باس اب اس رسٹ بینڈ سے آپ کی ذہنی صحت کے بارے میں جان سکیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی نظر میں تو کلائی پر پہننے والا یہ سلیکون کا بینڈ ورزش کے دوران دل کی دھڑکن کا حساب رکھنے والا ایک عام سا بینڈ معلوم ہوتا ہے۔ مگر ’موڈ بیم‘ کہلانے والی یہ ٹیکنالوجی آپ کی جسمانی صحت نھیں بلکہ آپ کے باس کے لیے بنائی گئی ہے تاکہ وہ آپ کے جذبات کو سمجھ سکیں۔

یہ بینڈ ایک موبائل فون ایپ اور ایک ویب انٹرفیس سے منسلک ہے اور اس میں پیلے اور نیلے رنگ کے دو بٹن موجود ہیں۔ خیال یہ ہے کہ اگر آپ اداس ہیں تو نیلا اور اگر خوش ہیں تو پیلا بٹن دبانا ہے۔

اسے وہ کمپنیاں استعمال کریں گی جو گھر سے کام کرنے والے افراد کی جذباتی کیفیت پر نظر رکھنا چاہتی ہیں۔ ملازمین کو یہ رِسٹ بینڈ پہننے کی ترغیب دی جائے گی (وہ نہ کہہ سکتے ہیں) اور وہ پورے ہفتے کے دوران جب بھی مناسب سمجھیں، تو متعلقہ بٹن دبا سکتے ہیں۔

اس کے بعد ٹیم کے مینیجرز ایک آن لائن ڈیش بورڈ کے ذریعے یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے ملازمین کیسا محسوس کر رہے ہیں اور حالات سے کیسے نمٹ رہے ہیں۔ چونکہ اب باسز اپنی ٹیم سے بالمشافہ ملاقات نہیں کر سکتے اس لیے موڈ بیم کے ذریعے یہ خلیج دور کرنے کی امید کی جا رہی ہے۔

موڈ بیم کی شریک بانی کرسٹینا کولمر میک ہیو کہتی ہیں: ‘کاروبار گھر سے کام کرنے والے اپنے سٹاف کے ساتھ منسلک رہنا چاہتے ہیں۔ یہاں پر یہ 500 لوگوں سے ایک ہی وقت میں فون اٹھائے بغیر پوچھ سکتے ہیں کہ ‘کیا آپ ٹھیک ہیں؟’

مزید پڑھیے:

مشکل وقت میں خوش رہنے کے چند کارگر نسخے

خوش رہنے کے پانچ طریقے

’طلاق یافتہ عورت خوش کیوں نہیں رہ سکتی‘

انھیں ابتدائی طور پر اس پراڈکٹ کا خیال اس وقت آیا تھا جب ان کی بیٹی سکول میں مشکلات کی شکار تھیں اور وہ چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی کے پاس یہ بتانے کا کوئی ذریعہ ہو کہ وہ کیسا محسوس کر رہی ہیں۔ یہ رسٹ بینڈ کمرشل طور پر سنہ 2016 میں لانچ کیا گیا تھا۔

کئی بچوں بالخصوص ٹین ایجر بٹن دبا کر اپنے والدین کو آگاہ کرنے کے خیال سے گھبرائیں گے، تو ایسی صورت میں ملازمین کا اپنے باس کے ساتھ ایسا کرنا کتنا ممکن ہے؟

کرسٹینا کی فرم انگلینڈ کے علاقے ہل میں واقع ہے اور وہ کہتی ہیں کہ کئی ملازمین درحقیقت خوشی خوشی ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق ٹرائل کے دوران انھوں نے ڈیٹا کو خفیہ رکھا تھا مگر بعد میں جب یہ پایا کہ لوگ شناخت کیا جانا چاہتے ہیں، تو انھوں نے شناخت ظاہر کردی تھی۔

موڈ بیم استعمال کرنے والی ایک تنظیم برطانوی فلاحی ادارہ بریو مائنڈ ہے۔

تنظیم کے ٹرسٹی پیڈی برٹ کہتے ہیں: ‘ٹیم کے رُکن پریشان تھے، ان پر کام کا بہت زیادہ دباؤ تھا اور وہ حالات سے مایوس نظر آ رہے تھے۔

‘یہ کوئی ایسی چیز نھیں ہے جس کی وہ خود نشاندہی کرتے اور ہمیں بھی اس کے بارے میں تب تک معلوم نھیں ہوتا جب تک ہم نے ڈیٹا نہ دیکھا ہوتا۔’

عالمی ادارہ صحت کے مطابق عالمی وبا سے قبل بھی اینگزائٹی اور ڈپریشن کے باعث پوری صلاحیت کے ساتھ کام نہ کر پانے کی وجہ سے عالمی معیشت کو سالانہ 10 کھرب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ اس لیے اب کام کی جگہوں پر ذہنی صحت کے مسائل پر خاص توجہ دی جاتی ہے تاہم کووڈ 19 کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن اور گھر سے کام نے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے۔

ذہنی صحت پر کام کرنے والی فلاحی تنظیم مائنڈ کے مطابق 60 فیصد بالغان کے مطابق پہلے لاک ڈاؤن کے دوران ان کی ذہنی صحت مزید خراب ہوئی۔ اور ہیومن ریسورس کے سافٹ ویئر بنانے والی فرم ایمپلائمنٹ ہیرو کے مطابق چھوٹے اور درمیانے حجم کی برطانوی کمپنیوں میں کام کرنے والے لوگوں کو عالمی وبا کے دوران ذہنی صحت کے حوالے سے مزید مدد کی ضرورت محسوس ہوئی۔

برطانیہ میں زیادہ تر لوگوں کا دفتر میں جلد واپس جانے کا کوئی امکان نھیں ہے، اس لیے ٹیکنالوجی کمپنیاں کوشش کر رہی ہیں تاکہ کمپنیوں کو اپنے ملازمین کی جذباتی کیفیت کی دیکھ بھال کرنے کے مزید راستے ملیں۔

سان فرانسسکو میں ذہنی صحت کی ایپ ماڈرن ہیلتھ کا مقصد ہے کہ کمپنیوں کو اپنے ملازمین سے ذہنی صحت کے متعدد وسائل مثلاً تھیراپسٹس کے ساتھ سیشنز کے ذریعے منسلک کر دیا جائے۔

اس کا آغاز اپنی ذہنی صحت کے بارے میں ایک چھوٹے آن لائن سروے کے ذریعے ہوتا ہے جس کے بعد ہر فرد کے لیے ایک مخصوص ذہنی صحت کا پلان ترتیب دیا جاتا ہے۔ اس میں اینگزائٹی سے نمٹنے کے کسی ماہر کے ساتھ کوئی ویڈیو کال سیشن بھی ہو سکتا ہے یا کسی مراقبے کے کسی ڈیجیٹل پلان کی ترغیب بھی دی جا سکتی ہے۔

دنیا کی 190 کمپنیاں ماڈرن ہیلتھ استعمال کر رہی ہیں۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو ایلیسن واٹسن کہتے ہیں کہ اس کا مقصد ملازمین کو ایسے وسائل فراہم کرنا ہے جس سے وہ خود کو مضبوط اور لچکدار بنا سکیں۔

‘لوگ گھروں سے کام کر رہے ہیں اور جدوجہد کر رہے ہیں۔ مینیجرز اور ٹیم لیڈرز اب یہ توقع نہیں کر سکتے کہ ملازمین اپنے کام اور اپنی ذاتی زندگی کو علیحدہ رکھ سکیں گے۔’

کام اور آرام کے درمیان مٹتی ہوئی اس سرحد کی ایک اہم وجہ گھر سے کام کرنا ہے جس سے ہم میں سے کئی لوگ گزر رہے ہیں۔ اس لیے ان دونوں میں فاصلہ پیدا کرنے کے لیے مائیکروسافٹ کا منصوبہ ہے کہ وہ اپنی فائل شیئرنگ اور ویڈیو کانفرنسنگ کی ایپلیکیشن ‘مائیکروسافٹ ٹیمز’ کے درمیان ایک ‘ورچوئل سفر’ متعارف کروائے گی۔

جب کبھی بھی کام کا دن ختم ہونے لگے گا تو صارفین کو ایک نوٹیفیکیشن موصول ہوگا جس کے ذریعے انھیں کچھ کام کروانے کی یاد دہانی کروائی جائے گی کہ وہ اگلے دن کے لیے اپنا شیڈول ترتیب دیں، آج کے دن کے بارے میں اپنے احساسات پر غور کریں، اور مراقبے اور نیند میں مدد دینے والی ایپلیکیشن ہیڈ سپیس کے ذریعے مراقبہ کریں۔

مائیکروسافٹ کے ورک پلیس انٹیلیجنس شعبے کے جنرل مینیجر کمل جنردھن کہتے ہیں: ‘کسی کو بھی گھر اور دفتر کے درمیان سفر پسند نہیں ہوتا تاہم ہم نے اپنی تحقیق میں پایا ہے کہ لوگوں کو کام اور زندگی کے درمیان ذہنی یکسوئی کے ساتھ منتقلی کے تصور کو پسند کیا ہے۔’

انھوں نےمزید کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو کام کے طویل دن کو ایک بہتر انداز میں ترتیب دینے کے لیے مدد دی جائے جس سے ان کی ذہنی صحت ٹھیک رہے۔’

ذہنی صحت کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیم مائنڈ کا کہنا ہے کہ جب تک لوگ گھروں سے کام کرتے رہیں گے تب تک ‘یہ بہت اہم ہے کہ (باسز) اپنے عملے کی ذہنی صحت کو ترجیح دینے کا عزم کریں۔’

مائنڈ کی ایما مامو کہتی ہیں کہ ‘جو باسز اپنے عملے کی ذہنی فلاح پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، ان کے سٹاف کا زیادہ بھرپور کارکردگی دکھانے کا امکان بڑھ جاتا ہے، ان میں مجموعی طور پر بیماری کی وجہ سے یا کوئی چھٹی لینے کا امکان کم ہوتا ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17697 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp