عالمی کمپنی میں رشوت: چھ کروڑ دستاویزات میں چھپا ثبوت کس کو اور کیسے ملا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تصور کریں کہ آپ کو ایک بین الاقوامی کمپنی کی ہزاروں اور لاکھوں دستاویزات اور ای میل کی چھان بین کرنی پڑ جائے۔

یوسر خلیل کو ایسا کرنے کے بارے میں ہی سوچنا تھا۔ وہ ‘فورنزک اکاؤنٹنگ’ کرنے والی ایک ٹیم کا حصہ تھیں جسے یہ کام سونپا گیا تھا کہ بین الاقوامی طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کی طرف سے رشوت دینے کے اعتراف کے بعد اس بارے میں ثبوت ڈھونڈے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے لیے ائیر بس ایک کثیرالمنزلہ عمارت کی طرح تھی جس میں نو سو اپارٹمنٹ تھے اور انھیں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ثبوت تلاش کرنے کے لیے پہلے کونسے اپارٹمنٹ میں جایا جائے۔

یوسر خلیل ایک بین الاقوامی اکاونٹنگ کمپنی ‘ایف آر اے’ کے لیے کام کرتی ہیں جو دنیا بھر میں کاروباری کمپنیوں کے قانونی معاملات سے متعلق فورنزک تحقیقات کرتی ہے۔

لیکن یہ معاملہ ذرا مختلف تھا اور ایف آر اے کو ملنے والا سب سے بڑا کام تھا۔ ’ڈیفرڈ پراسیکیوشن ایگریمنٹ‘ کی سہولت حاصل کرنے کے لیے ایئر بس نے سنہ 2016 میں اپنے تمام کاروباری معاملات کی تفصیلی تحقیقات کرانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

کمپنی میں بدعنوانی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ایئر بس نے برطانیہ، امریکہ اور فرانس میں ریگولیٹرز یعنی نگران اداروں کے ساتھ معاہدے کیے تھے جس کے تحت اس نے فراڈ اور رشوت کے معاملات کا اعتراف کرتے ہوئے تین ارب پاؤنڈ جرمانے کے طور پر ادا کیے تھے۔

محترمہ خلیل اور ان کی ستر افراد پر مشتمل ٹیم کو فائلوں کے ایک سمندر کا سامنا تھا جن میں دنیا بھر میں کمپنی کے کاروباری سودوں کی تفصیلات اور ای میلز درج تھیں اور جن میں سے زیادہ تر معمول کی معلومات تھیں۔

ایئر بس

Getty Images

تو پھر انھوں نے اپنا کام مکمل کرنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا؟

مصنوعی ذہانت اور ایسے جدید ترین کمپیوٹروں نے، جو آپ کے پی سی سے بالکل مختلف تھے، اس تاریخی تلاش میں بہت اہم کام کیا۔ پچاس کروڑ دستاویزات اور سودوں کو کھنگالا جانا تھا۔

ڈیٹا اور اعداد و شمار میں بے اندازہ اضافہ ہونے کی وجہ سے اس قسم کی تحقیقات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

دستاویزات کی نقول اور غیر ضروری مواد چھانٹنے کے بعد بھی چھ کروڑ دستاویزات کی چھان بین کی جانی تھیں۔ مصنوعی ذہانت نے تمام دستاویزات کو کھنگالا اور ایسی چیزوں کی نشاندہی کی جو معمول سے ہٹ کے نظر آتی تھیں مثال کے طور پر دس کروڑ ڈالر کی کھیلوں کے کسی مقابلے کی ‘سپانسر شپ’۔

اس تمام تفتیش میں ایئر بس کے اسٹاف کے ساتھ تعلقات کیسے رہے؟

محترمہ خلیل کا کہنا تھا کہ کوئی بھی اس طرح کی چھان بین کرانے کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہوتا لیکن ایئر بس میں ان کے ساتھ کام کرنے والے انتہائی معاون اور مدد گار ثابت ہوئے۔

جب بھی ریگولیٹر کی طرف سے انھیں کچھ کرنے کا کہا گیا انھوں نے اس کی فوری تعمیل کی۔

چھ کروڑ دستاویزات کی چھان بین ہی کم کام نھیں تھا کہ ان دستاویزات پر قانونی اختیار دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایئر بس کے آٹھ سو ملازمین کے پاس تھا۔

ایئر بس

Getty Images

ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والی کمپنی ایف آر اے کے بانی شراکت دار گریگ میسن کا کہنا تھا کہ یہ معلومات مختلف کمپیٹروں، لیپ ٹاپس، یو ایس بی ڈرائیوز اور مواد ذخیرہ کرنے والے آلات پر بکھری ہوئی تھیں اور اس بات کا تعین کیا جانا تھا کہ ان کا مالک کون ہے۔

سات محفوظ تحقیقاتی سائٹ بنائی گئیں۔ اس طریقہ سے دستاویزات کے مکمل تحفظ کے ساتھ تجزیے کو یقینی بنانے میں مدد ملی جو ائیر بس کے لیے انتہائی نازک معاملہ تھا۔ یہ ایک بہت پھیلا ہوا کاروبار تھا جس کا تعلق مغربی ملکوں کے کئی جہاز سازی کے منصوبوں سے بھی تھا۔

لہذا تحقیقات کو اس احتیاط کے ساتھ مکمل کرنا تھا کہ جو مواد کس ملک کے لیے انتہائی حساس نوعیت کا ہو اسے محفوظ رکھا جائے۔

خصوصی طور پر تیار کیے گئے سافٹ ویر کے استعمال سے یہ ممکن بنایا گیا کہ دستاویزات کو مکمل طور پر پڑھنے کے بجائے صرف مطلوبہ معلومات کو دیکھا جائے۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ ڈالر کی مالیت کے جدید کمپیوٹروں کو استعمال کیا گیا، جن میں ایک سے زیادہ ڈسک کام کر سکتیں تھیں اور جن کا انٹرنیٹ سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔

مصنوعی ذہانت

Getty Images

اس کو سائنسی اصطلاح میں 'ایئر گیپنگ' کہا جاتا ہے کہ جس سے حساس نوعیت کی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے انٹرنیٹ سے منسلک نہیں کیا جاتا۔

مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اسسٹڈ ریویو (ٹی اے آر) کی اساس ہے۔

مصنوعی ذہانت ای میلز جیسے’ان سٹکرچرڈ ڈیٹا’ کو تلاش کرنے کے لیے مہارت رکھتی ہے۔ یہ کام بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ ‘سٹرکچرڈ ڈیٹا’ کالموں کی شکل میں ہوتا ہے۔

’مشین لرنگ’ کے اصول پر مصنوعی ذہانت کا سافٹ ویر مخصوص پیغامات کی مختلف مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تعین کرتا ہے کہ یہ پیغام کس زمرے میں آتا ہے۔ اس طریقے سے ایف آر اے تیز رفتاری سے دستاویزات نکالنے میں کامیاب رہی۔

میسن کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت صرف ان پیغامات کے سیاق و سباق کو دیکھتی ہے اور سیاق و سباق ہی سب کچھ ہوتا ہے۔

یہ سافٹ ویئر رشوت کے طور پر ادا کی گئی رقوم کی تلاش میں تھا جن کے لیے مختلف کوڈ استعمال کیے جاتے تھے جیسے کہ ڈاکٹر کی طرف سے تجویز کردہ دوائیاں۔

میسن نے مزید کہا کہ ‘مصنوعی ذہانت کی یہ خوبصورتی اور جادو تھا کہ جب خفیہ ادائیگیوں کی زیادہ سے زیادہ مثالیں سامنے آتی گئیں تو اس کا خود بخود سیکھنے کا عمل زیادہ سے زیادہ موثر ثابت ہونے لگا۔’

میسن کے اندازے میں صرف پانچ فیصد دستاویزات جو علیحدہ کی گئیں اور ان کی لوگوں نے چھان بین کی لیکن اس کے باوجود یہ تیس لاکھ فائلیں بنتی تھیں۔

چار سال چلنے والی یہ تحقیقات بہت تفصیلی تھیں۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے ذریعے فراڈ کو بے نقاب کرنے سے ٹیم کو بہت اطمینان حاصل ہوا۔ اور ان کی محنت پر قانونی توثیق کی مہر بھی ثبت کی گئی۔

انگلینڈ میں سول کورٹ کے اعلیٰ ترین ججوں میں شامل ڈیم وکٹوریہ شارپ نے اس سارے معاملے کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہونے والی ان تحقیقات کے بہت دور رس نتائج ہوں گے۔

تین ملکوں میں چلنے والے اس مقدمے میں برطانیہ کی طرف سے انھوں نے سنہ 2020 میں کہا تھا کہ ایئربس نے حقیقی طور پر اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال ہے اور اب یہ اس کمپنی سے ایک مختلف کمپنی ہے جس میں بدعنوانیاں ہوئی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17861 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp