کاجول سے جب بیٹے نے پوچھا 'تم نارمل ماں کیوں نہیں ہو؟'

سوپریا سوگلے - صحافی، ممبئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف بالی وڈ اداکارہ کاجول کے دس سالہ بیٹے یوگہ نے ان سے سوال کیا کہ وہ دوسری ماؤں کی طرح کیوں نہیں ہیں۔ وہ کام پر کیوں جاتی ہیں؟

انڈیا کے پدر شاہی معاشرے میں کام کرنے والی ماؤں پر اکثر اپنے اہل خانہ کو نظرانداز کرنے کا الزام لگائے جاتے ہیں۔

بی بی سی سے خصوصی طور پر بات کرتے ہو اس کے متعلق اپنے کنبہ کی مثال دیتے ہوئے کاجول نے کہا: ‘میرے بیٹے نے ایک بار مجھ سے پوچھا ‘ آپ نارمل کیوں نہیں ہو؟ تم کام پر کیوں جا رہی ہو؟ تم گھر پر کیوں نہیں رہتی اور میرے لیے کھانا کیوں نہیں بناتی ہو؟ اس کے جواب میں میں نے کہا تھا کہ جب آپ بڑے ہو جائیں گے اور آپ کسی سے شادی کر لیں گے اور وہ کام پر جائے گی تو آپ اس میں کوئی غلطی نہیں تلاش کریں گے۔ تمہارے لیے وہ معمول کی بات ہوگی۔ اور ہونی بھی چاہیے۔ اگر میں اپنے بیٹے کا ذہن تبدیل کرسکتی ہوں، تو میں سمجھوں گی کہ میں نے ایک ماں اور ایک فیمنسٹ عورت کی حیثیت سے بہت اچھا کام کیا۔’

غیر منصفانہ رویہ

کاجول، رینوکا شہانے کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ‘تری بھنگ’ میں تنوی اعظمی اور میتھلا پالکر کے ساتھ نظر آئی ہیں۔ فلم میں، تین نسلوں کے ذریعے حوصلہ مند ماں اور خاندانی تناؤ کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بچوں کے لیے کریئر کی قربانی نہیں دی: کاجول

میز پر گائے کا نہیں بھینس کا گوشت تھا: کاجول

فلم میں تنوی اعظمی کاجول کی حوصلہ مند مصنف ماں کا کردار ادا کررہی ہیں۔ حوصلہ مند والدہ اور معاشرتی رویہ پر تبصرہ کرتے ہوئے تنوی اعظمی کا کہنا ہے کہ لوگ ‘حوصلہ مند ماں پر اپنے گھر والوں کو فراموش کرکے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے چکر میں رہنے کا الزام لگاتے ہیں۔ مجھے یہ بات بہت غیر منصفانہ معلوم ہوئی ہے کہ وہ ایک عورت ہے اور صرف اسی لیے اسے خواب نہیں دیکھنا چاہیے۔’

وہ مزید کہتی ہیں: ‘ان پر اس لیے الزام لگایا جاتا ہے کیونکہ وہ دنیا سے کچھ مختلف کرنے جارہی ہیں۔ یہی بات ہمیں سکھائی جاتی ہے کہ خواتین کو صرف اپنے گھر کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ اگر خواتین خود فیصلہ کریں تو انھیں دوسری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ہم اسی کہانی کے ذریعے اسی سوچ کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’

اسی دوران فلم کی ہدایتکار رینوکا شہانے کا کہنا ہے کہ معاشرہ ایک ماں کے بارے میں صرف ایک دائرے میں سوچتا ہے جو ایک بہت ہی قابل احترام مقام ہے۔ اگر والدہ اپنی خاندانی ذمہ داری کے بعد کچھ کرتی ہے تو وہ قابل قبول ہے۔ لیکن اگر وہ خاندانی ذمہ داری سے سمجھوتہ کرتی ہے اور اپنی خواہش کے مطابق کام کرتی ہے تو اسے صحیح نہیں سمجھا جاتا ہے۔ میں معاشرے میں یہ سوال اٹھانا چاہتی ہوں کہ آخر ایسا کیوں ہے؟

سامعین کے سر سہرا

خواتین کو بااختیار بنانے کا کام پوری دنیا میں بہت تیزی سے ہورہا ہے۔ انڈیا بھی دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہندی فلمی صنعت بھی خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے سوال پر آگے بڑھ رہی ہے۔

کاجول اس کا کریڈٹ سامعین کو دیتی ہیں۔

کاجول کا خیال ہے کہ فلمی صنعت سامعین پر انحصار کرتی ہے کہ وہ کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کاجول کا خیال ہے کہ ناظرین کے بدلتے ہوئے رجحان نے خواتین پر مبنی فلموں کو جگہ دی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ اب مختلف قسم کی کہانیوں کی گنجائش موجود ہے ورنہ ‘تری بھنگ’ جیسی فلمیں نہیں بنتیں۔

دریں اثںا رینوکا شہانے کا کہنا ہے کہ اب فلم انڈسٹری میں بہت ساری خواتین نہ صرف کیمرے کے سامنے بلکہ کیمرے کے پیچھے بھی بطور مصنف، سینیمٹو گرافر، ایڈیٹر، ہدایتکار اور پروڈیوسر کام کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فلم کی کہانیوں میں سامعین کے سامنے ایک نیا منظر نامہ سامنے آرہا ہے تاکہ ہم معاشرے کی ذہنیت کو آہستہ آہستہ تبدیل کرسکیں۔

رینوکا شہانے کی ہدایت کاری میں تیار کردہ تری بھنگ 15 جنوری کو نیٹ فلکس پر ریلیز کی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18451 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp