( دیپ جلتے رہے ( قسط 31

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اسی وقت چھٹی لے کر گھر گئے۔ بچوں اور احمد کے ساتھ امام بارگاہ خیر العمل پہنچے۔ تمام رشتے دار پہنچ چکے تھے۔ بھابی اپنے بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔ انہیں دیکھ کر بے طرح رونا آیا۔ جس صبر، حوصلے اور ہمت سے انہوں نے مصائب کا مقابلہ کیا، چٹان کی مانند انسانی اقدار اور بچوں کے ساتھ کھڑی رہیں۔ کبھی اپنی صفائی پیش کی نہ مظلومیت کی داستان کسی کو سنائی۔ اس روز بھی انہیں اپنے بچوں کی یتیمی، حسنین بھائی کی دوسری بیوی کی کی تنہائی اور بیوگی کا دکھ تھا۔

مرہم نہیں ہے کوئی بھی اس کا سوائے درد
جو زخم دل میں ہے وہ مسیحا کا زخم ہے

احمد کو بڑے بھائی کے گزرنے کا بہت ملال تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی کتاب چھپ جائے۔ انہوں نے ان کے بیٹے کے ساتھ مل کر ان کے مسودے پر کام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن حسنین بھائی کچھ ایسی عجلت میں لکھتے تھے کہ لکھے موسیٰ، پڑھے خود آ کے مصداق کسی کو ان کے الفاظ سمجھ نہ آ سکے ، یوں کتاب لانے کی خواہش ہنوز دل میں دبی ہے۔

کرائے کے جس مکان میں ہمارا قیام تھا۔ وہ گراؤنڈ فلور پر تھا۔ چوہوں کی بہتات تھی۔ شروع شروع میں تو انہوں نے ہمیں مکان سے بے دخل کرنے کے لیے تنگ کیا لیکن پھر ہمیں بے ضرر جان کر مکان میں رہنے دیا۔ اپارٹمنٹ کے کونے والے فلیٹ کا رقبہ بڑھا کر امام بارگاہ بنا دی گئی تھی۔ جہاں سال کے بارہ مہینے مجالس و محافل منعقد کی جاتیں اور لاؤڈ اسپیکر کے فل والیوم میں ہماری، گھر بیٹھے مجلس ہو جایا کرتی تھی۔ اکثر یوں بھی ہوتا کہ دوست احباب، عزیز رشتے دار میں سے کوئی ہمارے گھر آ جاتے اور وہیں بیٹھ کر مجلس سنتے اور ہمارے بچے سے ہی تبرک منگوا لیا کرتے تھے۔

کچھ خواتین گھوم کر امام بارگاہ جانے کے بجائے ہمارے گھر کا پچھلا دروازہ بجا کر درخواست کرتیں کہ انہیں گزرنے کا موقع دیا جائے۔ تین چار بار تو مروت کی مگر پھر گھر کو رہ گزر بننے کے خیال سے پچھلا دروازہ نہ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن خواتین امید کا دامن ہاتھ سے پکڑے دروازہ ضرور بجاتیں۔ ان حالات میں ہمیں چوہے اشرف المخلوقات محسوس ہوتے۔ ایک قوم ایسی بھی ہے جو انہیں بھگوان مانتی ہے۔ ایک طرف تو ذہانت اور حساسیت نے جانور کو بھگوان بنایا، دوسری طرف حماقت اور بے حسی نے انسان کو انسان سے دور کیا۔

اسی اپارٹمنٹ کے سامنے ایک فلیٹ کرائے پر لیا۔ چار کمروں کا ایک مناسب سا فلیٹ تھا۔ کچھ سکون میسر آیا۔

اگرچہ ہے دل آوارہ کو طلب گھر کی
مگر وہ گھر کہ جو بے گھری میں رکھا ہے

ہم شہر کے سب سے بڑے نجی تعلیمی ادارے میں پڑھا رہے تھے۔ احمد روزانہ شام کو عباس ٹاؤن کے نکڑ والے ڈھابے پر بیٹھا کرتے۔ ایک روز شام کے وقت انہوں نے وہیں سے فون کیا کہ ہم کچھ اہتمام کر لیں، عمار اقبال اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہمارے گھر پہنچنے والے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد احمد بھی کچھ لوازمات لیے گھر آ گئے۔ ان کے ہاتھ سے ہم چیزیں سنبھال ہی رہے تھے کہ ایک زور دار دھماکے سے گھر لرز اٹھا۔ گھر کی ساری کھڑکیوں کی شیشے ٹوٹ کر بکھر گئے۔

ایسی خوفناک آواز تھی۔ چند لمحوں بعد ایک اور دھماکہ ہوا، جس کے ساتھ ہی بجلی چلی گئی۔ مغرب کا وقت تھا اندھیرا پھیل رہا تھا۔ ہم نے اپنی گیلری سے دیکھا سامنے والے فلیٹوں میں آگ کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے۔ لوگ سراسیمہ بھاگ رہے تھے۔ معلوم ہوا ہمارے اور سامنے والے اپارٹمنٹ کی گلی میں بم بلاسٹ ہوا ہے۔ بم کا نام سنتے ہی ہمیں رشی کی فکر ہوئی اور ساتھ عمار اقبال کا خیال آیا، جو اپنی بیوی کے ساتھ پہنچنے والا تھا۔ ہم نے فون ملایا تو سگنل غائب۔ باہر جا کر حالات معلوم کرنے کے لیے رامش اور احمد نے گھر سے نکلنا چاہا تو ہم نے انہیں سختی سے منع کر دیا۔ نیچے کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ چکے تھے۔ سامنے فلیٹوں میں آگ لگی ہوئی تھی۔ بڑا ہولناک منظر تھا۔ آدھے گھنٹے بعد رشی بھی آیا تو اسے دیکھ کر جان میں جان آئی۔

آتے ہی اس نے رامش سے کہا۔ بہت تباہی ہوئی ہے۔ میں تو امی کو شکل دکھانے آ گیا۔ چلو ریسکیو کرنے چلتے ہیں۔ لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

نہیں! بہت خطرہ ہے۔ میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔

امی! ہم بھی ملبے میں ہو سکتے تھے۔ بیٹے  نے کچھ اس انداز سے کہا، میں کچھ نہ بولی۔ احمد بھی بچوں کے ساتھ نیچے اتر گئے۔ مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔ میں بھی الہام کے ساتھ موبائل فون کی ٹارچ آن کر کے تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے احمد کے قریب پہنچ گئی۔

ہمارے اپارٹمنٹ کا پچھلا گیٹ (جو عباس ٹاؤن میں کھلتا ہے ) کھول دیا گیا تھا۔ ایمبولینسز اور میڈیا کی گاڑیاں ہمارے اپارٹمنٹ کے پارکنگ ایریا میں کھڑی تھیں۔ یہ کمرشل علاقہ ہے۔ دونوں اپارٹمنٹ کے گراؤنڈ فلور پر مختلف ساز و سامان کی دکانیں بھی ہیں۔ ہماری ہر قسم کی خریداری وہیں سے ہوتی تھی۔ آمنے سامنے دو بلاکس تباہ ہو گئے تھے۔ پچھلے حصوں کے فلیٹ محفوظ تھے۔ جن میں سے ایک میں ہمارا قیام تھا۔

ہم لوگ گلی میں پہنچے، جگہ جگہ ملبے کے ڈھیر تھے ، دکانیں اور فلیٹ گزر گاہ میں تبدیل ہو چکے تھے۔ موبائل کی ٹارچ میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے تھے۔ وہ سارے مناظر جنہیں آنکھیں دیکھنے کی عادی تھیں۔ پل بھر میں تبدیل ہو چکے تھے۔ خریداروں، دکانداروں اور راہ گیروں سے بھرا یہ رہائشی اور کمرشل علاقہ اب زندہ، مردہ انسانوں کی چھوٹی، بڑی قبروں میں تبدیل ہو چکا تھا۔

جس کی نظر بھی احمد پر پڑتی۔ احمد سے لپٹ جاتا۔ شکر ہے مولا کا۔ ہم  نے تو سنا۔

کیوں کہ احمد بھی شام کے وقت نکڑ والے ہوٹل پر بیٹھا کرتے تھے۔ اور دھماکے سے چند لمحے قبل ہی گھر آئے تھے۔ اس لیے یہ خبر اڑ گئی تھی کہ احمد نوید بھی۔

فلیٹ کے کونے میں لگی پی ایم ٹی زمیں بوس تھی، اس میں سے ابھی تک دھواں نکل رہا تھا۔ پی ایم ٹی کے نیچے ہی ایک سبزی کا ٹھیلا ہوتا تھا۔ اس ٹھیلے پر دو بھائی مختلف اوقات میں بیٹھا کرتے تھے۔ ایک توتلا اور ایماندار تھا، دوسرا بھائی لالچی اور مہنگی سبزی بیچا کرتا تھا۔ جب پی ایم ٹی پھٹ کر ٹھیلے پر گری تو سبزیوں کے ساتھ توتلے بھائی کو بھی راکھ کر دیا۔

جاری ہے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •