کورونا وائرس کی نئی قسم کے مہلک ہونے سے متعلق دعوے قبل از وقت ہیں: سائنسدان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Nurses work on patients in the Intensive Care Unit (ICU) in St George
PA Media
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں نئی قسم کا وائرس پہلے قسم کے وائرس سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جو اس وبا کے خلاف ملک کی جوابی حکمت کے لیے گیم چینجر نہیں ہونا چائیے۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ جن سے پتا چلتا ہے کہ یہ نئی قسم کا وائرس زیادہ مہلک ہو سکتا ہے۔ تاہم اس تحقیقی مطالعے کے دوسرے مصنف جس کا حوالہ وزیر اعظم دے رہے تھے کا کہنا ہے کہ اس وائرس میں کوئی فرد کتنی دیر تک متاثر رہ سکتا ہے یہ ابھی تحقیق طلب معاملہ ہے۔ ایک دوسرے مشیر کا کہنا تھا کہ وہ حیران ہیں کہ وزیر اعظم نے اس مطالعے کے نتائج ایسے وقت میں شیئر کیے ہیں جب اس کا ڈیٹا اتنا معتبر نہیں ہے۔

ایک تیسرے ماہر طب کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی حتمی بات کرنا ابھی بہت قبل از وقت ہو گا۔ جمعے کو ڈاؤنننگ سٹریٹ میں کورونا وائرس سے متعلق ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑھ کر کہ وائرس کی یہ نئی قسم بہت جلدی سے پھیلتی ہے، جو پہلے لندن اور ساؤتھ ایسٹ میں سامنے آیا تھا، کا تعلق زیادہ مہلق ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس کی نئی قسم کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

کورونا ویکسین سے متعلق جھوٹے اور گمراہ کن دعوؤں کی حقیقت

کووڈ ویکسین: پہلی ’سنگ میل‘ ویکسین 90 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہے

وزیر اعظم کے ہمراہ اس کانفرنس میں حکومت کے مشیر چیف سائنسدان سر پیٹرک ویلنس نے کہ ان اعداد و شمار سے متعلق خاصی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔

تاہم ان کے مطابق ابتدائی نتائج یہ بتاتے ہیں کہ وائرس کی یہ نئی قسم وائرس کی پہلی قسم سے 30 فیصد زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر پہلے 60 سال کے ایک ہزار افراد میں سے اس وائرس سے دس افراد مر جاتے تھے تو اب نئی قسم کے اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 13 بنتی ہے۔

یہ اعلان ان سائنسدانوں کی اس بریفنگ کے بعد سامنے آیا، جو حکومت کے ’نیو اینڈ ایمرجنگ ریسپائریٹری وائرس تھریٹس ایڈوائزری گروپ‘ کا حصہ ہیں، جس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ نئی قسم کا وائرس ہلاکتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس تحقیقی مطالعے کے شریک مصنف پروفیسر گراہام میڈلے نے بی بی سی ریڈیو 4′ ٹو ڈے کے ایک پروگرام میں بتایا کہ یہ سوال ابھی بھی تحقیق طلب ہے کہ آیا وائرس کی یہ نئی قسم ذیادہ خطرناک اور مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ صورتحال کو مزید خراب تر کر دے تو یہ زیادہ گیم چینجر ثابت نہیں ہو گا۔

پروفیسر میڈلے جو لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن میں وبائی امراض کے پروفیسر ہیں کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت بری چیز ہے جو کہ کسی حد بہت خطرناک بھی ہے۔‘

برطانیہ میں 28 دنوں میں کورونا وائرس سے 1401 اموات ہوئی ہیں جبکہ جمعے کو 40261 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

بی بی سی کے نمائندہ برائے ہیلتھ اور سائنس جیمز گلہر کا تجزیہ

کورونا کی نئی قسم سے متعلق شواہد میں ابھی بہت غیریقینت پائی جاتی ہے کہ یہ کس حد تک خطرناک ہے۔

ایسے سائنسی ماہرین جنھوں نے اس حوالے سے ڈیٹا کا تجزیہ کیا ہے کا کہنا ہے کہ اس بات کے حقیقی امکانات موجود ہیں کہ وائرس کی نئی قسم زیادہ خطرناک ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کے ففٹی ففٹی امکانات ہیں کہ وائرس کی یہ نئی قسم زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔

وقت کے ساتھ اور نئی افسوسناک اموات کے ساتھ ہی اس حوالے سے حقائق واضح ہو سکیں گے۔

لوگ ابھی غیر یقینی صورتحال پر بحث کر رہے ہیں۔ ہم یہ پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ یہ نئی قسم کا وائرس پہلی قسم کے وائرس کے مقابلے میں زیادہ اموات کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک وائرس جو زیادہ تیزی سے پھیلنے کا باعث بنتا ہے، تیزی سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جس سے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ زیادہ بڑھے گا اور اموات میں اضافہ ہو گا۔

یہی وجہ ہے کہ ایسا وائرس جو زیادہ منتقلی کی صلاحیت رکھتا ہے وہ مہلک ہونے سے بھی زیادہ مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

Government statistics show 95,981 people have died, an increase of 1,401 in the past 24 hours. In total 3,583,907 have tested positive, up 40,261 in the past 24 hours, there are 38,562 in hospital, down 155 and 5,383,103 people have had their first vaccine

BBC

"پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر یونے ڈول کہتی ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ نئی قسم کا وائرس پہلی قسم کے وائرس سے زیادہ مہلک ہے۔ ان کے مطابق اس وائرس کے خطرناک ہونے سے متعلق کچھ ایسے شواہد ضرور موجود ہیں۔ تاہم ایسے کیسز کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور ان نمبروں کی بنیاد پر کوئی بات کرنا بہت قبل از وقت ہو گا۔ ڈاکٹر مائیک ٹلڈیسلے، جو وبا سے متعلق ڈاکٹروں کے ایک گروپ کا حصہ ہیں، اس بات سے متفق ہیں کہ نئی وائرس متعلق کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔۔ کیونکہ جس ڈیٹا کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے اس میں اموات کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ انھوں نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ وہ اس پر حیران ہیں کہ بجائے اس ڈیٹا کو ایک یا مزید کچھ ہفتے دیکھنے کے وزیر اعظم بورس جانسن نے ابتدائی نتائج کو عام کر دیا۔ ان کے مطابق وہ پریشان ہیں کہ اب ہم کم متعبر ڈیٹا کی بنیاد پر نتائج بتانا شروع ہو گئے ہیں۔ اگرچہ حکومت کے طبی ماہرین پر مشتمل ایڈوائزری بورڈ کے چئیرمین پروفیسر پیٹر ہوربے نے اس حکومتی 'شفافیت پر مبنی' اعلان کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنسدان اس بات کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ وائرس کی اس قسم میں زیادہ شدت ہو سکتی ہے اور ایک ہفتہ ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس بات کے حقیقی امکانات موجود ہیں۔ڈاکٹر پیٹر روبے کے مطابق ہمیں اس معاملے میں زیادہ شفافیت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر ہم لوگوں کو اس بارے میں نہیں بتائیں گے تو پھر ہم پر حقائق چھپانے سے متعلق الزام عائد ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17955 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp