جسٹس عائشہ ملک: وہ خاتون جج جنھوں نے پاکستان میں ٹو فنگر ٹیسٹ کو کالعدم قرار دیا

بینظیر شاہ - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹ پڑنے کے بعد جسٹس عائشہ اے ملک کی عدالت میں ایک اصول پر سختی سے عمل پیرا ہونا پڑتا تھا اور وہ یہ کہ کورٹ روم میں بلا تفریق ماسک کی پابندی لازمی کرنا ہو گی۔

باوجود اس پابندی کے حال ہی میں ایک سینئر وکیل نے دلائل پیش کرتے ہوئے اپنا ماسک اتار دیا۔

اس موقع پر عدالت میں موجود ایک اور وکیل نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ ماسک اتارنے پر جج صاحبہ نے مذکورہ وکیل کو اپنی عدالت کا اصول یاد دلایا جس پر وکیل نے کہا کہ انھیں ماسک پہن کر بولنے میں دشواری ہوتی ہے۔

جس پر جسٹس عائشہ نے کہا ’ٹھیک ہے، پھر آپ نہ ہی بولیں تو بہتر ہے۔‘ جسٹس عائشہ ملک کی اس تجویز پر وکیل صاحب نے خاموشی سے اپنا ماسک واپس چہرے پر سِرکا لیا۔

جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائیکورٹ کے 40 معزز جج صاحبان میں شامل صرف دو خاتون ججوں میں سے ایک ہیں۔ پاکستان میں خواتین وکلا کے یکساں مواقع کے لیے کام کرنے والے گروپ ’وویمن ان لا‘ کے مطابق محض 15 فیصد خواتین جج پاکستان کی عدلیہ کا حصہ ہیں۔

عدلیہ میں ایک اقلیت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی جسٹس عائشہ ملک کا نام اس تاریخ ساز فیصلے کی شکل میں قوم کے سامنے آیا جس میں ’ٹو فنگر‘ یا جنسی استحصال کی شکار خواتین کا دو انگلیوں والا کنوار پن ٹیسٹ کرنے کو خلاف آئین و قانون قرار دیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اس نام نہاد ’کنوار پن‘ ٹیسٹ کی کوئی طبی یا سائنسی بنیاد نہیں بلکہ یہ خاتون کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔

اس عدالتی فیصلے کے علاوہ بھی جسٹس عائشہ کی عدالت میں پیش ہونے والے مردوں میں ان کی ایک دھاک ہے۔

مریض
عدالتی فیصلے کے مطابق نہاد ’کنوار پن‘ ٹیسٹ کی کوئی طبی یا سائنسی بنیاد نہیں بلکہ یہ خاتون کے وقار کو مجروح کرتا ہے

جن مرد وکلا سے بات ہوئی ان کا دعویٰ ہے کہ جج صاحبہ بسا اوقات کرخت اور درشت ہو جاتی ہیں اور وکلا کے دلائل کے درمیان ان کا ٹوکنا معمول کی بات ہے۔

دوسری طرف خواتین وکلا اس تاثر کو ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے ردّ کرتی ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ پیشہ قانون میں صنفی تعصب پایا جاتا ہے جس کی بنا پر خواتین کو اپنے مرد ہم مرتبہ کی نسبت زیادہ سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون وکیل نے کہا کہ ’مرد وکلا ایک خاتون جج کی عدالت میں پیش ہونے پر جز بز ہوتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جتنے مرد وکلا کو میں جانتی ہوں ان کی اکثریت جج صاحبہ کو پسند نہیں کرتی۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’حالانکہ مرد جج بھی کمرہ عدالت کے آداب کی پابندی کروانے پر اتنا ہی مصر ہوتے ہیں لیکن بین السطور ایک مخفی مردانہ انا ہوتی ہے جس کی بنا پر مرد وکل سمجھتے ہیں کہ معزز جج صاحبہ ان کی تربیت کر رہی ہیں اور یہی انھیں ناگوار گزرتا ہے۔‘

’کھرا رہنے کی خواہش‘

لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر تعارف کے مطابق 54 برس کی جسٹس عائشہ ملک نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی گرائمر سکول سے اور ایل ایل ایم کی ڈگری امریکہ کے ہارورڈ لا سکول سے حاصل کی جس کے بعد انھوں نے واپس کراچی آ کر اپنی عدالتی پریکٹس کا آغاز کیا۔

کراچی میں قائم فخرالدین جی ابراھیم اینڈ کو کے سینئر پارٹنر زاہد ایف ابراہیم کی جسٹس عائشہ اے ملک سے پہلی ملاقات 1997 میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ انٹرویو دینے آئیں تھیں۔ اگلے چار سال جسٹس عائشہ ملک نے زاہد ایف ابراھیم کے والد اور سینئرایڈووکیٹ سپریم کورٹ فخرالدین جی ابراھیم، جو بعد میں گورنر سندھ بھی تعینات ہوئے، کے زیر سایہ کام کیا۔

زاہد ابراھیم کہتے ہیں کہ ’عائشہ بے لاگ اور اپنی بات کہنے والوں میں سے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عرف عام میں جسے قانون کی حکمرانی کہا جاتا ہے عائشہ اس کی بنیاد پر کار فرما ہیں اور ہمیشہ سے ہی ان میں کھرا رہنے کی خواہش رہی ہے۔‘

ذاتی زندگی میں عائشہ مصوری سے محظوظ ہوتی ہیں اور خاص طور پر منی ایچر آرٹ کو پسند کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پالتو جانور رکھنے کی بھی شوقین ہیں۔

ایک حاضر سروس جج جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے اور جسٹس عائشہ کو ابتدائی دنوں سے جانتے ہیں، نے بتایا کہ جسٹس عائشہ کی ایک پالتو بلی بھی ہے اور جس چیز کے بارے میں وہ بہت پرجوش ہیں۔

’حتیٰ کہ آپ انھیں کاغذ تک ضائع کرتے نہیں دیکھیں گے۔ وہ استعمال شدہ کاغذ بھی سنبھال لیتی ہیں اور بعد ازاں ذاتی استعمال کے لیے اسے ڈائری کی شکل میں جلد کروا لیتی ہیں۔‘

سنہ 2001 میں جسٹس عائشہ ملک شادی کے بعد لاہور آ گئیں اور یہاں اپنی وکالت جاری رکھی اور سنہ 2012 میں وہ لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج تعینات ہوئیں۔

خاتون جج کی جہد ِمسلسل

جسٹس عائشہ ملک اب ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

سنہ 2014 میں جسٹس عائشہ کی عدالت میں ایک وکیل کا لائسنس جج صاحبہ کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنے کی بنا پر معطل کر دیا گیا تھا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق وکیل نے ’توہین آمیز زبان‘ استعمال کی تھی۔

جسٹس عائشہ ملک کے ساتھی جج کا مزید کہنا تھا کہ مرد وکلا اکثر اوقات ان کے ساتھ بد تمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔

’میرا خیال ہے کہ اس بنا پر جسٹس عائشہ سخت گیر ہو گئیں ہیں اور آج حال یہ ہے کہ ان کی عدالت میں اگر ایک سوئی تک گرے تو آپ اس کی آواز سن سکتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا اپنی عدالت میں کتنا دبدبہ ہے۔‘

جسٹس عائشہ خواتین کو پیشہ قانون میں بااختیار بنانے کے لیے ہر دم کوشاں رہتی ہیں۔ سنہ 2016 سے سالانہ پنجاب خواتین ججز کانفرنس منعقد کروانے میں ان کا کردار مرکزی نوعیت کا رہا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد صوبے کی خواتین ججوں کو پیش آنے والی مشکلات کا تدارک کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اب تک ان کے صادر کیے گئے 99 فیصلے خواتین کے حقوق کے لیے ان کی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

طبی اور جسمانی امتحان پاس کرنے کے باوجود جب سنہ 2013 میں محکمہ انسداد دہشتگردی پنجاب نے اوپن میرٹ پر خواتین کارپورلز کو بھرتی کرنے سے انکار کیا تو ان خواتین کی جانب سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔

اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی پولیس سی ٹی ڈی رائے محمد طاہر کی دلیل تھی کہ محکمہ انسداد دہشگردی کی نوکری ’خطرناک اور محنت طلب‘ کام ہے اور اس بنا پر خواتین کارپورلز کو صرف دفتری کام ہی تفویض کیا گیا ہے جبکہ اس کی نسبت بھاری معاوضے والے کام صرف مردوں کو ہی دیے جاتے ہیں کیوںکہ وہ اس کام کے لیے ’زیادہ موزوں‘ ہیں۔

خواتین مدعیوں کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے جسٹس عائشہ ملک نے اپنے فیصلے میں لکھا ’قابلیت کو صنفی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔‘

سیاست اور اس سے جڑے تنازعات

جسٹس عائشہ ملک کی میراث محض صنفی مساوات کے لیے سعی تک محدود نہیں بلکہ وہ بطور ایسی جج بھی اپنی پہچان بنا چکی ہیں جو طاقتور حلقوں کے خلاف ایسے دبنگ فیصلے صادر کرنے سے نہیں ڈرتیں جن کی بدولت ان حلقوں میں سراسیمگی پھیل جاتی ہے۔

سنہ 2016 میں جسٹس عائشہ نے اتفاق شوگر ملز لمیٹڈ اور چودھری شوگر ملز لمیٹڈ کی جنوبی پنجاب منتقلی کو روک دیا۔ درخواست گزار کا الزام تھا کہ یہ دونوں شوگر ملز اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کی ملکیت ہیں۔

اپنے اس فیصلے میں معزز جج صاحبہ نے لکھا کہ ’حکومتی سہولت کاری کے ساتھ مذکورہ شوگر ملز اس پابندی کو جُل دینے میں کامیاب ہو گئیں جس کے تحت کپاس کے پیداوار کے علاقوں کو ’نہایت نقصان‘ پہنچنے کے سبب نئی شوگر ملیں لگانے پر قانونی قدغن تھی۔‘

جب مذکورہ کمپنیوں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تو وہاں بھی لاہور ہائیکورٹ اور جسٹس عائشہ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ان شوگر ملوں کو واپس اپنی پہلی جگہ پر جانے کا حکم دیا گیا۔

پاکستان سپریم کورٹ کی تاریخ میں ابھی تک کوئی خاتون چیف جسٹس کے عہدے پر فائز نہیں ہو پائی ہیں اور نہ ہی لاہور ہائیکورٹ میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے حالانکہ پہلی خاتون جج کی تعیناتی سنہ 1974 میں ہوئی تھی۔

اگرچہ اس پیشے میں خواتین کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں اس کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے لیکن وکیل زاہد ایف ابراہیم کا خیال ہے کہ خواتین وکلا بھی بنچ کا حصہ بننے سے کتراتی ہیں۔

’میں کراچی کی ایسی کئی قابل خواتین وکلا کو جانتا ہوں جنھیں متعدد مرتبہ جج بنانے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن ان کی طرف سے اس پیشکش کو مسترد دیا گیا۔‘

زاہد ابراہیم کے خیال میں آج کی عدلیہ بہت زیادہ بیوروکریٹک ہو چکی ہے اور یہ خواتین بہت خود مختار ہیں ’مثلاً یہ سنیارٹی کو سلام داغنے کے لیے لائن میں کھڑے ہونا شاید پسند نہ کریں۔‘

البتہ بینچ کے حاضر سروس ججوں میں سے چند ایسے بھی ہیں جو یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ سنہ 2024 یا 2025 میں اپنی باری آنے پر جسٹس عائشہ اے ملک کو لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ کی پہلی چیف جسٹس بننے کے لیے درکار حمایت میسر ہو گی تاہم کئی دیگر اس بارے میں اتنے پر امید نہیں۔

ایک خاتون وکیل نے کہا کہ وکالت سے منسلک افراد کی اکثریت مرد حضرات کی ہے جو اس تجویز کی مخالفت کریں گے۔

’ایک خاتون ہائیکورٹ کی سربراہ، جس کے بارے میں ان کا تاثر پہلے ہی ایک سخت گیر جج کے طور پر ہے، اس امکان پر بار کونسلز سے ردعمل تو آئے گا ہی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17697 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp