انسٹاگرام والے جنھوں نے ایران کو پریشان کر رکھا ہے

جوشوا نیویٹ - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایران میں زندگی بسر کرتے ہوئے فاطمہ خویشوند نے مشہور ہونے کا خواب دیکھا اور شہرت پانے کے لیے انسٹاگرام پر اپنی سیلفیاں پوسٹ کرنا شروع کر دیں۔

اور ان کی سیلفیوں سے کچھ ایسا ہی ہوا۔۔۔

ان تصاویر میں انھوں نے میک اپ کے ذریعے اپنی شکل کو تبدیل کر لیا تھا۔ ان کا یہ اکاؤنٹ ایک دوسرے نام ’سحر تبار‘ سے چلتا تھا جسے 2017 میں بین الاقوامی توجہ حاصل ہوئی تھی۔

لوگوں کا ردعمل تھا کہ ان کی شکل امریکی اداکارہ انجلینا جولی سے ملتی ہے۔ اس طرح کچھ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ انھوں نے ہالی وڈ اداکارہ جیسا دکھنے کے لیے 50 کاسمیٹک سرجریاں کروائی ہیں۔ ان خبروں پر بعد میں انھوں نے وضاحت بھی جاری کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ دراصل کارپس برائڈ نامی فلم کے ایک کردار نے انھیں متاثر کیا تھا اور وہ اس کے جیسا دکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

اسی دوران انسٹاگرام پر انھیں پانچ لاکھ لوگ فالو کرنے لگے تھے اور اس طرح ان کا مشہور ہونے کا خواب پورا ہو گیا تھا۔

لیکن اس کے لیے انھیں بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔

یہ بھی پڑھیے

’ایران میں رقص کے لیے سب کچھ داؤ پر لگایا‘

ایرانی انسٹاگرام سٹار: میں ’مردہ دلہن‘ بننا چاہتی تھی

انڈیا میں ٹک ٹاک پر پابندی: کشمیری ٹِک ٹاک ستاروں کی زندگی پر کیا اثر ہوا؟

ایران میں سوشل میڈیا پر کوئی پیغام یا تصویر جاری کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، حکام سخت قوانین کے نفاذ کے ساتھ نظر رکھتے ہیں کہ آپ انٹرنیٹ پر کیا پوسٹ کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔

فاطمہ کی ان تصاویر کو ایک جرم کے طور پر دیکھا گیا۔

اکتوبر 2019 میں فاطمہ کو توہینِ مذہب، تشدد پر اُکسانے، لباس کے اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے اور نوجوانوں میں بدعنوانی کو ابھارنے جیسے الزامات پر گرفتار کیا۔

ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کر دیا گیا اور ایک سال سے زیادہ عرصے کے لیے وہ قید میں رہیں۔ ایران کی عدالت دادگاه انقلاب اسلامی نے، جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ ریاست سے اختلاف رکھنے والوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر فیصلے دیتی ہے، انھیں گذشتہ برس 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

اس سخت سزا پر لوگوں کی جانب سے حیرت کے اظہار اور مذمت کے پیغامات سامنے آئے تھے۔

ٹوئٹر پر ایک ویڈیو میں ایران سے تعلق رکھنے والی صحافی اور انسانی حقوق کی کارکن مسیح علی‌ نژاد نے کہا کہ ’ایران میں ڈانس کرنے، گانا گانے، نقاب اُتار کر سٹیڈیم میں داخل ہونے، ماڈلنگ کرنے یا محض فوٹوشاپ استعمال کرنے والی خواتین کو گرفتار کرنے کی ایک تاریخ موجود ہے۔‘

ان کے ردعمل سے لگتا ہے کہ فاطمہ کا کیس ایران میں سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھنے والے سخت قوانین کی ایک مثال ہے۔

ملک میں انٹرنیٹ کے ذریعے کیے جانے والے ’جرائم‘ سے متعلق معلومات یا ڈیٹا نکالنا مشکل ہے۔ لیکن امریکہ میں قائم ایک تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ جو ایران پر نظر رکھتا ہے، کے مطابق 20 دسمبر 2016 سے اب تک انٹرنیٹ پر اپنی سرگرمیوں کی بنا پر کم از کم 332 افراد گرفتار ہوئے ہیں۔ اس گروہ کے مطابق ان میں سے 109 افراد کو انسٹاگرام پر اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔

ایران میں انسٹاگرام وہ واحد بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹ ہے جسے تاحال حکومت نے بند نہیں کیا۔ نوجوان ایرانیوں میں یہ اپنے اظہار کے لیے مقبول ہے۔

اس سے حکومت ایک مشکل کا شکار ہوگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کو بدامنی پر اُکسائے جانے کے ڈر سے اس پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو اس سے شہریوں کے کاروبار، ان کے رابطوں اور اشتہارات جیسے فوائد پر بھی اثر پڑے گا۔ اسی لیے ایرانی حکومت اب شہریوں کے انسٹاگرام پر نظر رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ میں ایران پر تحقیق کرنے والی تارہ سپھریفر کا کہنا ہے کہ ’کئی عرصے تک ایران نے ناکامی کے ساتھ اپنے کلچر کی نگرانی کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

’اسنٹاگرام کے کئی انفلوئینسرز کو بلایا جاتا ہے اور ان سے تفتیش کی جاتی ہے۔‘

سنہ 2014 میں چھ ایرانی شہریوں کو امریکی گلوکار فیرل ویلیمز کے گانے ’ہیپی‘ پر ڈانس کرنے کی ویڈیو جاری کرنے پر قید اور کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی تھی۔ سنہ 2018 میں پاپ موسیقی پر ڈانس کرنے کی ویڈیو پر ایک نوجوان جمناسٹ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار ان لوگوں کو سرکاری ٹی وی پر زبردستی بلا کر ان سے ’اعترافِ جرم‘ کروایا جاتا ہے۔

فاطمہ کے کیس میں بھی ایسا ہی ہوا جس میں جنھیں گرفتاری کے چند ہفتوں بعد ایرانی چینل آئی آر ٹی وی ٹو پر ’زومبی انجلینا جولی‘ کہہ کر مدعو کیا گیا۔

42 سالہ سید احمد معین شیرازی کا کہنا ہے کہ انھیں اور ان کی 38 سالہ بیوی شبنم شاہ روخی کو بھی ایرانی حکام کی جانب سے ظالمانہ کارروائیوں کا سامنا تھا۔ انھیں بھی انسٹاگرام پر شہرت حاصل تھی لیکن ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ 2018 میں انھیں ایران کی سائبر پولیس نے دھمکی آمیز مہم کا نشانہ بنانا شروع کیا جس میں انھیں تفتیش کے لیے بلایا جاتا تھا اور ان سے تعاون کے لیے ایک عہد پر دستخط کروانے کی بھی کوشش کی گئی۔

ایک بار ایک گھنٹے تک کی تفتیش کے دوران ان پر جاسوسی کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور کہا گیا کہ ان کا اکاؤنٹ کسی پوسٹ کی وجہ سے ضبط کر لیا جائے گا۔ اس میں سے ایک پوسٹ میں انھوں نے ایک تصویر لگائی ہوئی تھی جس میں ان کی بیوی نے سر پر نقاب نہیں اوڑھا ہوا تھا۔

درخواست پر ان پوسٹوں کو ہٹا دیا گیا تھا لیکن ہراسانی کے واقعات جاری رہے۔ اس جوڑے کو 2019 میں گرفتار کیا گیا ہے دو لاکھ ڈالر کے عوض ضمانت پر رہا کیا گیا۔

معین شیرازی جن کے دو بچے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے وکیل نے بتایا کہ وہ واقعی خون نکلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

یہ ظاہر تھا کہ انھیں لمبی قید کا سامنا ہوگا۔ ستمبر 2019 میں اپنی جان بچانے کے لیے وہ اپنے خاندان کے ساتھ ترکی منتقل ہوگئے تھے۔

معین کہتے ہیں کہ اس پر استغاثہ کو بہت غصہ آیا ہوگا۔ غیر حاضری میں اس جوڑے کو 16 سال قید، 74 کوڑے مارنے اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ایرانی حکومت انھیں ایک مثال بنانا چاہتی تھی، جیسے فاطمہ کے کیس میں ہوا۔

’ایران ایسے ہی چلتا ہے۔ ملک میں ہونے والی چیزوں پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ ایسے کیس ڈھونڈتے ہیں تاکہ اپنے ایجنڈے کی تشہیر کر سکیں۔ سحر تبار ان میں سے ایک مثال ہے۔‘

فاطمہ نے نجی خبر رساں ادارے روکنا کو، جس کے بارے میں ایرانی حکومت سے قریبی تعلق ہونے کا خیال ہے، ایک انٹرویو میں اپنی سزا کے بارے میں بتایا۔ انھوں نے کہا ہے کہ انھیں اپنے خلاف چار میں سے دو الزامات پر سزا ہوئی لیکن انھیں امید ہے کہ انھیں معاف کر دیا جائے گا۔

دریں اثنا ان کے خلاف روکنا پر مزید تحاریر شائع ہوئیں۔ ان میں بتایا گیا کہ فاطمہ ایک طلاق یافتہ جوڑے کی اولاد ہیں جنھیں بہت مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کہا گیا کہ ان کی تعلیم و تربیت بہت بری ہوئی، وہ بداخلاق ہونے کے علاوہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے انھوں نے انسٹاگرام پر مشہور ہونے کی کوشش کی۔

روکنا کی کوریج فاطمہ کی ذہنی صحت پر مرکوز کی گئی۔ تارہ سپھریفر کے مطابق استغاثہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے کہانی کا وہ رُخ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کا اپنا ہو، یعنی یہ پروپیگنڈا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’سحر کے کیس میں انھوں نے انھیں کیمرے کے سامنے بٹھایا اور ان کی ذہنی صحت اور ان کے خاندانی مسائل پر بات کی۔

’وہ اس خیال کو فروغ دے رہے ہیں کہ اگر آپ اس حد پر جارہے ہیں تو ضرور آپ کے خاندانی مسائل چل رہے ہوں گے۔‘

فاطمہ پر اب کچھ رحم کیا گیا ہے۔ دسمبر 2020 کے اواخر میں ان کی ضمانت منظور ہوئی اور انھوں نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

ان کے سابقہ وکیل سید دھقان نے کہا ہے کہ ’ٹی وی پر زبردستی اعتراف جُرم کرنے اور ان کی بات ماننے پر انھیں یہ چھوٹا سا انعام ملا ہے۔‘

جہاں تک بات ان کی اپیل کی ہے تو وہ اب بھی استغاثہ کے رحم و کرم پر ہیں۔ وہ فاطمہ اور ان کے بنائے ہوئے خیالی کردار میں فرق نہیں کرتے۔

ایران میں سینٹر فار ہیومن رائٹس سے تعلق رکھنے والی جیسمین رامزے کا کہنا ہے کہ ’وہ ایک سادہ سی نوجوان خاتون ہیں جنھیں ظالمانہ انداز میں سب سے سامنے سزا دی گئی ہے۔ اپنے خیالات کے اظہار پر انھیں ذلت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ ایران میں سوشل میڈیا کے اصولوں کے خلاف تھا۔‘

اس تحریر میں اضافی رپورٹنگ بی بی سی فارسی کے صحافی سروش پاکزاد نے کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17829 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp