فخر ہے کہ میں نے کوئی نئی جنگ شروع نہیں کی، ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی پیغام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹرمپ
Reuters
فائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار چھوڑنے سے پہلے اپنے الوداعی خطاب میں کہا ہے کہ ’مجھے فخر ہے کہ میں کئی دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں کیں۔‘

یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ویڈیو پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے مشکل اور سب سے سخت ترین لڑائیوں کا انتخاب کیا کیونکہ آپ نے مجھے اسی لیے منتخب کیا تھا۔‘

اپنے الوداعی پیغام میں ٹرمپ نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک کو درپیش ’سب سے بڑا خطرہ‘ ہماری قومی عظمت سے اعتماد کا ضیاع‘ ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ابھی بھی نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتیجے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں جس میں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے جو بائیڈن سے ہار گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

چھ جنوری صدر ٹرمپ کی سیاسی میراث کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

وہ چیلنجز جو نئے امریکی صدر کو ایک طویل عرصے تک الجھائے رکھ سکتے ہیں

جب جو بائیڈن کی فتح شکست میں بدلنے کے لیے صدر ٹرمپ نے حکام کو ووٹ ’تلاش‘ کرنے کو کہا

چھ جنوری کو امریکی کانگریس کی جانب سے نومنتخب صدر جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں فتح کی باقاعدہ توثیق کے عمل کے دوران صدر ٹرمپ کے حامی تمام رکاوٹیں عبور کر کے امریکی ریاست کے سیاسی مرکز کیپیٹل ہل کے اندر داخل ہوئے۔ ہنگامہ آرائی اور پولیس سے جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک بھی ہوئے۔

اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’سیاسی تشدد ہر اس چیز پر حملہ ہے جس کو ہم بحیثیت امریکی سراہتے ہیں۔ اسے کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘

ٹرمپ

BBC

اپنے پیغام میں امریکی معیشت پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے ’دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی معیشت کو تعمیر کیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان کا ایجنڈا ریپبلکن یا ڈیموکریٹکس کے بارے میں نہیں بلکہ قوم کی بہتری کے لیے تھا۔

جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری

جو بائیڈن امریکہ کے 46ویں کی حیثیت سے بدھ کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ مقامی وقت کے مطابق تقریب کا آغاز صبح ساڑھے گیارہ بجے ہو گا اور حلف برادری دوپہر بارہ بجے ہو گی۔

حلف برداری کے بعد جو بائیڈن وائٹ ہاؤس منتقل ہو جائیں گے جو بطور صدر ان کا اگلے چار سال تک گھر رہے گا۔

جو بائیڈن کے حلف اٹھانے کے بعد کملا ہیرس نائب صدر بن جائیں گی لیکن وہ اپنا حلف جو بائیڈن سے پہلے لیں گی۔

جو بائیڈن

Getty Images

امریکہ میں یہ روایت ہے کہ جانے والا صدر نو منتخب صدر کی حلف برداری تقریب میں موجود ہوتا ہے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔

گذشتہ جمعے کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’وہ تمام لوگ جو پوچھ رہے تھے، میں 20 جنوری کو ہونے والی تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کروں گا۔‘

واضح رہے کہ ٹرمپ کے حامیوں نے ’ورچوئل تقریب حلف برداری‘ کا انتظام کیا ہے جو کہ اسی دن اور اسی وقت ہو گی جب جو بائیڈن اپنا حلف اٹھا رہے ہوں گے۔

فیس بک پر منعقد ہونے والے اس ایونٹ میں شرکت کرنے کے لیے 68000 سے زیادہ افراد اپنی رضا مندی دکھا چکے ہیں۔

چھ جنوری کو ہونے والے واقعے کے پیش نظر اس بار صدارتی حلف برداری کی تقریب کی سکیورٹی پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

اس سال اس تقریب کے لیے 15 ہزار سے زیادہ نیشنل گارڈز کو طلب کیا گیا ہے جکہ اس کے علاوہ ہزاروں پولیس اہلکاروں کو بھی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں تعینات کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ باقی پچاس ریاستوں میں بھی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17875 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp