کورونا وائرس: عالمی وبا کے ابتدائی مرکز ووہان میں ایک سال بعد زندگی کیسی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Two people walk down an empty street in Wuhan, 27 January 2020
Getty Images
آج سے ٹھیک ایک برس قبل یعنی 23 جنوری 2020 کو دنیا میں کورونا کی وبا کے باعث کسی شہر میں پہلا لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا۔ یہ لاک ڈاؤن چین کے شہر ووہان میں نافذ کیا گیا تھا، یہ وہی شہر ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کووڈ 19 کی وبا کی ابتدا یہاں سے ہوئی تھی۔

جب چین کے حکام نے ووہان میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا اور وہاں سخت پابندیاں عائد کی گئیں تو اس وقت پوری دنیا نے اسے حیرانی کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ جنوری کے آخر سے جون تک یہ شہر حقیقی معنوں میں چین اور باقی دنیا سے مکمل طور پر منقطع کر دیا گیا تھا۔

اگرچہ یہ ایک بھاری قیمت تھی جو ووہان کے شہریوں کو ادا کرنی پڑی مگر اس وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے واحد موثر طریقہ یہی تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جب کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو چین نے کیا کیا؟

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

آخر کورونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

آج ٹھیک ایک سال بعد دنیا چین کے اس طریقے، یعنی لاک ڈاؤن‘ کو وائرس سے نمٹنے کا ایک کامیاب طریقہ قرار دے رہی ہے اور دنیا بھر کے مختلف شہر وبا کے زور کو کم کرنے کے لیے شہروں میں لاک ڈاؤن نافذ کر رہے ہیں۔

تو آخر چین نے گذشتہ ایک سال کا یہ سفر کیسے طے کیا؟

چینوبا سے کیسے نمٹا؟

A woman wearing a face mask walks past a poster of late Li Wenliang in Prague

Reuters

سنہ 2019 کے آخر میں ووہان کے حکام کو ایک انوکھی بیماری (کووڈ 19) کی اطلاعات ملنی شروع ہو چکی تھیں مگر انھوں نے قدرے سستی سے کام لیا اور اس شہر کے لاکھوں شہریوں کی نقل و حمل پر کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ یہ وہ وقت تھا جب نئے چینی سال کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور روایتی طور پر ان تقریبات کی مناسبت سے زیادہ لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کرتے ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں عالمی ادارہ صحت کی ایک عبوری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبا سے متعلق چین کا ابتدائی ردعمل درست نہیں تھا کیونکہ صحت عامہ کے حفاظتی اقدامات کو زیادہ سختی سے لاگو کیا جانا چاہیے تھا۔

مگر جب ایک بار چینی حکام کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا تو انھوں نے سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔

23 جنوری کو چینی نئے سال سے دو روز قبل ووہان کی سڑکوں پر ہو کا عالم ہو گیا، چہرے پر ماسک اور سماجی دوری اختیار کرنا لازمی قرار دیا گیا۔

ہسپتالوں پر شدید دباؤ کے باوجود حکام نے دنیا کو حیران کر دیا کہ انھوں نے کیسے چند دنوں میں فیلڈ ہسپتال تعمیر کر لیے۔

مگر ان اقدامات کے باوجود وہاں کے رہائشی جیسا کہ ونجن وانگ خوف میں مبتلا تھے۔

ونجن نے بی بی سی کو بتایا کہ کیسے اُن کے چچا اس وبا کے ہاتھوں ہلاک ہوئے اور ان کے والدین بیمار تھے مگر امداد حاصل کرنا ناممکن تھا۔ ووہان میں وبا کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات کو اگلے ایک ماہ میں چین کے مختلف شہروں میں نافذ کیا گیا اور فوری لاک ڈاؤن اور بڑے پیمانے پر تیزی سے کورونا ٹیسٹنگ کی گئی۔

ادھر چین میں داخلے کو سخت بارڈر کنٹرول اور قرنطینہ کے ذریعے کنٹرول کیا گیا۔

اور یہ سب کرتے ہوئے چینی حکام نے معلومات کے پھیلاؤ کو سختی سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ تاہم یہ معاملہ بار بار سر اٹھاتا رہا۔

جن ڈاکٹروں نے ابتدا میں وبا کے بارے میں خبردار کرنے کی کوشش کی تھی انھیں یا تو سزائیں ہوئیں یا پھر خاموش کروا دیا گیا۔ ان میں سے سب سے مشہور ڈاکٹر لی ونگلیانگ تھے جو بعد میں خود کورونا کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے۔

خبر رساں اداروں کو ووہان سے رپورٹنگ نہیں کرنے دی گئی اور صحافیوں کو خاموش کروایا گیا۔ حال میں ان میں سے ایک کو چار سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کیا یہ اقدامات کامیاب رہے؟

متاثرین

Getty Images

اگرچہ چین میں نافذ کیے ابتدائی لاک ڈاؤنز کو مبصرین نے انتہائی شدید قرار دیا مگر ایک سال بعد سرکاری ڈیٹا شاید ان اقدامات کا جواز پیش کرتا ہے کیونکہ چین کے وہ علاقے جہاں سخت لاک ڈاؤن نافذ کیے گئے تھے وہاں پر قدرے کم ہلاکتیں ہوئیں اور کم تعداد میں کیسز سامنے آئے۔

چین میں اندراج شدہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہے جبکہ وہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4800 ہے۔

دیگر ممالک کے برعکس چین میں ابتدائی پھیلاؤ کے بعد کیسز کی تعداد تیزی سے گری ہے اور دوسری لہر کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

تاہم چینی ڈیٹا میں ان کیسز کا شمار نہیں ہے جن مریضوں میں علامات سامنے نہیں آئیں۔

ووہان میں اب زندگی کیسی ہے؟

Passengers wearing protective face masks walk with their luggage after arriving to Hankou railway station, in Wuhan, China, 21 January 2021.

EPA

ایک سال بعد اب اس شہر میں زندگی کی رونقیں پہلے کی طرح بحال ہو چکی ہیں۔ گذشتہ ہفتہ بی بی سی نے اس شہر کا ایک دورہ کیا اور شہریوں سے دریافت کیا کہ اب ان کی زندگی کیسی گزر رہی ہے۔

تاہم چینی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر عائد کردہ سینسر شپ کی بدولت یہ معلوم کرنا مشکل ہوا کہ کیسے ووہان اور چین کے دیگر شہروں کے باسی لاک ڈاؤن کی سختیوں سے نمٹے اور لاک ڈاؤن نے ان کی زندگیوں پر کیا اثرات چھوڑے۔

مگر ووہان کے شہریوں سے ہونے والی بات چیت سے پتا چلا کہ ایک بات یقینی ہے کہ گذشتہ ایک سال میں پیش آنے والے واقعات نے لوگوں کو ذہنی طور پر ضرور متاثر کیا ہے۔ ووہان کے بہت سے شہری جن سے ہم نے بات کی وہ بین الاقوامی میڈیا سے بات کرنے پر پریشان دکھائی دیے۔

ووہان کے شہری ہان میمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگرچہ شاید ایسا ہوتا نظر نہ آئے مگر ایک بات یقینی ہے کہ کہ اس عالمی وبا نے لوگوں کے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔‘

’اس شہر کے بہت سے باسی ذہنی اذیت سے گزرے ہیں۔‘

بیجنگ کے ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ریاستی پراپیگنڈا کے زیر اثر چین کے بہت سے شہریوں کا خیال ہے کہ چین اس وبا سے دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت بہت موثر انداز میں نمٹا ہے۔‘

بہت سے دوسرے شہریوں کے بقول یہ وبا لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب لائی ہے اور اب لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔

ووہان کے ایک طالبعلم نے بتایا کہ ’وبا سے پہلے، ہر دوسرا شخص غصیلا اور جلدی میں نظر آتا تھا۔۔۔ مگر وبا کے بعد لوگ زندگی کے حوالے سے زیادہ شکر گزار ہوئے ہیں اور ان کے دل دوسروں کے لیے زیادہ نرم ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس آفت نے لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے۔۔۔‘

چین کے دیگر شہروں میں صورتحال کیا ہے؟

Doctor wearing PPE holding a baby

Reuters

چین میں حکام کورونا کی دوسری ممکنہ لہر کے پیش نظر کافی چوکنے ہیں۔ حال ہی میں چند شہروں میں کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ان علاقوں کو قرنطینہ کیا گیا اور وہاں ٹیسٹنگ کی گئی۔

تاہم مجموعی طور پر نئے کیس سامنے کی شرح انتہائی کم رہی ہے تاہم حالیہ ہفتوں میں کیسز میں اضافے نے حکام کو پریشان ضرور کیا ہے۔ گذشتہ دنوں میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد گذشتہ پانچ ماہ میں سب سے زیادہ رہی ہے۔

چین میں صحت حکام کی توجہ کی مرکز اب ملک کا شمال مشرقی حصہ ہے۔ اس حصے میں موجود صوبوں میں لگ بھگ ایک کروڑ نوے لاکھ شہری لاک ڈاؤن کے تحت رہ رہے ہیں۔

اس وبا نے بلخصوص اور وقفے وقفے سے لگنے والے لاک ڈاؤن نے بالعموم معیشت پر گہرا اثر چھوڑآ ہے۔ لاکھوں افراد کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے اور گذشتہ چار دہائیوں میں چین میں ترقی اور معاشی نمو کی شرح سب سے کم رہی ہے۔ مگر اگر دنیا کے مقابلے میں بات کی جائے تو چین کی معیشت بہت جلد ان اثرات سے نکل کر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صورتحال میں واپس آ رہی ہے۔

چین کے بہت سے علاقے دوبارہ نارمل زندگی کی طرف پلٹ چکے ہیں اور اب ایک سال بعد لوگ دوبارہ چین کے نئے سال کی بات کر رہے ہیں اور لاکھوں لوگ نئے سال کی تقریبات کا اہتمام کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

مگر دوسری جانب بہت سے لوگوں کے دلوں میں یہ خدشہ ہے کہ نئے سال کے شروع میں ہونے والے بہت زیادہ سفر کے باعث وبا دوبارہ سے سر نہ اٹھا لے۔

اور نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں کی پہلی ترجیح اس وقت ویکسینیشن ہے۔

Various medical syringes seen with Sinovac Biotech company logo displayed on a screen in the background.

Getty Images

گذشتہ سال جون میں چینی کمپنیوں سائنوویک اور سائنوفارم کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کو ہنگامی بنیادوں پر استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اور اس کی پہلی خوارکیں ملازمین، صحت کے حکام کو دی گئی تھیں۔ یاد رہے کہ اس وقت تک ان ویکسینز کے کلینیکل ٹرائلز مکمل نہیں ہوئے تھے۔ جبکہ کئی شہریوں نے جو استطاعت رکھتے تھے انھوں نے مارکیٹ سے خرید کر یہ ویکسین لگوائی تھی۔

یہ ویکسینز کتنی موثر ہیں اس پر آراء مختلف ہیں۔ چین میں حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ نئے سال سے قبل وہ پانچ کروڑ شہریوں کو ویکسین لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

چین کی یہ کوشش بھی ہے کہ وہ دنیا کی اس سوچ کو تبدیل کرے کہ اس وائرس کی ابتدا چین سے ہوئی۔

چینی حکام پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انھوں نے ابتدا میں دنیا سے اس وائرس کو چھپایا تھا۔

چین کا اب یہ کہنا ہے کہ اگرچہ ووہان شہر میں وبا کا پہلا کلسٹر سامنے آیا تھا مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وبا کا آغاز اس شہر سے شروع ہوا تھا۔

چین کے ریاستی میڈیا نے حال ہی میں یہ دعوے کیے ہیں کہ اس وبا کا آغاز چین کے باہر ہوا تھا، شاید سپین، اٹلی اور یہاں تک کہ امریکہ میں۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چین میں یہ وائرس منجمد خوراک (فروزن فوڈ) کے ذریعے پہنچا۔ ماہرین اس دعوے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

رواں ماہ عالمی ادارہ صحت کی ایک ٹیم چین کے شہر ووہان پہنچی ہے تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وائرس کی ابتدا کیسے اور کہاں سے ہوئی۔ ماہرین کو اس ڈیٹا اور معلومات پر بھی شک ہے جو چین کے حکام اس ٹیم کو دیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی یہ تحقیقات شاید اتنی جامع نہ ہوں کیونکہ ان تحقیقات کی ابتدا ووہان میں وبا پھوٹنے کے ایک سال بعد کی جا رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17886 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp