ایجنٹ 007: جیمز بانڈ کی نئی فلم ’نو ٹائم ٹو ڈائی‘ کی نمائش تیسری مرتبہ موخر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نو ٹائم ٹو ڈائی کے مرکزی کردار ڈینل کریگ فلم کے ڈائریکٹر کری جوجی فوکوناگا کے ساتھ
Bonhams
نو ٹائم ٹو ڈائی کے مرکزی کردار ڈینل کریگ فلم کے ڈائریکٹر کری جوجی فوکوناگا کے ساتھ
جیمز بانڈ سیریز کی نئی فلم 'نو ٹائم ٹو ڈائی' کی عالمی سطح پر نمائش ایک مرتبہ پھر اپریل کے بجائے اکتوبر تک موخر کر دی گئی جس پر فلم کے پروڈیوسرز کا کہنا ہے یہ سینما گھروں کے لیے ایک اور دھچکا ہے جو کورونا کی وباء سے تباہ ہونے والے اپنے کاروبار کو از سر نو جمانے کی کوشش میں ہیں۔

جیمز بانڈ کی ویب سائٹ اور ٹوئٹر فیڈ کے مطابق اس فلم کی عالمی سطح پر نمائش کی نئی تاریح آٹھ اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔

‘نو ٹائم ٹو ڈائی’ جو بین الاقوامی فلم ساز کمپنی ایم جی ایم اور کم کاسٹ کارپوریشن یونیورسل پکچرز نے بنائی ہے اور اس کو گزشتہ برس اپریل میں نمائش کے لیے پیش کیا جانا تھا لیکن کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے اس کی نمائش پہلے نومبر تک کے لیے موخر کی گئی اور پھر اسے اپریل 2021 تک بڑھا دیا گیا تھا۔

اس فلم جس کے بنانے پر 20 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے اس میں برطانوی اداکار ڈینل کریگ آخری مرتبہ فلم کے برطانوی خفیہ ایجنٹ 007 کے مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا کھیل اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا کورونا بحران برداشت کر پائے گی؟

ڈوسکو پوپوف: اصل جیمز بانڈ جو ایک ٹرپل ایجنٹ تھا

جیمز بانڈ فلم: ایک منٹ کا ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ معاوضہ

نو ٹائم ٹو ڈائی کا اشتہار نیو جرسی کے ایک خالی مال میں لگایا گیا ہے

Reuters

جیمز بانڈ 007 کے کردار پر اب تک 25 فلمیں بنائی جا چکی ہیں جو کہ شروع ہی سے دنیا بھر کے فلم بینوں کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث بنتی رہی ہیں اور انھوں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔

سینیما مالکان کا خیال ہے کہ ‘نو ٹائم ٹو ڈائی’ ایک ایسی فلم ہے جس سے فلم شائقین کو دوبارہ سینیما گھروں میں کھینچ لانے میں مدد ملے گی۔

کووڈ 19 کا فلمی صنعت پر اثر

کووڈ 19 نے سنہ 2020 میں سینیما کی صنعت کو تقریباً برباذ کر کے رکھ دیا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں فلم کے ٹکٹوں کی فروخت 80 فیصد تک گر گئی۔ اس کی وجہ سے سینیما گھروں کے مالکان اور اے ایم سی انٹرٹینمنٹ، سینی ورلڈ اور سینی مارک ہولڈنگ جیسی بڑی بڑی کمپنیاں جن کے دنیا بھر میں سینیما ہال ہیں بری طرح متاثر ہوئیں۔

امریکہ کی فلمی صنعت کی بڑی لاس اینجلس مارکیٹ اب بھی کووڈ کے خطرے سے باہر نکل نہیں پائی ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر امریکہ کی فلمی صنعت ہالی وڈ اپنی بڑے بجٹ کی فلمیں نمائش کے لیے جاری کرنے سے ہچکچا رہی ہیں۔

بہت سے سینیما گھر بند پڑے ہیں لیکن جو کھلے بھی ہیں ان میں سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی خاطر گنجائش سے بہت کم شائقین کو ٹکٹ فروخت کیے جا رہے ہیں۔

سینیما ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ خبر یقیناً مایوس کن ہے لیکن یہ قطعی غیر متوقع نہیں ہے۔ اس فلم میں فرانسیسی اداکارہ لیا سدو اور رمی ملک بھی اپنی اداکاری کے جوہری دکھاتے نظر آئیں گے۔

اس ہفتے کے شروع میں فلم ساز ڈینی بوئیل اور سر سٹیو میکوئن نے برطانوی حکومت سے سینیما مالکان کے مالی امداد کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ برطانیہ میں سینیما گھر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

سینیما گھر چلانے والی کمپنی سینی ورلڈ نے گزشتہ اکتوبر میں ’نو ٹائم ٹو ڈائی‘ کے موخر ہونے پر کہا تھا کہ اتنی بڑے بجٹ سے بننے والی فلم کو نمائش کے لیے پیش نہ کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ فلمی صنعت اب منافع بخش نہیں رہی۔

جمیز بانڈ کی فلم کی نمائش موخر کیے جانے کے بعد کئی اور بڑی بڑی فلموں کی نمائش کو موخر کر دیا گیا ہے۔ سونی نے اپنی فلم ’گھوسٹ بسٹر‘ کی نمائش کو بھی آگے بڑھا دیا ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=Og2vYP7VzUs

جمیز بانڈ کی فلم کو نمائش کے لیے جاری کرنے میں مزید تاخیر سے ان افواہوں کو تقویت ملی ہے کہ فلم کو سینیما میں دکھایا ہی نہیں جائے گا اور اس آئن لائن سٹریمنگ پر پیش کر دیا جائے گا۔

ڈزنی کمپنی کی بڑی فلم ’پکسر سول‘ اور ’ملان‘ کو سینیما میں پیش نہیں کیا گیا اس کے بجائے ان کو ڈزنی سٹریمنگ پر جاری کر دی گیا تھا۔

ونڈر وومن 1984 نامی فلم کو اسی دوران امریکہ میں ایچ بی او میکس سٹریمنگ پر اس دن دکھایا جانے لگا جس دن اس کو سینیما میں محدود نمائش کے لیے جاری کیا گیا۔

گزشتہ برس وانر برادرز نے 2021 میں پیش کی جانے والی اپنی فلموں کے بارے میں اعلان کیا جن میں سائنسی افسانوی فلم ’ڈیون‘ اور ’دی میٹرکس 4‘ شامل ہیں۔ ہالی وڈ اور سینیما مالکان کے درمیان بڑھتے ہوئِے تنازع کی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ ان فلموں کو بھی سٹریمنگ اور سینیما گھروں میں ایک ساتھ جاری کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے۔

اداکار ریمی ملک

Getty Images
ریمی ملک اس فلم میں ولن کا کردار ادا کر رہے ہیں

’دی ڈگ‘ کے نام سے بنائی گئی ایک تاریخی فلم جس میں رالف فائنز اور کیری مولیگن جلوہ افروز ہو رہے ہیں وہ برطانیہ کے سینیما گھروں میں اس ماہ نمائش کے لیے پیش کی جانی تھی لیکن اب یہ فلم 29 جنوری سے نیٹ فلکس پر دکھائی جائے گی۔

فائنز جو جیمز بانڈ کی نئی فلم میں اپنا پرانا کردار نبھا رہے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ’نو ٹائم ٹو ڈائی‘ بھی اسی طرح نمائش کے لیے پیش کی جائے گی تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک دلچسپ سوال ہے لیکن وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے۔


Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17976 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp