اور زندگی کی جھلک دکھا دی۔

وہ کہتے ہیں: ’اس نے دنیا کو دیکھا، زندگی دیکھی اور خوش ہوا۔ وہ تین ہفتوں تک وہاں رہا، لیکن یہ اس طرح تھا جیسے اس نے تین سال گزارے ہیں۔ اس نے اگلے پانچ سال مراکش کے سفر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے گزارے۔‘

خودکشی کی لہر

کچھ عرصہ قبل حماد نے اپنی والدہ سے یہ کہنا شروع کیا کہ وہ زندگی بنانا اور شادی کرنا چاہتے ہیں، لیکن خاندان کے معاشی حالات سخت ہونے کی وجہ سے اُن کی والدہ انھیں صرف یہی تسلی دے پائیں کہ ’خدا مدد کرے گا۔‘

عمر نے بتایا کہ اُن کے بھائی نے خودکشی کی بات کی تھی لیکن گھر والوں کو توقع نہیں تھی کہ وہ اس بات کو سچ ثابت کر دکھائیں گے، یہاں تک کہ ایک صبح اُنھوں نے شدید مایوسی کے دورے کے بعد خود کو آگ لگا لی۔

اس واقعے کے بعد رکن پارلیمنٹ مرزوق الخلیفہ نے حکومت سے بدون برادری کے افراد میں خودکشی کی لہر کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

مرزوق الخلیفہ نے کہا: ’ہم برکتوں سے بھرے ملک میں رہتے ہیں، اس کے باوجود ہمارے پاس ایسے لوگ ہیں جو زندگی کے مشکل حالات اور روز مرہ کی زندگی پر پابندیوں کی وجہ سے خود کو ہلاک کر لیتے ہیں۔‘

بِدون برادری کے ایک سماجی کارکُن عبداللہ الرباح نے کہا کہ وہ شہریت کے لیے اہلیت رکھنے والے 34 ہزار بدون افراد کو ملک کا شہری دیکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ باقی ماندہ لوگوں کو شہری حقوق حاصل ہوں جو اُنھیں اپنی زندگی گزارنے کے قابل بنائیں۔

عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ اور ان جیسے دوسرے لوگ اس ملک کے ساتھ وفادار ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، لیکن وہ اپنی برادری کے نوجوانوں کی مایوسی کو سمجھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ تیسری نسل ہے جو اس مسئلے کے حل کے انتظار میں ہے۔ وہ کب تک انتظار کریں گے۔ یقیناً وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔‘

عمر کہتے ہیں کہ اب وہ اپنے بھائی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔

عام حالات میں وہ کوئی بھی موقع ملتے ہی صلیبیہ سے باہر نکل جاتے تاکہ اپنی فکریں بھلا کر سمندر کنارے تنہا وقت گزار سکیں، لیکن اب وہ ہسپتال میں داخل اپنے بھائی حماد کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں اُن کے کمرے کی کھڑکی سے دیکھتے رہتے ہیں۔

عمر منتظر ہیں، انھیں امید ہے کہ ڈاکٹر اُنھیں خوشخبری سنائیں گے۔

اس رپورٹ میں تمام افراد کے ناموں کو شناخت کے تحفظ کے لیے تبدیل کردیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17332 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp