انڈیا: کووڈ 19 کے لیے ویکسین بنانے والے انسٹیٹیوٹ میں آگ لگنے سے پانچ ہلاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے پونے میں واقع پلانٹ کے ٹرمینل 1 میں آگ لگنے کے نتیجے میں پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

متعلقہ حکام نے بی بی سی مراٹھی سروس کو بتایا ہے کہ انسٹیٹیوٹ کی عمارت کی چوتھی اور پانچویں منزل پر آگ لگی ہے اور آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی دس گاڑیاں پہنچائی گئیں۔

ابتدا میں آگ پر قابو پا لیا گیا تاہم کچھ ہی دیر میں یہ آگ آخری منزل پر دوبارہ بھڑک اٹھی۔

مقامی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے آگ لگی جسے چار بجکر دس منٹ پر بجھا لیا گیا تھا۔ ہلاک شدگان میں چار مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ نے لواحقین کے لیے 25، 25 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر صحت راجیش پوپی کا کہنا ہے کہ یہ آگ ویلڈنگ کی چنگاڑی سے بھڑکی تھی۔

مزید پڑھیے

انڈیا: ’گاڑیوں کو آگ لگانے والا‘ ڈاکٹر گرفتار

سی بی آئی کی آگ، حکومت کی بھی انگلیاں جلی ہیں

سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا آکسفرڈ۔ اسٹرا زینیکا کی کورونا وائرس کے خلاف ویکسین، کووِڈ شیلڈ تیار کر رہا ہے اور یہ دنیا کی سب سے بڑی ویکسین بنانے والی کمپنی ہے۔

صرف انڈیا ہی نہیں کئی دیگر ممالک بھی ویکسین کے لیے اس کمپنی پر منحصر ہیں۔

انڈین ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ، ’چھ لوگوں کو بچایا گیا ہے۔ پہلی نظر میں یہ آگ بجلی کی کسی خرانی کی وجہ سے لگی ہوئی لگتی ہے۔ کووڈ کی ویکسین محفوظ ہے۔ میں نے آدار پوناوالا سے اب تک بات نہیں کی ہے۔‘

سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے سی ای یو آدار پونا والا نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ’ہمیں ابھی ابھی تکلیف دہ خبریں ملی ہیں۔ ہمیں پتا چلا ہے کہ اس حادثے میں کچھ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ہمیں اس پر شدید افسوس ہے اور ہلاک ہونے والوں کے خاندان والوں کو دل کی گہرائیوں سے تعزیت کرنا چاہتے ہیں۔‘

اس سے پہلے انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ، ’آپ سب کی تشویش اور دعاؤں کے لیے شکریہ۔ اب تک سب سے اہم بات یہ ہے کہ آگ سے کسی کی جان نہیں گئی ہے اور نہ ہی کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ صرف عمارت کی کچھ منزلوں پر نقصان ہوا ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا تھا، ’میں تمام سرکاروں اور لوگوں کو اس بات کا یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ویکسین بنانے کے عمل پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ ہم اس کام کے لیے کئی مختلف عمارتیں استعمال کرتے ہیں۔ میں نے اسی طرح کے حادثات کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں ریزرو پر رکھا ہوا ہے۔ پونے کی پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ کا بہت بہت شکریہ۔‘

پونے کے میئر مرلی دھر موہول نے بتایا ہے کہ اس حادثے میں مجموعی طور پر پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ یہ لوگ وہاں زیر تعمیر عمارت میں کام کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ ابھی واضح نہیں ہے لیکن خدشہ ہے کہ عمارت میں جاری ویلڈنگ کے کام کی وجہ سے آگ لگی ہو۔

سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا عالمی ادارہ صحت کے ’کو ویکس‘ منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد متوسط آمدنی والے ممالک کو ویکسین فراہم کرنا ہے۔

پونے کی ڈپٹی پولیس کمشنر نمرتا پاٹِل ایم نے بتایا ہے کہ،’یہ آگ پلانٹ کے ٹرمینل 1 گیٹ پر لگی ہے۔‘

چاروں طرف دھواں پھیلنے کی وجہ سے امدادی کارروائی میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔

فائر بریگیڈ افسر پرشانت رانپیسے نے بتایا، ’آگ لگنے کے بعد پوری عمارت کو خالی کروا لیا گیا ہے۔ لیکن چار لوگ پھنسے رہ گئے تھے جن میں سے تین کو باہر نکال لیا گیا ہے۔‘

مقامی رکن اسمبلی چیتن توپے موقع پر پہنچ چکے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ آگ جس عمارت میں لگی ہے ویکسین بنانے کا کام وہاں نہیں ہوتا۔

پونے کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر روندر شسوے نے بتایا ہے کہ، ’سیرم انسٹیٹیوٹ کی کئی ساری عمارتیں ہیں۔ ان میں سے ایک میں آگ لگی ہے۔ فائر برگیڈ کے افسر آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی ہم نقصان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں دے سکتے۔ آگ کیسے لگی، اس کے بارے میں بھی حتمی طور پر کچھ نہیں بتا سکتے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17950 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp