پاکستان: کاروبار میں آسانی کی صورتحال بہتر، مگر ’آسانی صرف بڑے گروپوں کے لیے ہی’

تنویر ملک - صحافی، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی بینک کے ’سرحد پار تجارت انڈیکس‘ نے پاکستان کی عالمی صف بندی میں پوزیشن کو بہتر بناتے ہوئے کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے اسے 108 ویں پوزیشن پر رکھا ہے۔ پاکستان نے عالمی درجہ بندی میں اپنی سابقہ پوزیشن کو بہتر بنایا ہے جو پہلے 136 تھی۔

پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے حکومتی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے عالمی بینک کے انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کے بارے میں اعلان کیا ہے۔

پاکستان کی اس انڈیکس میں عالمی درجہ بندی میں بہتری کے باوجود خطے کے ممالک خصوصاً انڈیا اور سری لنکا کے مقابلے میں پاکستان کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے پیچھے ہے اور صرف بنگلہ دیش سے اس صف بندی میں آگے ہے۔

اس انڈیکس میں خطے کے ممالک کی درجہ بندی کو دیکھا جائے تو کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے انڈیا سب سے اوپر ہے جو پاکستان کی 108 ویں پوزیشن کے مقابلے میں 63ویں پوزیشن پر ہے۔

بھوٹان کی پوزیشن 89 ویں ہے تو نیپال اور سری لنکا بالترتیب 94 ویں اور 99 ویں پوزیشن پر موجود ہیں۔ پاکستان ان ممالک سے اس درجہ بندی میں پیچھے ہے تاہم بنگلہ دیش کی اس درجہ بندی میں پوزیشن بہت نیچے ہے اور وہ 168ویں نمبر پر موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان نے ’ایز آف بزنس‘ میں اتنی بہتری کیسے حاصل کی؟

بدعنوانی کراچی کے کاروبار میں بڑی رکاوٹ: عالمی بینک

جی ڈی پی میں بہتری کی پیش گوئی، کیا یہ پاکستانی معیشت کی اصل عکاس ہے؟

کیا پاکستان میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ، نئی ملازمتیں بھی پیدا کر رہا ہے؟

تاہم اس انڈیکس میں پاکستان کے لیے اہم پیشرفت یہ ہے کہ عالمی بینک کے نزدیک پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جو کاروبار کے لحاظ سے تین یا تین سے زیادہ شعبوں میں بہت تیزی سے بہتری کر رہے ہیں۔ ان دس ممالک میں پاکستان کے ساتھ انڈیا بھی شامل ہے کہ جہاں کاروبار کرنے کے لحاظ سے بہتری کی شرح کافی زیادہ ہے۔

عالمی بینک کا سرحد پار تجارت کا انڈیکس کام کیسے کرتا ہے؟

عالمی بینک کی متعارف کردہ اس انڈیکس میں کسی ملک کی تجارت سے متعلق مختلف حوالوں سے نکات جمع کیے جاتے ہیں اور اس بنیاد پر یہ شمار کیا جاتا ہے کہ اس ملک میں تجارت میں کتنی آسانی ہے۔

ان نکات میں خاص طور پر کسی ملک کی بیرونی تجارت میں لگنے والے وقت اور اس پر اٹھنے والی لاگت کو دیکھا جاتا ہے۔ ان میں بیرونی تجارت کی کلیئرنس کے لیے مطلوبہ حکومتی دستاویزات پر عملدرآمد کرنا، سرحد پر تجارت کے لیے حکومتی تقاضوں کو پورا کرنا اور اندرون ملک ٹرانسپورٹ کی سہولت شامل ہے کہ برآمد اور درآمد کی جانے والی مصنوعات کس طرح نقل و حمل کرتی ہے۔

پاکستان میں بیرونی تجارت اور اس سے متعلق معاہدوں کے ماہر ڈاکٹر ایوب مہر نے کاروبار میں آسانی کے شعبے میں پاکستان پر انڈیا کی سبقت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی جانب سے نوے کی دہائی میں متعارف کروائے گئے ضوابط نے وہاں کاروبار میں آسانی کو بہت زیادہ مدد فراہم کی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اس کے مقابلے میں پاکستان نے اس محاذ پر بہت دیر سے کام شروع کیا اور جو ابھی بہتری نظر آرہی ہے اس کی وجہ کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے حکومتی ریگولیشنز میں نرمی ہے۔‘

پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری کی وجہ کیا؟

پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری کے متعلق ایف بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ تجارت کو آسان بنانے کے لیے تین اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں ویب بیسڈ ون کسٹمز (WEBOC) الیکٹرانک سسٹم کے ذریعے مختلف اداروں کو آپس میں ضم کر دیا گیا ہے، برآمدی/درآمدی کلیئرنس کے لیے مطلوبہ دستاویزات کی تعداد کم کر دی گئی ہے اور پاکستان کسٹمز کے افسران اور عملے کی استعداد بہتر بنائی گئی ہے تاکہ وہ بلا روک ٹوک سرحدی تجارت میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔

مزید براں پاکستان کسٹمز کا ادارہ کسٹمز کنٹرول کو موثر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے جس کے تحت قانونی تقاضوں کے مطابق تجارت میں ہر سطح پر معاونت اور سہولت پیدا کی جا رہی ہے اور دوسری جانب قانونی تقاضوں پر مکمل طور پر یا کسی حد تک پورا نہ اترنے والی تجارت کی مکمل بازپرس کی جا رہی ہے۔

پاکستان کسٹمز کی اس حکمت عملی کے عمدہ نتائج سامنے آئے ہیں اور اس نے گرین چینل کے ذریعے کلیئرنس کا تناسب بڑھاتے ہوئے پاکستانی برآمدات و درآمدات کے لیے سرحدوں اور بندرگاہوں پر پڑاؤ کا وقت کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مثال کے طور پر برآمدات سے متعلق کاغذی کارروائی کا وقت 55 گھنٹے سے کم ہو کر صرف 24 گھنٹے رہ گیا ہے جبکہ برآمدات سے متعلق قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے مطلوبہ وقت 75 گھنٹے سے کم ہو کر محض 24 گھنٹے تک آ گیا ہے۔

اسی طرح درآمدات سے متعلق کاغذی کارروائی پر لگنے والا وقت 143 گھنٹے سے کم ہو کر 24 گھنٹے رہ گیا ہے اور سرحد پر درآمدات سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کرنے میں اب 120 گھنٹوں کے بجائے 24 گھنٹے لگتے ہیں۔

پاکستان میں کاروبار میں آسانی کی حقیقی صورت حال

پاکستان میں کاروبار میں آسانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر زبیر موتی والا نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے کچھ چیزوں میں بہتری آئی ہے تاہم صورتحال اتنی مثالی نہیں کہ پاکستان کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے ایک بہترین ملک بن چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو بہتری آئی ہے اس کی ایک بڑی وجہ تو کاغذوں کی بجائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جس کی وجہ سے اب لوگوں کو متعلقہ حکومتی اداروں کے چکر نہیں کھانے پڑتے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک کسٹمز کی بات ہے تو انھیں اس کے کردار میں کوئی ایسی انقلابی تبدیلی نظر نہیں آتی کہ جس کی بنیاد پر وہ بیرونی تجارت کو بہت زیادہ سہولت دے رہا ہو۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے ایک نمایاں پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کا مرحلہ بہت تیزی سے پراسس ہو رہا ہے جس نے تجارتی حلقوں کو کافی ریلیف فراہم کیا ہے۔

ڈاکٹر ایوب مہر نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے ایک بڑی پیش رفت تو یہی ہے کہ اب آٹومیشن پر کام ہوتا ہے جس کی وجہ سے دستاویزات کی ضرورت کم ہو گئی ہے تاہم انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار میں آسانی صرف بڑے گروپوں کے لیے ہے کہ جن کے وسائل اور سسٹم انھیں اس لحاظ سے فائدہ پہنچا رہے ہیں جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے ابھی بھی کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

ڈاکٹر مہر نے کہا کہ انڈیا کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے اگر آگے ہے تو اس کی وجہ ان کے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جو ہم سے پہلے وہاں شروع ہوا اور انھوں نے کاروبار میں آسانی کے لیے اسے زبردست طریقے سے استعمال کیا۔ اسی طرح ان کے مطابق سری لنکا میں خواندگی کی سطح اس ملک میں کاروباری لحاظ سے آسانی کا باعث بن ہے۔

انھوں نے کہا کہ بیرونی تجارت کے لیے درکار انفراسٹرکچر کی صورتحال بھی پاکستان میں حوصلہ افزا نہیں جبکہ اس کے مقابلے میں انڈیا میں یہ کافی بہتر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں سڑکوں کا نظام بہتر نہیں ہے تو اس کے ساتھ ریلوے کا نظام بھی اچھا نہیں ہے کہ جس کے ذریعے بیرونی تجارت کے سامان کی ترسیل برق رفتاری سے ہو سکے۔ انھوں نے کہا بندرگاہوں پر ٹرمینلز کی صورت حال بھی خطے کے دوسرے ممالک میں مقابلے میں تسلی بخش نہیں۔

تجارت کی ترقی کے ذمہ دار حکومتی ادارے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) میں تجارتی سہولت کاری کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل ریاض شیخ نے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا کاروبارمیں آسانی میں عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی بہتری خوش آئند ہے تاہم انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی تنزلی پر انھوں نے کہا کہ ملک میں ابھی بھی بہتری کی بہت گجائش موجود ہے۔

ریاض شیخ کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے متعارف کروائی گئی سنگل ونڈو سہولت پر کام ہو رہا ہے جس کے بعد امید ہے کہ پاکستان کی درجہ بندی مزید بہتر ہو جائے گی۔

انھوں نے بتایا ’اس سہولت کے تحت بیرون تجارت کے لیے نظام ڈیجیٹائز ہو جائے گا۔ ڈیجیٹائزیشن کی جانب جتنی تیزی سے بڑھا جائے کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے وہ اتنا ہی بہتر ہو گا اور کورونا وائرس کی وبا نے یہ موقع فراہم کر دیا ہے کہ ہم اپنے نظام کو جلد سے جلد ڈیجیٹائز کر لیں۔‘

انھوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے دیکھا جاتا ہے کہ سرمایہ کاری، تجارت اور صنعتی شعبے کے لیے کام کرنے میں آسانی ہے۔

’تجارت کے لیے ہم نے اپنے ادارے کی جانب سے اصلاحات کی ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17928 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp