چین انڈیا سرحدی تنازع: فوجی کمانڈروں کے مابین مذاکرات کے نویں دور کے آغاز میں فوجی جھڑپوں میں کمی زیرِ بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈھائی ماہ کے وقفے کے بعد انڈیا اور چین کی افواج نے اتوار کو کور کمانڈر کی سطح پر مذاکرات کا نواں دور شروع کیا جس میں دونوں فریقین نے اس حوالے سے بات چیت کی کہ مشرقی لداخ کی سرحدوں پر سے فوجوں کی آپس کی جھڑپوں کو کم کیا جائے۔

انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ نواں دور لائن آف ایکچؤل کنٹرول میں چین کی سرحد پر واقع مولڈو سرحدی پوائنٹ پر منعقد ہوا ہے۔

مذاکرات کے اس دور میں بالخصوص توجہ اس بات پر تھی کہ مختلف طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے جن کی مدد سے ان پانچ نکاتی معاہدے پر عمل کیا جائے جو کہ گذشتہ سال 10 ستمبر کو انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور چینی ہم منصب وانگ یی کے مابین طے پایا گیا تھا۔

ماسکو میں کیے گئے اس معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان یہ طے پایا گیا تھا کہ دونوں افواج کو ہدایات دی جائیں گی کہ وہ ایسے کسی بھی قدم سے دور رہیں جس کی وجہ سے کوئی جھڑپ شروع ہو اور تنازع دوبارہ کھڑا ہو جائے، اور سرحد کے انتظامی امور کے قواعد اور پروٹوکل کا پورا لحاظ کیا جائے۔

ان مذاکرات کا آٹھواں دور گذشتہ سال نومبر میں ہوا تھا۔

انڈیا مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ ان مذاکرات میں چین پر ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافات کو بڑھنے نہ دیں۔

گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے ساتویں دور کے مذاکرات میں چین نے مطالبہ کیا تھا کہ انڈیا اپنی فوجیں پانگونگ جھیل کے جنوبی کنارے کے پاس سے ہٹائے۔

لیکن انڈیا اس بات پر مصر رہا کہ فوجیں ہٹانے کا عمل ایک ساتھ ہی شروع ہوگا۔

لداخ کے پاس انتہائی بلندی پر دونوں ملکوں نے کم از کم 50 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں جہاں پر اکثر اوقات درجہ حرارت صفر سینٹی گریڈ سے بھی کم ہوتا ہے۔

متواتر ملاقاتوں کے باوجود ابھی تک انڈیا اور چین کسی متفقہ فیصلے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ موسم سرما میں چین ایسی کوئی کارروائی نہیں کرے گے جو انڈیا کو حیران کر سکے، لیکن اپریل کے مہینے میں پگھلتی برف کے ساتھ کارروائیاں بڑھنے کا خدشہ ضرور ہے۔

گذشتہ برس پندرہ اور سولہ جون کی رات وادی گلوان میں کیا ہوا؟

پندرہ اور سولہ جون کی درمیانی شب لداخ کی گلوان وادی میں ایل اے سی پر ہونے والی اس جھڑپ میں انڈین فوج کے ایک کرنل سمیت 20 جوان ہلاک ہو گئے تھے۔

انڈیا کا دعویٰ ہے کہ چینی فوج کا بھی نقصان ہوا ہے تاہم اس کے بارے میں چین کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ چین نے اپنی فوج کے کسی بھی طرح کے نقصان کی بات تسلیم نہیں کی ہے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کے خلاف جارحیت کا الزام لگا رہے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ وادی گلوان میں انڈیا اور چین لائن آف ایکچیول کنٹرول (ایل اے سی) پر دونوں طرف سے فوجیوں کے مابین جھڑپ میں، لوہے کی راڈز کا استعمال کیا گیا جن پر کیلیں لگی ہوئی تھیں۔

انڈیا چین سرحد پر موجود انڈین فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بھی بی بی سی کو یہ تصاویر بھجوائیں اور بتایا کہ چینی فوجیوں نے اس ہتھیار سے انڈین فوجیوں پر حملہ کیا۔

چین اور انڈیا کی فوج کے مابین پرتشدد جھڑپوں میں انڈین فوج کے 20 فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ سب بہار رجمنٹ کے 16 جوان تھے۔ پہلے تین جوانوں کی ہلاکت کی خبر آئی لیکن بعد میں خود انڈیا کی فوج نے بھی ایک بیان جاری کیا کہ 17 دیگر فوجی جو شدید زخمی ہوئے تھے وہ بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب چین کبھی بھی کسی جنگ میں ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کی تعداد نہیں بتاتا ہے۔ 17 جون کو یہی سوال چینی وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے پوچھا کہ انڈین میڈیا چینی فوجیوں کے جانی نقصان کی بات کر رہا ہے کیا آپ اس کی تصدیق کرتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاو لیجیان نے کہا کہ ’دونوں ممالک کے فوجی، مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے جو میں بتا سکوں۔ مجھے یقین ہے اور آپ نے بھی دیکھا ہو گا کہ جب سے ایسا ہوا ہے فریقین بات چیت کے ذریعے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ امن بحال ہو سکے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17966 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp