ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ: امریکی صدر کا مواخذہ تو ہو گیا لیکن کیا وہ اپنے آپ کو معاف بھی کر سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ
AFP
ٹرمپ پہلے صدر ہیں جن کا دو مرتبہ مواخذہ ہو گیا ہے
گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوبارہ مواخذہ ہو گیا تھا اور وہ امریکہ کی سیاسی تاریخ میں پہلے صدر بن گئے تھے جن کا دو بار مواخذہ کیا گیا ہے۔ تاہم اس سب کے درمیان میڈیا میں آنے والی خبروں کے باعث یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ اپنے دور کے اختتام سے قبل خود کو معاف کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کانگریس کی عمارت پر ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے دھاوا بولنے پر ڈونلڈ ٹرمپ پر ‘بغاوت پر اکسانے’ کے الزامات لگائے گئے تھے جس کے بعد ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ پر صدارتی انتخاب میں دھاندلی کے جھوٹے دعوؤں سے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کا الزام لگا کر ان کا مواخذہ کیا گیا۔

رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ کو اب ایوان بالا یعنی سینیٹ میں مقدمے کا سامنا ہے لیکن ایسا آئندہ بدھ سے پہلے ممکن نہیں جب وہ صدارت کا عہدہ چھوڑیں گے اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے جو بائیڈن اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

مظاہرین کو ’بغاوت پر اُکسانے‘ پر صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی منظوری

ٹرمپ کا مواخذہ، بائیڈن کی صدارت کے پہلے 100 دنوں پر کس طرح اثرانداز ہو گا؟

ڈونلڈ ٹرمپ کون ہیں؟

امریکہ: 25 ویں ترمیم کیا ہے اور کیا اس سے صدر ٹرمپ کو فوراً ہٹایا جا سکتا ہے؟

کیا ٹرمپ اپنے آپ کو معافی دے سکتے ہیں

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی رفقا سے اس امکان پر بات کی ہے کہ وہ اپنی صدارت کے آخری دنوں میں اپنے آپ کو معافی دے دیں۔

صدر ٹرمپ پہلے ہی بہت سے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں نیویارک کی ریاستی حکام کی یہ تفتیش بھی شامل ہیں کہ کیا انھوں نے ٹیکس حکام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

کیا صدر اپنے آپ کو معاف کر سکتے ہیں؟

اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ آئین میں اس بارے میں درج چند الفاظ اور اس کے وسیع اطلاق کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ آج تک کسی امریکی صدر نے ایسا نہیں کیا ہے۔

کچھ قانونی ماہرین ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور اس ضمن میں وہ محکمۂ انصاف کی طرف سے دی گئی اس رائے کو بنیاد بناتے ہیں جو امریکہ کے سابق صدر رچرڈ نکسن کے استعفیٰ دینے سے پہلے دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو معاف نہیں کر سکتے۔

یہ رائے قانون کے اس بنیادی اصول پر دی گئی تھی کہ کوئی بھی شخص اپنے ہی مقدمہ کا جج نہیں ہو سکتا۔ تاہم کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئین اپنی ذات کو معافی دینے کے امکان کو رد نہیں کرتا۔

ٹرمپ

Reuters

مواخذے کی کارروائی

الزامات کو کانگریس میں پیش کیے جانے کا مطلب ہے مواخذہ جس کی بنیاد پر سینیٹ میں سماعت کی جاتی ہے۔ ایوان نمائندگان میں یہ ساری کارروائی سیاسی ہوتی ہے نہ کہ فوجداری۔

امریکہ کا آئین کہتا ہے کہ صدر کو اس کے عہدے سے علیحدہ کر دیا جائے گا، اس کے مواخذے اور جرائم ثابت ہونے پر جن میں بغاوت، رشوت ستانی، دوسرے بڑے جرائم یا غیر اخلاقی حرکات آتی ہیں۔

ایوان نمائندگان میں بدھ کے روز رائے شماری کی گئی۔ ٹرمپ کی رپبلکن جماعت کے دس ارکان نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ووٹ دیا اور مواخذے کے حق میں 232 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں 197 ووٹ آئے۔

ٹرمپ

Getty Images

اس سے قبل بھی صدر کا یوکرین کی مدد سے اپنے انتخاب کو یقینی بنانے کے الزام میں مواخذہ کیا گیا تھا۔ سینیٹ نے صدر کو اس الزام سے بری کر دیا تھا۔

اب امریکہ کی تاریخ میں وہ پہلے صدر بن گئے ہیں جن کا دو مرتبہ مواخذہ ہونے کے بعد ان پر لگائے گئے الزامات پر سینیٹ میں سماعت ہو گی۔

اب اس کے بعد کیا ہو گا؟

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان سینیٹ میں مطلوبہ تعداد حاصل کر پائیں گے جہاں ایوان کی کل نشستوں میں سے ان کے پاس صرف نصف ہیں۔

اگر ٹرمپ کو سینیٹ میں مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے تو قانون سازوں کو ایک اور قرار داد پر ووٹ دینا ہوں گے اور وہ صدر ٹرمپ کو تاحیات سیاست میں نااہل قرار دینے کے متعلق ہو گی۔

صدر ٹرمپ جو کہ سنہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا عندیہ دے چکے ہیں اس قرار داد کے منظور ہونے کے بعد اپنی پوری زندگی کسی عوامی عہدے کے لیے اہل نہیں رہیں گے اور کسی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ صدر ٹرمپ کے لیے یہ مواخذے کا سب سے سنگین نتیجہ ثابت ہو گا۔

صدر کو سینیٹ نے اگر مجرم ٹھہرا دیا تو پھر ان کو ‘امریکہ میں کسی بھی ‘اعلیٰ، امانتدارانہ اور منفعت بخش عہدے’ کے لیے نااہل قرار دینے کی قرار داد صرف سادہ اکثریت سے منظور ہو جائے گی۔

امریکہ

Getty Images
صدر 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے

رپبلکن جماعت میں جو لوگ چار سال بعد صدارتی انتخاب کے امیدوار بننے کے خواہش مند ہیں اور جو لوگ صدر ٹرمپ کو پارٹی میں دیکھنا نہیں چاہتے ان کے لیے اپنے راستے کے ایک پتھر کو راہ سے ہٹانے کے لیے یہ ایک اچھا موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن ایسا کچھ بھی ٹرمپ کے صدر کے عہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے ممکن نہیں ہے۔

سینیٹ میں رپبلکن پارٹی کے رہنما میچ میکونیل کہہ چکے ہیں کہ نو منتخب صدر جو بائیڈن کے حلف اٹھانے سے پہلے ٹرمپ کے خلاف منصفانہ اور غیر جانبدارنہ سماعت کے مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اس لیے ضروری ہے کہ تمام تر توجہ پرامن انتقال اقتدار پر دی جائے۔

اس امکان پر بھی بحث ہو رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کو انھیں ان تمام مراعات سے بھی محروم کر دیا جائے جو 1958 کے سابق صدور کے قانون کے تحت کسی بھی سابق صدر کو دی جاتی ہیں جن میں پینشن، صحت کی انشورنس اور ٹیکس دھندگان کے پیسوں سے تاحیات ذاتی سیکیورٹی۔

اگر صدر ٹرمپ کو ان کے صدر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد مجرم قرار دیا جاتا ہے تو ان کو یہ تمام مراعات حاصل کرنے کا استحقاق ہو گا۔

نو منتخب صدر جو بائیڈن

Getty Images

ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک سینیئر رکن کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کی جماعت مواخذے میں لگائے گئے الزامات سینیٹ میں سماعت کے لیے اس وقت تک نہ بھیجیں جب تک جو بائیڈن کے صدر بننے کے سو دن مکمل نہیں ہو جاتے۔

اس صورت میں صدر بائیڈن کو اپنی کابینہ کے ارکان کی سینیٹ سے توثیق اور کورونا وائرس جیسے اہم مسائل پر اپنی پالیسی واضح کرنے اور اس پر عملدرآمد شروع کرنے کا موقع مل جائے گا۔ دوسری صورت میں سینیٹ کو تمام اہم امور چھوڑ کر مواخذے کی سماعت کرنا ہو گی۔

صدر کا دوسری مرتبہ مواخذہ ہونے کے بعد اب تمام نظریں سینیٹ پر لگی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سینیٹ کی دو تہائی اکثریت اس بات پر تیار ہو گی کہ صدر کو ہٹایا جائے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ 17 رپبلکن ارکان صدر ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق کم از کم 20 رپبلکن ارکان نے صدر کو مجرم ٹھہرانے کے حق میں ووٹ دینے کا عندیہ دیا ہے لیکن سینیٹ میں یہ کارروائی کب ہو گی اس بارے میں ابھی یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18486 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp