کے ٹو: نیپالی کوہ پیماؤں کی ٹیم نے دنیا کی دوسری سب سے بڑی چوٹی سردیوں میں پہلی بارسر کر لی

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الپائن کلب آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ 10 نیپالی کوہ پیماؤں نے سردیوں کے موسم میں دنیا کی دوسری بڑی بلند ترین چوٹی کے ٹو کو فتح کر لیا ہے۔

الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری قرار حیدری کا کہنا ہے کہ کے ٹو کو سردیوں میں فتح کرنے کی مہم جس کا آغاز دسمبر کے وسط میں ہوا تھا اپنے کامیاب اختتام کو پہنچ چکی ہے۔

مزید پڑھیے

کے ٹو سر کرنے کی کوشش میں پولش کوہ پیما زخمی

پہلی بار ایک امریکی خاتون کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنے میں کامیاب

وہ خاتون جو سردیوں میں بغیر آکسیجن ’کے ٹو‘ سر کرنا چاہتی ہیں

کوہ پیما کی تنہا کے ٹو سر کرنے کی ’خودکش‘ مہم ختم

کرار حیدری کے مطابق 16 جنوری کو تقریباً تین بجے کے قریب عالمی شہرت یافتہ نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا اپنے دیگر تین ساتھیوں کے ہمراہ کے ٹو کی چوٹی سے تقریباً 70 میٹر دور اپنے دیگر سات ساتھیوں کا انتطار کرہے تھے جو ان سے چند میٹر کی دوری پر تھے۔

یہ سب دس کے دس نیپالی کوہ پیما ایک ساتھ کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنا چاہتے تھے۔

کرار حیدری کے مطابق اس موقع پر نرمل پرجا نے کہا کہ ہم نے یہ اعزاز اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی قوم اور دنیا بھر کے کوہ پیماوں کے لیے حاصل کریں گے۔

کرار حیدری کا کہنا تھا کہ اس موقع پرنرمل پرجا بہت جذباتی ہورہے تھے۔

کرار حیدری نے بی بی سی کو نرمل پرجا کے بیان سے آگاہ کیا جو کہتے ہیں ’میں نے ہمیشہ یہ خواب دیکھا ہے کہ میں اپنے دیگر نیپالی ساتھیوں کے ہمراہ سردیوں میں کے ٹو کو سر کررہا ہوں۔ یہ خواب حقیقت میں بدلنے کی کتنی خوشی ہوگئی اس کا کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا ہے۔‘

ایک اور نیپالی کوہ پیما منگما گالجے نے سردیوں میں کے ٹو کی فتح کا رسمی اعلان ہونے سے قبل فیس بک پوسٹ میں کہا کہ ہم لوگ صرف دو سو میٹر کی دوری پر ہیں۔ ہم یہ اعزاز نیپال اور مہم جوؤں کے لیے حاصل کریں گے۔

کے ٹو پر پہچنے والے منگما گالجے نے سردیوں میں سات ہزار میٹر کی بلندی کا ریکارڈ توڑنے پر اپنے فیس بیک پیغام میں کہا کہ ہم اپنی قوم کو قابل فخر بنائیں گے۔ ’ہم کے ٹو کو پہلی مرتبہ سردیوں میں فتح کریں گے اور یہ ہماری قوم کے لیے ہوگا۔‘

کے ٹو کی چوٹی 8611 میٹر کی بلندی کے ساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جس کو سیویج ماؤنٹین کے نام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ اس چوٹی کو پہلی مرتبہ اطالوی کوہ پیما اچیل کمپگنونی نے 1954 میں فتح کیا تھا۔

اس چوٹی کو فتح کرنے کی کوشش میں مجموعی طور پر 86 کوہ پیما اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ آج سے قبل صرف 450 مہم جو ہی اس کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ان میں سے کوئی بھی کوہ پیما سردیوں کے موسم میں یہ پہاڑ سر نہیں کر سکا تھا۔

سردیوں میں اس کو فتح کرنے کی پہلی کوشش 1986 میں کئی گئی تھی۔ جس کے بعد تقریباً ہر سال ہی یہ کوشش ہوتی رہی جس میں مہم جو اپنی زندگی کی بازی بھی ہارتے رہے تھے۔

اس پہاڑ پر درجہ حرارت منفی 50 سے بھی زائد ہو جاتا ہے۔ انتہائی تیز سمندری ہوائیں دو سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں۔

سردیوں میں کی جانے والی کوششوں میں کوئی بھی مہم جو سات ہزار میٹر کی بلندی کو پار نہیں کرسکا تھا۔

خطرناک مہم کے دوران پیش آنے والے واقعات

اس ساری مہم کی عملاً نیپالی کوہ پیماؤں نے قیادت کی تھی۔ مگر یہ مہم کبھی بھی آسان نہیں تھی۔

جنوری کے پہلے ہفتے میں کئی بار موسم خراب ہونے کی بنا پر ان کوہ پیماؤں کو اپنا سفر شروع کرنے میں بھی مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سفر شرو ع کرنے کے بعد بھی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔ کوہ پیماؤں کا کیمپ نمبر دو اس وقت تباہ ہوگیا جب برفانی تودا اور تیز برفانی ہوائیں ٹکرائیں تھیں۔ مگر بہادروں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنا سفر جاری رکھا تھا۔

اس جان جوکھوں کے سفر میں 14 اور 15 جنوری کو اس وقت ایک بڑی امید کی کرن پیدا ہوئی جب نیپالی کوہ پیماؤں کی ٹیم نے سردیوں میں 7000 میٹر سے زیادہ بلندی پر اپنا عارضی کیمپ قائم کیا۔

اس سے پہلے 7000 سے زیادہ میٹر کی بلندی پر پہچنے میں کوئی اور مہم جو کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

14 اور 15 جنوری کو جب نیپالی کوہ پیماؤں نے سات ہزار میٹر کا ہدف پار کرلیا تو اس وقت ہی سے ماہرین نے ان نیپالی کوہ پیماؤں کی کامیابی کی پیش گوئیاں کرنی شروع کردی تھیں۔

نرمل پرجا نے 14جنوری کو فیس بک پر لکھا کہ گذشتہ 48 گھنٹے انتہائی مشکل اور تکلیف دہ رہے تھے۔ ہمیں مزید پیش رفت اور آگے بڑھنے کے لیے ہر ایک کو کم ا زکم 35 کلو کا سامان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

’آج (14 جنوری کو) ہم اپنا کیمپ 7350 میٹر کی بلندی پر لگائیں گے۔ ہم 7600میٹر کی بلندی پر رسیاں لگانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ ‘

اس مہم کو سر کرنے کے لیے دنیا بھر سے تقریباً 58 کوہ پیماؤں نے گذشتہ سال کے دسمبر میں اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ ان کو چار مختلف ٹیموں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

جس میں ایک ٹیم کی قیادت نیپالی کوہ پیما منگما گالجے کررہے تھے۔ ٹیم میں شامل تینوں کو پیما نیپالی تھی۔ دوسری ٹیم کی قیادت بھی نیپالی نرمل پورجا کررہے تھے۔ جس میں آٹھ کوہ پیما شامل تھے۔

تیسری ٹیم کی قیادت اطالوی کوہ پیما جان سنوری اور پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ مشتترکہ طور پر کررہے ہیں۔ اس میں محمد علی سدپارہ کے بیٹے بھی شریک ہیں۔ اس میں تین اور کوہ پیما بھی شامل تھے۔

چوتھی ٹیم کو سیون سمٹ ٹریک کا نام دیا گیا تھا۔ اس میں 49 مہم جو شامل تھے۔ جس میں بیس مشہور زمانہ کوہ پیما بھی شامل ہیں۔

کرار حیدری کے مطابق اب یہ دس نیپالی کے ٹو پر رسیاں لگائیں گے اور ٹیم کے باقی تمام کے تمام ممبران جن کی تعداد 60 بنتی ہے کے ٹو کو سردیوں میں فتح کرنے کے لیے مدد فراہم کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17958 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp