دیپ جلتے رہے (قسط 32)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دیر بعد سرکاری اور عسکری اداروں کے اہل کار آ گئے انہوں نے سب کو منتشر کرنا شروع کر دیا۔ کیوں کہ دونوں اطراف کے اپارٹمنٹ کے بلاکس کے منہدم ہونے کا خطرہ تھا۔ مگر جن کے پیارے لاپتہ تھے۔ انہیں کسی بات کی پروا نہ تھی۔ وحشت کے عالم میں کوئی ہسپتال بھاگ رہا تھا تو کوئی ملبہ ہٹنے اور کوئی کسی معجزے کی آس لگائے بیٹھا تھا۔

احمد اور میں اپنے اپارٹمنٹ کے مین گیٹ پر آ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ جان سے جانے والوں کی بھی خبر دے رہے تھے۔ ہم اس علاقے میں دس سال سے مقیم تھے۔ کئی لوگوں سے بہت اچھے مراسم تھے، کسی سے خلوص اور کسی سے دل کا رشتہ تھا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ رافع چلا گیا۔ مہدی بھائی بھی گزر گئے، عامر بھی چلا گیا۔ نہیں عامر کیسے جا سکتا ہے ، وہ بہت بہادر انسان تھا۔

بھابی اس کی ایک ٹانگ ملی ہے، اس کے بھائی نے اسے پہچانا ہے۔ عامر ایم کیو ایم کا سرگرم کارکن تھا۔ کیبل انچارج بھی تھا۔ کل رات گیارہ بجے وہ احمد کے ساتھ آ گیا تھا۔ میں نے اسے چائے دیتے ہوئے پوچھا تھا کہ سارے نیوز چینل کیوں بند ہیں، اس نے بتایا کہ فیس کی عدم ادائیگی کی بنا پر کچھ گھنٹوں کے لیے بند کیے ہیں۔

غضنفر بھی ختم ہو گیا۔ کسی نے احمد کو بتایا۔

ہائے وہ خوب صورت جوان بچہ،  دل دھک سے رہ گیا۔ یقین کرنے کو جی نہ چاہا۔ ہم نے الجھتے ہوئے کپکپاتی آواز میں سوال کیا۔

غضنفر تو گلستان جوہر میں رہتا تھا؟

بتایا گیا کہ وہ ماں باپ سے ناراض ہو کر آ گیا تھا۔ یہیں دو کمروں کی فلیٹ میں اپنے دوست کے پاس رہنے لگا تھا۔

حد ہی ہو گئی ایسی بھی کیا ناراضی۔

تین بہنیں گیلری میں کھڑی تھیں۔ تینوں ختم۔ ایک بوڑھے نے خبر پڑھنے والے انداز میں غیر جذباتی لہجے میں اطلاع دی۔

شانی کی بیوی اور شیر خوار بچہ موقع پر ختم ہو گئے۔ وہ اپنے بچے کو فیڈ کرا رہی تھی۔ بم کا ایک جلتا ہوا ٹکڑا ان کے اوپر آ کر گرا۔

سر پھٹنے لگا تھا ایسی اندوہناک خبریں سن کر، اب ہمیں اپنے بچوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ شکر ہے آپ لوگ خیریت سے ہیں، مجھے اس جملے پر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ جہاں ایک کے بعد ایک کے خاک ہونے کی خبر مل رہی ہو،  وہاں میرے یا کنبے کے کسی فرد کے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑ جاتا۔

سوچیے مت کیا یہ تماشا کیا ہے روتے رہیے ہنستے رہیے
ہونا کیا ہے نہ ہونا کیا ہے روتے رہیے ہنستے رہیے

دونوں بڑے بچے رات کے کسی پہر آئے، نہا کر کپڑے تبدیل کیے اور بستر پر لیٹ گئے۔ دس بارہ گھنٹے بعد بجلی بحال ہو گئی۔ لیکن دل میں چھایا اندھیرا ختم نہ ہو سکا۔ رات بھر ایمبیولینسوں کے سائرن خاموش ہوئے نہ ہماری پلکیں ایک دوسرے سے جڑ سکیں۔

صبح سویرے ہم فلیٹ سے نیچے اترے، ہماری نظر بچوں کے کپڑوں پر پڑی۔ شاید غلطی سے نیچے گر گئے یہ سوچ کر ایک شرٹ اٹھائی کہ یہ رامش کی شرٹ تھی۔ جس پر خون کے لوتھڑے چپکے ہوئے تھے۔ رشی کی بلیو جینز پر بھی عنابی پھول ٹنکے ہوئے تھے۔

ہم نے تمہیں جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ہے۔ آیت باری ذہن میں گونجی۔

یہ جمے ہوئے خون کا لوتھڑا اور جانے کتنے لوتھڑے مل کرانسان کو مکمل کرتے ہیں۔ اور پھر ایک مکمل انسان انہیں لوتھڑا کر دیتا ہے۔ لوتھڑا کرنے اور جمانے پر کیا الگ الگ قوتیں قادر ہیں۔

بکھرے پھر اک وجود سے پیدا کیا عدم
سمٹے پھر اک عدم میں سمٹ کر چلے گئے

یقیناً ہمارے دل کے بگڑنے خیال سے بچوں نے اپنے کپڑے کھڑکی سے نیچے پھینک دیے ہوں گے۔ اعصابی تناؤ اور رات بھر کی جاگ کی وجہ سے اب دل میں کوئی احساس ہی باقی نہیں رہا تھا تو بگڑتا کیوں کر۔ ہم اپنے اپارٹمنٹ سے نکل کر گلی میں آئے۔ چشم تصور میں صبح عاشور جناب علی اکبر کی اذان کانوں میں گونجی۔ یہ تو کربلا کا منظر ہے، کچھ اس سے ملتے جلتے منظر ہی کی تو ذاکرین مصائب کربلا کی عکاسی کیا کرتے تھے۔ غبار، راکھ ، مٹی دھول، سسکیاں، آہیں، لٹے پٹے حواس باختہ چہرے۔ جلی ہوئی دو موٹر سائیکلیں، ایک رکشے کا ڈھانچہ بھی کھڑا تھا جس کے گرد ایک لڑکا بار بار چکر لگا رہا تھا، اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی۔

یہی بھائی کا رکشا ہے منی۔ نہیں یہ ابا کا رکشہ نہیں ہے۔ وہی نمبر پلیٹ ہے منی۔ ہو سکتا ہے بھائی زخمی ہوا ہو، اسے کوئی اسپتال لے گیا ہو، تم ڈرو مت، بھائی خیریت سے ہوں گے۔

پتہ چلا کہ رکشہ ڈرائیور جب رات گئے اپنے گھر نہ پہنچا تو کسی نے مشورہ دیا کہ عباس ٹاؤن میں دھماکہ ہوا ہے۔ کیا پتہ سواریاں لے کر اس علاقے میں گئے ہوں۔ یوں چچا بھتیجی اپنے پیارے کی تلاش میں دھڑکتا دل لیے یہاں تک آ گئے تھے۔ رکشہ کی حالت دیکھ کر چچا بھتیجی کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔

ایک عورت چیخ پکار کر رہی تھی کہ دھماکے کے وقت وہ سب گھر والے خریداری کے لیے نکلے ہوئے تھے۔ گھر تو تباہ ہو گیا لیکن ان کے گھر سے ساری قیمتی چیزیں بھی غائب ہیں۔ بلاسٹ نے اس موقع کو دھوکہ دینے والوں کے لیے مال غنیمت کے حصول کو ممکن بنا دیا تھا۔

صبح کا ہلکا اجالا تھا۔ مگر جیسے رات ٹھہری ہوئی تھی۔ ملبے کو پھلانگتے اس اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے۔ جس کے گیٹ کے سامنے بلاسٹ کیا گیا تھا۔ اسد کی ماں پریشان حال بیٹھی ہوئی تھی۔ اسد کو چند ماہ پہلے ہی ہم نے گھر پر پڑھایا تھا۔ بہت پیارا بچہ تھا۔ اسد کی ماں کو اس عالم میں بیٹھا دیکھ کر دل دھک سے رہ گیا۔

اسد اپارٹمنٹ کی بک شاپ سے کاپی لینے گیا تھا۔ سارے ہاسپٹل اس امید پر چیک کیے جا چکے تھے کہ شاید زخمی ہونے کی وجہ سے کوئی اسے وہاں لے گیا ہو۔ ماں کو امید تھی کہ ابھی وہ کہیں سے آ جائے گا۔ ہو سکتا ہے وہ ڈر کے کہیں چھپ گیا ہو۔ وہیں کھڑی ہوئی ہماری ایک جاننے والی نے بتایا کہ اسد کے چچا نے اس کی سوختہ لاش کچھ مخصوص نشانیوں کی وجہ سے پہچان لی ہے۔ لیکن اب تک وہ اپنے بھائی اور بھابھی کو حقیقت بتانے کی ہمت نہ جٹا پایا تھا۔

اپارٹمنٹ میں قائم امام بارگاہ پہنچی، یہ وہی امام بارگاہ تھی جس کے سامنے ہم کچھ ماہ قبل ہی رہتے تھے۔ اسے عامر نے ہی تعمیر کروایا تھا۔ امام بارگاہ میں لوگ آ جا رہے تھے۔ ہر دوسرے روز جس بارگاہ میں سوئم، چہلم، مجلس، ماتم ہوا کرتا تھا۔ موت کی ایسی روح فرسائی کے باوجود، آج کسی میں نوحہ، مرثیہ، فضائل، مصائب پڑھنے کی ہمت تھی نہ بین اور ماتم کی سکت تھی۔ سناٹے میں کسی خاتون کی دبی دبی سسکی ابھر جاتی۔ کسی کا پیارا اب تک لاپتا تھا تو کسی کا اسپتال میں تھا، جب کہ بہت سی خواتین کا غم ان کے پیاروں کی سانس کی طرح، ان کے دل میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر چکا تھا۔

جاری ہے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •