بائیڈن نے سو سال پرانی جس بائبل پر حلف اٹھایا اس کی اہمیت کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی آئین میں ایسا کچھ تحریر نہیں کہ صدور کو کسی مذہبی کتاب پر حلف اٹھانا ہے، مگر تاریخی رسوم و رواج نے سنہ 1789 میں جارج واشنگٹن کے انتخاب سے لے کر اب تک بائبل کو ہی تقریباتِ حلف برداری کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔

جو بائیڈن نے بدھ کو حلف اٹھا لیا ہے اور امریکی میڈیا اور نیوز ویب سائٹس نے اس بائبل پر توجہ مرکوز کیے رکھی جس پر انھوں نے حلف اٹھایا۔

ان کے حامیوں نے نشاندہی کی کہ اپنے سیاسی کیریئر کی شروعات سے اب تک انھوں نے چمڑے کی جلد والی اس بڑے سائز کی بائبل کو کسی بھی عہدے کا حلف اٹھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ کتاب 12 سینٹی میٹر موٹی ہے اور اس پر آہنی تالہ لگا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تقریب حلف برداری سے پہلے ٹرمپ کے مخالفین کے مظاہرے

اوباما اور بائیڈن کی تصاویر میں تیسرا کون؟

جو بائیڈن کی حلف برداری: واشنگٹن ’میدان جنگ‘ کا منظر پیش کر رہا ہے

امریکی ویب سائٹ کرسچینیٹی ٹوڈے کے مطابق بائیڈن کے دادا دادی نے 1893 میں یہ بائبل حاصل کی تھی اور یہ تب سے اب تک کئی نسلوں سے خاندان میں ہی رہی ہے۔

سابق امریکی صدور نے اپنی اپنی خاندانی بائبلز پر حلف لیے ہیں مگر کچھ نے ایسی بائبل پر بھی حلف لیا ہے جو مخصوص تاریخی علامتوں کی حامل ہیں۔

صدر وارن ہارڈنگ، ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور، جمی کارٹر اور جارج بُش سینیئر نے اسی بائبل پر حلف اٹھایا جس پر جارج واشنگٹن نے حلف اٹھایا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور باراک اوباما نے ابراہم لنکن کی انجیل پر حلف اٹھایا تھا۔

جان ایف کینیڈی نے اپنی والدہ کی بائبل پر اور جان کوئنسی ایڈمز نے قانون کی کتاب پر حلف اٹھایا تھا۔

کچھ لوگوں نے توقع کی تھی کہ بائیڈن صدر کینیڈی کی بائبل پر حلف اٹھائیں گے کیونکہ وہ امریکی تاریخ میں کینیڈی کے بعد دوسرے کیتھولک صدر ہیں۔ مگر انھوں نے اپنی خاندانی بائبل کا انتخاب کیا جو ان کے سیاسی کریئر کے تمام مراحل میں اُن کے ساتھ رہی ہے۔

یہ وہی بائبل ہے جس پر انھوں نے سنہ 2009 اور سنہ 2013 میں باراک اوباما کے نائب صدر بنتے ہوئے حلف اٹھایا تھا اور جب وہ 1973 میں ریاست ڈیلاویئر کے نمائندے منتخب ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ یہ وہی بائبل ہے جس پر ان کے بیٹے بو بائیڈن نے سنہ 2007 میں ریاست ڈیلاویئر کے اٹارنی جنرل بننے پر حلف اٹھایا تھا۔

بو کی سنہ 2015 میں دماغ کے کینسر سے وفات ہو گئی تھی۔

اپنی خاندانی بائبل کا انتخاب کر کے بائیڈن نے آئرلینڈ میں اپنی جڑوں اور اپنے کیتھولک عقیدے سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔

یہ وہی حکمتِ عملی ہے جس نے انتخابی مہم کے دوران اُن کا ساتھ دیا، جس میں ان کا تشخص بطور ایک نیک شخص قائم کیا جو امریکہ کی ‘روح بحال کرنا چاہتے ہیں۔’

کرسچینیٹی ٹوڈے نے کتاب ‘امیریکن گوسپل’ کے مصنف پال کوٹجار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بائیڈن خاندان نے انیسویں صدی کے اختتام پر یہ بڑی بائبل حاصل کی تاکہ اس کے صفحات پر اپنے خاندان کی تاریخ لکھ کر اپنی کیتھولک شناخت کی تصدیق کر سکیں۔

اس وقت تک امریکہ میں زیادہ کیتھولک بائبلز نہیں تھیں مگر اگلے چند برسوں میں ان کی اشاعت میں اضافہ ہوا۔ بائبلز کو بھاری جلدوں میں شائع کیا جاتا، جس میں ڈرائنگز، نقشے اور الہامی فقروں کی وضاحتیں ہوتیں، جبکہ خاندانی زندگی کے اہم واقعات تحریر کرنے کے لیے خصوصی صفحات بھی ہوتے۔

یہ بائبلز زبردست اہمیت کی حامل ہیں اور یہ نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ یہ متعلقہ خاندانوں کی مذہبیت اور کیتھولک روایات سے ان کی وابستگی ظاہر کرتی ہیں۔

بائیڈن کی حلف برداری میں مذہبی علامات بھرپور انداز میں نظر آئیں اور ان کا تعلق صرف خاندانی بائبل سے نہیں تھا۔

کیپیٹل سکوائر پر حلف اٹھانے سے قبل بائیڈن واشنگٹن ڈی سی میں سینٹ میتھیوز کیتھیڈرل بھی گئے تھے جہاں اُنھوں نے افتتاحی دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔

اس تقریب میں ان کے ہمراہ ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ رپبلکنز بھی شامل تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17713 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp