امریکی نیوز چینلز نے وائٹ ہاؤس کی کوریج کے لیے خواتین صحافیوں کو نمائندہ مقرر کر دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواتین صحافی
Getty Images
امریکہ میں صدر بائیڈن کی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی مختلف سطحوں پر تبدیلی کے اثار واضح ہو رہے ہیں اور سابق صدر ٹرمپ کے دور کی پالیسیوں میں بدلاؤ آ رہا ہے۔

امریکی صدر بائیڈن نے اپنی پریس ٹیم میں خواتین ارکان کی اکثریت کو اہمیت دیتے ہوئے ایک معاشرتی اور سماجی تنوع کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے تو وہیں مختلف امریکی میڈیا ادارے صدر جو بائیڈن کی صنف سے متوازن کابینہ کی تقرریوں کی تقلید کرتے دکھاتے دیتے ہیں۔

اس ضمن میں کم از کم چھ بڑے امریکی نیوز نیٹ ورکس نے خواتین کو بائیڈن انتظامیہ کی وائٹ ہاؤس کی کوریج کی ذمہ داری دی ہے ، جس سے ایک ایسے ادارے میں خواتین صحافیوں کا پروفائل بڑھا ہے جو طویل عرصے مرد صحافیوں کے زیر اثر رہا۔

ان اداروں میں سی این این، اے بی سی، سی بی ایس، این بی سی، سرکاری ٹیلی ویژن سٹیشن پی بی ایس اور واشنگٹن پوسٹ نے خواتین کو رپورٹنگ کے فرائض تفویض کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’انھوں نے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، پھر میں نے گولی چلنے کی آواز سُنی‘

خاتون صحافی کے خلاف ٹرمپ کی متنازع ٹویٹ

’کام سے اختلاف کریں مگر یوں خواتین صحافیوں پر الزام لگانے سے نفرت کا ماحول بنتا ہے‘

خبر رساں ادارے گارجین اور سی این این بزنس کے مطابق ان چینلز کی جانب سے جن خواتین صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کی کوریج کے فرائص سونپے گئے ہیں ان میں اے بی سی کی سیسیلیا ویگا کو نیٹ ورک کا وائٹ ہاؤس کے لیے چیف نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔ کیٹلن کولنس سی این این کے لیے فرائض ادا کر رہی ہیں۔ سی بی ایس نیوز نے نینسی کورڈز کا انتخاب کیا ہے جبکہ این بی سی کی طرف سے کرسٹن ویلکر یہ خدمات انجام دیں گی۔

ان نئی تقرریوں کے علاوہ، یامیکے الیسنڈر پی بی ایس کے لیے وائٹ ہاؤس کوریج کی قیادت بھی جاری رکھیں گی۔

8 جنوری کو این بی سی نیوز نیٹ ورک کی خاتون صحافی کرسٹن ویلکر نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’یہ اعزاز اور ذمہ داری اپنے ساتھی، دوست اور اینکر پیٹر الیگزینڈر کے ساتھ بانٹنا کتنے اعزاز کی بات ہے۔‘

واضح رہے کہ این بی سی کی سیاہ فام کرسٹن ویلکر گذشتہ اکتوبر میں تیس برسوں میں وہ پہلی سیاہ فام خاتون صحافی تھیں جنھوں نے امریکی صدارتی انتخاب میں صدارتی مباحثے کی موڈریشن کی تھی۔

جبکہ سی این این بزنس کے مطابق خاتون صحافی کولنز کا کہنا تھا کہ ‘میں نے ہمیشہ سوچا ہے کہ خواتین کا مقام پہلی صف میں ہے، چاہے وہ وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں ہو یا کہیں اور۔ میں رپورٹرز کے اس مضبوط گروپ میں شامل ہونے پر بہت خوش ہوں۔’

اسی طرح سی بی ایس نیوز کی خاتون صحافی نینسی کورڈز نے بھی وائٹ ہاؤس کی کوریج کے لیے تعیناتی کی خوشی کو کچھ اس طرح منایا۔

یاد رہے کہ نئے امریکی صدر بائیڈن کی پریس ٹیم مکمل طور پر خواتین پر مشتمل ہے ، جن میں ان کی پریس سکریٹری جین ساکی بھی شامل ہیں۔

سابق صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے بعض معاملات پر حقائق سے روگردانی کی کوشش میں صحافیوں کے ساتھ اکثر بنتی نہیں تھی۔

سابق صدر ٹرمپ نے پریس کو ‘عوام کے دشمن’ کا نام دیا اور وہ باقاعدگی سے میڈیا پر حملہ کرنے کے لیے اپنے حامیوں کی بھر پور مدد کرتے اور اکثر پریس بریفنگ میں صحافیوں کے سوالات کا سامنا کرنے سے گریز کرتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17861 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp