مشرق وسطیٰ: متحدہ عرب امارات نے اسرائیل میں سفارتخانہ قائم کرنے کی منظوری دے دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں سفارتخانے کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی وام کے مطابق اماراتی سفارت خانہ اسرائیل کے لیے ملک کا پہلا سفارتی مشن ہوگا۔ متحدہ عرب امارات کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی اس خبر کو جاری کیا گیا ہے۔

اتوار کو ہونے والا یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران محمد بن راشد المکتوم کی زیرِ صدارت کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔

اس فیصلے سے امریکہ کی سرپرستی میں کیے گئے معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات معمول پر لانے کے عملی اقدامات کی ایک کڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل عرب ممالک کے قریب کیوں آنا چاہتا ہے؟

مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر امن کا قیام کس حد تک ممکن

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کا معاہدہ اور خطے کی سیاست

یاد رہے کہ گذشتہ برس 13 اگست کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اپنے سفارتی تعلقات کو معمول پر اتفاق کیا ہے۔

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے ایک مشترکہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ یہ تاریخی پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام میں مدد دے گی۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ ستمبر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔

اس معاہدے کو ابراہیم معاہدہ بھی کہا جاتا ہے اور ان پر دستخط کرنے کے بعد سے متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس اگست کے آخر میں متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے بائیکاٹ کرنے والے قانون کو ختم کر دیا تھا۔ یہ قانون سنہ 1972 سے ملک میں لاگو تھا جبکہ گذشتہ اگست کے اوائل میں دونوں ممالک نے پہلی مرتبہ براہ راست ٹیلی فون کالز کے ذریعے رابطے کا آغاز بھی کیا تھا۔ جس کے بعد 31 اگست کو اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سے اسرائیل کی قومی ایئر لائن ‘ال آل’ کی پرواز تین گھنٹے کا فضائی سفر طے کر کے اسرائیلی اور امریکی حکام پر مشتمل ایک وفد کو لے کر متحدہ عرب امارات پہنچی تھی۔

Israeli and US delegates, including Jared Kushner (centre), board the Israel-UAE flight (31/08/20)

Reuters

اس پرواز میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سابق سینیئر مشیر جیرڈ کشنر اور اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر مائر بین شیبٹ بھی شامل تھے۔

متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ کا تیسرا عرب ملک ہے جس نے سنہ 1948 میں معرض وجود میں آنے والے ملک اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17728 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp