ایئر انڈیا اور بھارت پیٹرولیم جیسی کمپنیوں کی فروخت میں انڈین حکومت اب تک ناکام کیوں

ندھی رائے - بی بی سی بزنس رپورٹر، ممبئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایئر انڈیا
EPA
ایئر انڈیا پبلک سیکٹر کے ان چند اداروں میں سے ایک ہے جسے انڈین حکومت سنہ 2001 سے فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن حکومت کو اس سرکاری ایئر لائن کے لیے ابھی تک ایک بھی خریدار نہیں مل سکا ہے۔

ایئر انڈیا اس وقت بہت سارے قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہے۔ ایئر انڈیا پر سال 2018-19 میں مجموعی طور پر 70 ہزار 686 کروڑ سے زیادہ کا قرض تھا۔

حکومت سنہ 2018 میں اس ایئر لائن کو دوبارہ بیچنے کا منصوبہ لے کر سامنے آئی، لیکن اس بار بھی اسے کامیابی نہیں مل سکی کیونکہ حکومت اس میں اپنا 24 فیصد حصہ برقرار رکھنا چاہتی تھی۔ اسی وجہ سے بہت سارے سرمایہ کاروں نے اسے خریدنے میں دلچسپی نھیں ظاہر کی۔

آخر کار جنوری سنہ 2020 میں حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اس بین الاقوامی ایئرلائن کے سارے حصص فروخت کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا انڈیا کی قومی فضائی سروس اپنے پرانے مالک کے پاس واپس جانے والی ہے؟

کورونا وائرس: انڈیا میں ہوا بازی کی صنعت کتنی متاثر ہوئی ہے؟

کیا انڈیا میں کاروں کی فروخت میں تیزی آ رہی ہے؟

انڈین کمپنی ٹاٹا کی ایئر لائنز میں دلچسپی

حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسے خریدنے میں صرف دو فریقین نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ایک ٹاٹا سنز اور دوسری ایئر انڈیا کے ملازمین کی انجمن اور امریکی سرمایہ کاری کی کمپنی انٹرپس جو اسے مل کر خریدنے کے خواہش مند ہیں۔

بہر حال ماہرین کا خیال ہے کہ ایئر انڈیا کو رواں مالی سال یعنی مارچ کے اختتام تک خریدار نہیں مل سکے گا۔

چارٹر فلائٹس کی سروس فراہم کرنے والے کلب ’ون ایئر‘ کے چیف ایگزیکٹو (ٹیکنیکل) کرنل سنجے جلکا نے بی بی سی کو بتایا ‘یہ بات واضح ہے کہ یو پی اے اور این ڈی اے حکومتیں جو شرطیں لے کر آئی تھیں ان میں خامیاں تھیں۔ وہ اپنے مشیروں کی سنتے رہے اور انھوں نے بولی لگانے والوں کی باتوں پر توجہ نہیں دی۔ اسی وجہ سے اس کمپنی کی فروخت کا عمل اس قدر طول پکڑتا گیا۔ حالانکہ اسے پہلے ہی درست کیا جا سکتا تھا۔‘

جنوبی ایشیا کے لیے ایشیا پیسیفک ایوی ایشن کے سی ای او کپل کول کو توقع ہے کہ جون تک کامیاب بولی لگانے والے کا اعلان کر دیا جائے گا اور دسمبر تک نجی ملکیت کی منتقلی کی جائے گی۔

کپل کول نے بی بی سی کو بتایا ‘وہ حکمت عملی کی سطح پر پرعزم ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ وہ اس بار اسے فروخت کرنے میں کامیاب ہو جائيں گے۔ انھوں نے بہت سارے قرضوں کا خیال رکھا ہے اور انھوں نے یہ بھی مان لیا ہے کہ بولی انٹرپرائز کی قیمت پر ہوگی۔’

ایئر انڈیا

Getty Images

انڈیا کی ناکام ’ڈِس انویسٹمینٹ‘ پالیسی

یہ صرف ایئر انڈیا تک ہی محدود نہیں ہے کہ جس کے لیے خریدار کی تلاش میں حکومت کو اتنی محنت کرنی پڑی ہے بلکہ انڈیا کی ڈِس انویسٹمینٹ پالیسی ہی کسی فلاپ شو کی طرح رہی ہے۔ پچھلے 12 برسوں میں حکومت اپنے ڈِس انویسٹمینٹ کے ہدف کو صرف دو بار ہی پورا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

ڈِس انویسٹمینٹ ایک ایسا عمل ہے جس میں حکومت اپنے کنٹرول میں سرکاری شعبے کے یونٹوں (پی ایس یو) کے اثاثوں کو بیچ کر اپنے فنڈ میں اضافہ کرتی ہے۔ حکومتیں یہ کام اپنے اخراجات اور آمدنی کے فرق کو کم کرنے کے لیے کرتی ہیں۔

گذشتہ مالی سال 2019-20 میں حکومت کے ہدف کی تکمیل میں 14 ہزار 700 کروڑ روپے کم تھے، اُس مالی سال اس کا ہدف 1.05 لاکھ کروڑ روپے اکٹھا کرنا تھا۔

ایک تجزیہ کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘بیشتر پی ایس یوز کا نظم و نسق بہت خراب ہے اور ان میں حکومت کا بہت زیادہ دخل ہوتا ہے۔ جو سرمایہ کار اس میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں وہ بھی ان وجوہات کے سبب اسے مشکل سمجھتے ہیں۔ اس لیے انھیں ان اکائیوں کو مکمل طور پر فروخت کرنا ہوگا۔’

31 مارچ کو مالی سال 2020-21 ختم ہو رہا ہے اور حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 2.1 لاکھ کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا ہے جس میں سے وہ صرف 28،298.26 کروڑ روپے اکٹھا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

محکمہ سرمایہ کاری اور عوامی اثاثہ جات کی انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت اب تک ہندوستان ایروناٹکس، بھارت ڈائنامکس، مزاگاوں ڈاک شپ بلڈرز اور آئی آر سی ٹی سی میں اپنی شراکت داری کو فروخت کر چکی ہے۔

پچھلے سال جولائی میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا تھا کہ مرکزی کابینہ نے 23 پی ایس یوز کو فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان میں بھارت پمپس اینڈ کمپریسرز، سیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا، ہندوستان فلورو کاربن، بھارت ارتھ موورز اور پون ہنس وغیرہ شامل ہیں۔

حکومت عوامی لسٹنگ میش شامل کمپنی لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کو بھی فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کا آئی ڈی بی آئی بینک کے حصص کو فروخت کر کے 90 ہزار کروڑ روپے اکٹھا کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔

نرملا سیتا رمن

EPA
انڈیا کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن

عجیب و غریب ہدف

سینیئر ماہر معاشیات ڈاکٹر ارون کمار کا خیال ہے کہ یہ ہدف اپنے آپ میں ’غیر حقیقی‘ ہے اور ایک ’سست معیشت کے مسائل کو بڑھا رہا ہے‘۔

انھوں نے کہا ‘حکومت گذشتہ سال ایک سست معیشت کی وجہ سے اپنے ہدف کو پورا نہیں کر سکی۔ ایک سست معیشت میں اثاثے بیچنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ جو لوگ انھیں خریدنا چاہتے ہیں ان کی آمدنی نہیں ہوتی ہے۔’

ان کا کہنا ہے کہ ‘بجٹ میں مالی خسارہ ڈرامائی طور پر بڑھ رہا ہے جس سے سرکاری اخراجات پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔’

حکومت کی کل آمدنی اور اخراجات کے فرق کو مالی خسارہ کہا جاتا ہے۔

کیا حکومت اس فرق کو کسی بھی طرح سے پُر کرسکتی ہے؟

اس سوال پر ڈاکٹر ارون کمار کہتے ہیں ‘وہ اس فرق کو نہیں پُر کرسکتے۔ وہ کارپوریٹ ٹیکس نہیں بڑھا سکتے۔ انھوں نے پچھلے سال اس میں کمی کی ہے۔ انکم ٹیکس کی وصولی بھی اسی طرح بہت کم ہے کیونکہ وبائی امراض کے دوران بہت سے لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بالواسطہ ٹیکسوں میں بھی اضافہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ جی ایس ٹی کونسل کے پاس جائے گا اور ریاستیں اس پر اتفاق نہیں کریں گی کیونکہ اس سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہوگا۔

‘وہ اپنے اخراجات کو کم کر دیں گے اور اس کی وجہ سے معیشت سست رہے گی کیونکہ حکومت خرچ کر کے معیشت کو آگے بڑھانا نہیں چاہتی ہے۔ لہذا مانگ میں اضافہ نہیں ہوگا۔’

مالی خسارہ کے فرق کو ختم کرنا فی الحال مشکل

کیئر ریٹِنگس کے چیف ماہر معاشیات مدن سبن وس نے ڈاکٹر ارون کمار سے یہ کہتے ہوئے اتفاق کیا کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ حکومت رواں مالی سال ایئر انڈیا یا بی پی سی ایل (بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ) کو فروخت کر سکے گی۔

‘وہ بجٹ کے بعد بھی ایئر انڈیا کو فروخت نہیں کر سکیں گے اور مارچ سے پہلے تو فروخت کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ بہت مشکل معاملہ ہے کیونکہ یہ ایک خسارے والی کمپنی ہے اور بی پی سی ایل سے بالکل مختلف ہے۔ بی پی سی ایل اب بھی ایک منافع بخش کمپنی ہے۔ اس کے باوجود وہ اسے فروخت کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔’

سبن وس نے بی بی سی کو بتایا ‘انویسٹمینٹ کا ہدف حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ حکومت کے پاس کبھی کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی کمپنی سے کیا چاہتی ہے۔ انھیں اس ہدف کو تبدیل کر کے 50 سے 80 ہزار کروڑ روپے رکھنا چاہیے تاکہ وہ قابل حصول ہو۔’

ان کا کہنا ہے کہ ‘رواں سال وہ مالی خسارے کو کم کرنے کا ہدف حاصل نہیں کرسکے۔ وہ مارکیٹ سے مزید قرض لیں گے۔ جب تک حکومت حقیقی ڈِس انویسٹمینٹ کے منصوبے نہیں لاتی اس وقت تک ہم مالی خسارے کے فرق کو ختم کرنے کے ہدف کو پورا نہیں کرسکیں گے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17607 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp