انڈیا کی کورونا وائرس ویکسین: کوویکسین اور کوویشیلڈ کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

An Indian Health official displays a COVID-19 vaccine manufactured by the Serum Institute of India, at the All India Institute Of Medical Sciences (AIIMS) in Bhopal , India,16 January 2021
EPA
کورونا وائرس ویکسینیشن مہم کے آغاز کے ایک ہفتے بعد انڈیا نے ویکسین کی لاکھوں خوراکیں اپنے کچھ پڑوسی ملکوں کو روانہ کی ہیں جسے ’کووڈ ڈپلومیسی‘ کہا جا رہا ہے۔

انڈیا کے ڈرگ ریگولیٹر نے کوویشیلڈ (برطانیہ میں تیار آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین کا مقامی نام) اور مقامی طور پر تیار کردہ کوویکسین کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ کوویکسین کو بھارت بائیوٹیک نامی کمپنی نے تیار کیا ہے۔

انڈیا کوویکسین تیار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں دنیا میں تیار ہونے والی ویکسینز کا ساٹھ فیصد حصہ تیار ہوتا ہے۔

لیکن ہم ان انڈین ویکسینز کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

کوویکسین کیسے کام کرتی ہے؟

کوویکسین بھارت بائیوٹیک کمپنی نے تیار کی ہے۔ بھارت بائیوٹیک کو 24 سال پہلے قائم کیا گیا تھا اور اس وقت یہ کمپنی سولہ ویکسینز تیار کرتی ہے، جنھیں 123 ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ویکسین لگوانے کے بعد کیا لوگوں میں اس کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں؟

کوویکسِن: انڈیا نے مقامی ویکسین آزمائش مکمل ہونے سے پہلے ہی کیوں منظور کرلی؟

عالمی وبا کے ابتدائی مرکز ووہان میں ایک سال بعد زندگی کیسی ہے؟

پاکستان کورونا ویکسین کی خریداری کا معاہدہ کرنے میں ’تاخیر کا مرتکب‘

یہ ایک ’غیر فعال‘ ویکسین ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ ہلاک شدہ کورونا وائرس سے تیار کی گئی ہے اور اس کا انسانی جسم میں داخلہ محفوظ ہے۔

بھارت بائیوٹیک نے اس ویکسین کی تیاری کے لیے کورونا وائرس کے ان نمونوں کو استعمال کیا جنھیں انڈین انسٹیٹوٹ آف وائرالوجی نے الگ کیا ہے۔

جب یہ ویکسین لگائی جاتی ہے تو انسان کا مدافعاتی نظام وائرس کے ان مردہ سیلز کو پہچان کر متحرک ہو جاتا ہے اور وائرس سے بچاؤ کے لیے اینٹی باڈیز تیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔

کوویکسین

Getty Images
کوویکسین حیدرآباد میں قائم کمپنی بھارت بائیوٹیک میں تیار کی گئی ہے

چار ہفتوں میں اس کی دو خوراکیں دی جاتی ہیں اور اسے دو سینٹی گریڈ سے آٹھ سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر رکھا جا سکتا ہے۔

بھارت بائیوٹیک کا کہنا ہے کہ وہ دو کروڑ خوراکیں تیار کر چکی ہے اور اس برس کے اختتام تک اپنی چار کمپنیوں میں ستر کروڑ خوراکیں تیار کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

کوویکسین کا تنازع کیا ہے؟

کوویکسین کا تنازع ریگولیٹر کے اس بیان سے شروع ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ کوویکسین کو ’ایمرجنسی کی صورتحال میں عوامی مفاد کی خاطر احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

ریگولیٹر کے اس بیان نے ماہرین کو حیران و پریشان کر دیا کہ ایسی ویکسین جس کی ’طبی جانچ‘ کا کا مرحلہ مکمل نہیں ہوا ہے، اسے لاکھوں مجبور افراد پر استعمال کرنے کی اجازت کیسے دے دی گئی ہے۔

لیکن انڈین ڈرگ ریگولیٹر اور کوویکسین تیار کرنے والی کمپنی کا اصرار ہے کہ یہ ویکسین استعمال کے لیے محفوظ ہے اور اس سے مدافعاتی نظام کو بہت مدد ملتی ہے۔

آل انڈیا ڈرگ ایکشن نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ ویکسین کو تیاری کے آزمائشی مراحل کے دوران استعمال کی اجازت کا منطق سائنس اصولوں پر نہیں ہے۔

آل انڈیا ڈرگ ایکشن نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اس کے موثر ہونے کے بارے میں معلومات کی غیر موجودگی میں اس ویکسین کے بارے میں شدید تحفظات موجود ہیں۔

بھارت بائیوٹیک نے اپنی ویکسین کی منظوری کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ انڈیا کے قوانین ویکسین کے ٹرائل کے دوسرے مرحلے میں ملک کو موذی مرض سے لاحق خطرات کو بچانے کے لیے اسے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ کمپنی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ فروری میں اس ویکسین کے موثر ہونے کے حوالے سے ڈیٹا مہیا کرے گی۔

کوویشیلڈ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

انڈیا کا سیرم انسٹی ٹیوٹ آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین کی مقامی طور پر تیاری کر رہا ہے۔ یہ دنیا میں ویکسین بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماہ میں پانچ کروڑ سے زیادہ خواکیں تیار کر رہے ہیں۔

یہاں اسے کوویشیلڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے چمپینزی میں پائے جانے والے ایک بخار کے وائرس (ایڈینو وائرس) سے بنایا گیا ہے۔ وائرس کی شکل بدل کر اسے کورونا وائرس جیسا دکھایا گیا۔ اس سے کوئی شخص بیمار نہیں ہوسکتا۔

کوویشیلڈ

Getty Images
انڈیا کا سیرم انسٹی ٹیوٹ آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین کی مقامی طور پر تیاری کر رہا ہے

جب ویکسین کسی شخص کے جسم میں داخل ہوتی ہے تو جسم اینٹی باڈیز بنانا شروع کر دیتا ہے جس کا مقصد کورونا وائرس کے کسی حملے کو ناکام بنانا ہوتا ہے۔

چار اور 12 ہفتوں کے فاصلے سے اس ویکسین کی دو خوراکیں دی جاتی ہیں۔ اس ویکسین کو دو سینٹی گریڈ سے آٹھ سینٹی گریڈ کے درمیانی درجہ حرارت پر سٹور کیا جاسکتا ہے، یعنی کسی عام گھر سے فریج میں بھی یہ ممکن ہے۔ ڈاکٹر اسے عام سرجیکل سامان کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔

اس طرح اس ویکسین کو دوسروں کی نسبت زیادہ آسانی سے فراہم کیا جاسکتا ہے۔

جو خوراک فائزر بائیو این ٹیک نے تیار کی ہے اور کئی ملکوں میں اس کا استعمال جاری ہے۔ اسے صرف منفی 70 سینٹی گریڈ پر سٹور کیا جاسکتا ہے اور اس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی محدود ہوتی ہے۔ یہ انڈیا میں ایک مشکل ہوسکتی ہے جہاں درجہ حرارت گرمیوں میں 50 سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

کوویشیلڈ کتنی موثر؟

بین الاقوامی آزمائش میں آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین کے نتائج 90 فیصد موثر ظاہر ہوئے ہیں۔ یہ تب ممکن ہوا جب لوگوں کو پہلے آدھی خوراک اور پھر مکمل خوراک دی گئی۔

لیکن اس طریقہ کار کے موثر ثابت ہونے کے لیے واضح ڈیٹا یا شواہد اب بھی نہیں ہیں۔

غیر شائع شدہ تحقیق کے مطابق پہلی اور دوسری خوراک میں دورانیہ بڑھانے سے یہ ویکسین زیادہ کارآمد ثابت ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں ظاہر ہوا کہ پہلی خوراک کے بعد ویکسین نے 70 فیصد موثر نتائج دیے۔

سیرم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق کووی شیلڈ بہت زیادہ کارآمد ہے اور اس کے پیچھے برازیل اور برطانیہ کی تیسرے مرحلے کی تحقیق کی معلومات ہے۔

طبی آزمائش میں تین مرحلوں پر مشتمل طریقہ کار ہوتا ہے جس میں دیکھا جاتا ہے کہ آیا ایک ویکسین انسانوں میں کسی بیماری کے خلاف مدافعتی عمل کو بہتر کرتی ہے اور اس کے منفی اثرات کو بھی دیکھا جاتا ہے۔

لیکن آل انڈیا ڈرگ ایکشن نیٹ ورک نامی تنظیم نے کہا ہے کہ ابھی تک کمپنی نے انڈین شہریوں پر اس ویکسین کے نتائج پر تحقیق نہیں کی اور منظوری کا عمل تیزی سے کیا گیا ہے۔

کمپنی نے کہا ہے کہ وہ فروری میں انڈیا میں ویکسین کی آزمائش کی تحقیق شروع کرے گی۔ کچھ ماہرین کے مطابق اس ویکسین کے موثر ہونے میں کوئی شک نہیں کیونکہ تمام طبی آزمائش ہوئی ہے جس میں مختلف عمروں اور نسلوں کے لوگ شامل تھے۔

اور کون سی ویکسین تیار ہوئی ہے؟

انڈیا میں مزید کچھ ویکسینز پر طبی آزمائش کے مراحل جاری ہیں جس میں ان کے منفی اثرات اور موثر ہونے کی جانچ ہو رہی ہے۔ ان میں یہ ویکسینز شامل ہیں:

  • زی کوو ڈی کو احمد آباد میں قائم کمپنی زیڈس کیڈیلا نے بنایا ہے۔
  • حیدر آباد میں قائم نجی کمپنی بائیولوجیکل ای بھی ایک ویکسین بنا رہی ہے۔ اس سلسلے میں اس نے ایک امریکی کمپنی ڈیناویکس اور بیلر کالج آف میڈیسن سے اشتراک کیا ہے۔
  • پونے میں جینووا نامی کمپنی انڈیا کی پہلی ایم آر این اے ویکسین بنا رہی ہے جس کا نام ایچ جی سی او 19 ہے۔ اس نے سیاٹل کی ایچ ڈی ٹی بائیوٹیک کاپریشن سے اشتراک کیا ہے اور اس سلسلے میں مدافعتی عمل کو بہتر کرنے کے لیے جینیاتی کوڈ استعمال کیا گیا ہے۔
  • بھارت بائیوٹیک نے ناک کے ذریعے دی جانے والی نیزل ویکسین بنائی ہے۔
  • ڈاکٹر ریڈیز لیب اور روس میں گمالیا نیشنل سینٹر نے سپوتنک فائیو ویکسین بنائی ہے۔
  • امریکی کمپنی نووا ویکس اور انڈیا کے سیرم انسٹی ٹیوٹ نے ایک دوسری ویکسین بھی تیار کی ہے۔

انڈیا کی ویکسین لینے کے لیے کون سے ممالک راضی؟

بھوٹان، مالدیپ، بنگلہ دیش، نیپال، میانمار اور سیشلز کو یہ ویکسین برآمد کی گئی ہے۔

انڈیا نے بطور تحفہ اب تک صرف کوویشیلڈ ویکسین برآمد کی ہے اور اس کے باوجود سیرم نے ان ملکوں کے ساتھ کمرشل معاہدے طے کرنے ہیں۔

گذشتہ سال جون میں ایسٹرا زینیکا نے سیرم کے ساتھ ایک ارب خوراکیں بنانے کا معاہدہ طے کیا تھا جس کا ہدف کم یا درمیانی آمدن کے ممالک تھے۔ اس میں سنہ 2020 کے آخر تک 40 کروڑ خوراکیں فراہم کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا۔

انڈیا نے سری لنکا، افغانستان اور ماریشیس کو بھی نگراں ادارے کی کلیئرنس کے بعد ویکسین بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ اس نے برازیل کو کوویشیلڈ کی کمرشل درآمد کی کلیئرنس دے دی ہے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کے مطابق مقامی ضرورت اور بین الاقوامی طلب و ذمہ داری کو دیکھتے ہوئے پوری دنیا میں ویکسین برآمد کی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18486 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp