دیپ جلتے رہے۔ قسط۔ 30

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الہام نے اپنی خالہ کے گھرمیں داخل ہوتے ہی اعلان کیا کہ ہم لوگ واپس کراچی جا رہے ہیں۔ وہ سب پیاری بیٹیاں اداس ہو گئیں۔ ان ذہین بچیوں کی موجودگی نے ہمیں بھی بڑا سیراب کیا تھا۔ ہم جو ایک عرصے سے کھنکتی چوڑیوں اور کھلکھلاتی ہنسی کی آواز سے دور تھے۔ اس گھر میں زندگی کے تمام لوازمات موجودتھے۔ میرے بہنوئی کی عادت تھی کہ سود ا سلف لانا ہو یا کسی کام سے باہر نکلنا ہو اعلان کردیتے۔ ہاں بھئی کون چلے گا میرے ساتھ۔ بیٹیوں کا باریاں لگی ہونے کے باوجود آپس میں جھگڑا شروع ہوجا تا ہر بیٹی ان کے ساتھ جا نا چاہتی تھی۔ مجھے یہ منظر بہت پیارا لگتا تھا۔

عید قریب تھی، بہن نے اصرار کیا کہ جانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو عید کے بعد جانا۔ ہم نے ایک شرط پر حامی بھر لی کہ بچیوں کی عید کی شاپنگ ہماری طرف سے ہوگی۔

جس گھر میں بیٹیاں نہیں ہوتیں وہاں عید بقرعید، شادی بیاہ، دن رات سب ایک سے ہوتے ہیں۔ کچھ فطرت اور کچھ حالات کے باعث ہم بھی آرائش و سنگار کے لوازمات سے دور ہو چکے تھے۔ لیکن نسوانیت کا فطری اظہار کرنے والی خواتین ہمارے لیے ہمیشہ سے باعث رشک رہی ہیں۔ بیٹیوں کی رونق نے بہن کے گھر کو طلسماتی حسن سے آراستہ کیا ہوا تھا۔ سب سے چھوٹی بیٹی خوشی خوشی میرے قریب آ گئی۔ خالہ امی میں بٹوا اور چشمہ بھی لوں گی۔ ماما مجھے نہیں دلاتیں۔

راجہ بازار اور موتی بازار کی پتلی پتلی گلیوں میں پھنسی پھنسی دکانوں اورخریداروں کے اژدھام میں دم گھٹ رہا تھا۔ لیکن بچیاں کبھی کسی دکان پر ٹھہرا دیتیں تو کبھی کسی ٹھیلے پر کھڑی ہو جا تیں۔ بالوں کے لیے خوب صورت بال پنیں، ہئیر کیچر اور کلپ۔ ہاتھوں کے لیے چوڑیاں، کڑے، بریس لیٹ، گھڑی اور کون مہندی۔ کانوں کے لیے ٹاپس، بالیاں اور بندے۔ ماتھے کے لیے جھومر، بندیا۔ گلے کے لیے ہار نیکلس، مالائیں۔ پاؤں کے لیے پازیب، سینڈلز۔ آنکھوں اور چہرے کے سینگار کے لیے کاجل، آئی لائنر، مسکارا، سرخی، لالی، غازہ۔ لباس کے لیے کسی نے ہلکے رنگ کا انتخاب کیا تو کسی نے شوخ رنگ کا کسی کا سادہ جوڑا توکسی کا کام والا۔

صبح بچیوں کی شاپنگ ہوتی۔ دوپہر کو ہم احمد اور بیٹوں کے ساتھ ٹیکسی پکڑ کر اسلام آباد اور گرد و نواح کے خوب صورت مقامات کی سیر کو نکل جاتے۔ اس دوران واپسی کے ٹکٹس بھی کرالیے گئے۔

اس عید نے بچپن کی بلر ہوتی عید کو آج تک ہمارے دل و دماغ میں روشن کر رکھا ہے۔ بچیوں کی ساری ضروری اور غیر ضروری شاپنگ ہو چکی تھی۔ انتیسویں روز ے کو رات نو بجے جب سب چاند کی رویت سے مایوس ہو چکے تھے، اچانک خبر آئی کہ کل عید ہے۔ عید کے روز پہننے والی چیزوں کا جائزہ لیا گیا تب ایک طوفان برپا ہو گیا۔ کسی کو دوپٹہ، میچ کرتا ہوا نہ لگا تو کسی کو چوڑیوں کے ساتھ کڑے ضروری محسوس ہوئے۔ کون مہندی بھی خراب نکلی۔

پرفیوم تو رہ ہی گیا تھا۔ بچیوں کو اپنی تیاری مکمل کرنے کے لیے تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ نہ کچھ یاد آجاتا۔ اور باپ فوراً شکایت کنندہ کو بائک پر بٹھا کر ہوا ہو جا تے۔ ایک قیامت تھی۔ لگتا تھا اگرعید کی تیاری میں ذرا بھی کمی رہ گئی تو صبح سورج طلوع ہونے سے نہ انکار کر دے۔ چاند، سورج، ستارے، کہکشائیں سب مل کر بھی آسمان پر وہ رونقیں نہیں بکھیر سکتے جو ریشم، ایمن، ارفع اور عائشہ نے اس چھوٹے سے گھر میں بکھیر رکھی تھیں۔

کراچی آنے سے پہلے اپنی عزیز دوست پروین کو اپنی آمد کی اطلاع کر چکے تھے۔ رات کو اس کے گھر قیام کے بعد کرائے کا مکان تلاش کیا گیا۔ اور اگلے ہی روز وہاں شفٹ ہو گئے۔ دوتین روز بعد کنٹینر سے سامان بھی آپہنچا۔ اس کا تکلف بھی کتابوں کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

زندگی میں رسک لینے والوں کی کشتی کبھی ڈولتی اور کبھی کنارے آلگتی ہے۔ بحر کی موجوں میں اضطراب لانے کے لیے طوفان سے آشنائی شاعر کی اگر چہ بد دعا ہے۔ لیکن طوفان سے ہماری رسم و راہ پرانی ہے۔ شکر کرتے ہیں کہ ہماری زندگی، حالات اور ہمارا مکان ایک جگہ پر نہیں رہتا۔ لیکن محبت، رشتے، حواس، حوصلے، امیدیں، امنگیں سب ٹھکانے سے ہیں۔

جو چاہیے ہے ہمیں وہ ہمیں میسر ہے
قدم اٹھے ہوئے ہیں راستابنا ہوا ہے

کراچی آ کر دوبارہ تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئے۔ بچوں کو بھی ان کے اپنے اسکول میں داخل کر دیا گیا۔ کچھ منظر بدلا، کیلنڈر سے چند مہینے حذف ہوئے، لیکن بچوں کو اپنے دوست اور وہی مانوس ماحول ملا، تو معمولی سی تبدیلیوں کے بعد سب کچھ پہلے جیسا ہو گیا۔

حسنین بھائی ہمارے محلے میں کہیں ٹیوشن پڑھانے آیا کرتے تھے۔ کبھی کبھار وہ ملنے آجایا کرتے۔ بیمار رہنے لگے تھے۔ شوگر بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ ایک روز ہم اسکول میں تھے تب احمد کا فون آیا۔ روتے ہوئے بس اتنا کہا۔ عفت میرا بھائی چلا گیا۔

احساس، درد، رنج، مروت، ملال، دکھ
سب لٹ چکا خدا کی قسم، کچھ نہیں بچا

جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •