سپیس ایکس نے خلا میں زیادہ سیٹلائٹ لانچ کرنے کا انڈین ریکارڈ توڑ دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فریم
BBC
ایک ہی راکٹ کے ذریعے سب سے زیادہ سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا عالمی ریکارڈ بنا لیا گیا ہے۔ مختلف شکل و صورت اور جسامت کی 143 سیٹلائٹس سپیس ایکس کے فیلکن راکٹ کے ذریعے فلوریڈا سے لانچ کی گئیں۔

اس سے قبل یہ ریکارڈ سنہ 2017 میں ایک انڈین راکٹ کے ذریعے 104 سیٹلائٹس کی لانچ کا تھا۔

یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ خلائی سرگرمی میں بڑی سٹرکچرل تبدیلیاں آ رہی ہیں جس سے زیادہ کھلاڑی اب اس سرگرمی میں شامل ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا کا طاقتور ترین راکٹ فالکن ہیوی خلائی مشن پر روانہ

سپیس ایکس لانچ: ’ڈریگن‘ بین الاقوامی خلائی سٹیشن پہنچ گیا

چاند کے سفر کے پہلے نجی امیدوار کا اعلان

یہ تبدیلی کم قیمت، ننھے منے اور پائیدار الیکٹرانک حصوں کی وجہ سے ہے جنھیں براہِ راست عام صارفین کے برقی آلات مثلاً سمارٹ فونز سے لیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی شخص ایک بہت چھوٹے سے پیکج میں ایک قابل عمل سیٹلائٹ بنا سکتا ہے۔

اور سپیس ایکس یہ سیٹلائٹس صرف 10 لاکھ ڈالر کے عوض مدار میں پہنچا رہی ہے جس سے مزید کمرشل مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

فیلکن راکٹ پر سپیس ایکس کی اپنی خود کی 10 سیٹلائٹس تھیں، جو اس کے سٹار لنک مواصلاتی نظام میں تازہ ترین اضافہ ہے۔

اس مواصلاتی نظام کا مقصد پوری دنیا تک براڈبینڈ انٹرنیٹ کنکشن پہنچانا ہے۔

سان فرانسسکو کی پلینِٹ کمپنی نے سب سے زیادہ یعنی 48 سیٹلائٹس اس پرواز کے ذریعے خلا میں بھیجیں۔

یہ اس کے سُپرڈوو سیٹلائٹ ماڈلز کا نیا بیڑہ ہے جو روزانہ زمین کی سطح کی 3 سے پانچ میٹر تک کی ریزولوشن سے تصاویر لیتا ہے۔

نئی سیٹلائٹس سے اب مدار میں موجود اس کمپنی کی سیٹلائٹس کی تعداد 200 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

سُپرڈوو سیٹلائٹس جوتے کے ڈبے جتنی ہوتی ہیں۔ فیلکن راکٹ پر موجود دیگر کئی سیٹلائٹس بمشکل کافی مگ سے بڑی تھیں جبکہ کچھ تو کسی کتاب سے بھی چھوٹی تھیں۔

سوارم ٹیکنالوجیز وہ سیٹلائٹس لانچ کر رہی ہے جسے وہ ’سپیس بیز‘ یعنی خلائی مکھیاں کہتی ہے۔ ان کی جسامت صرف 10 سینٹی میٹر ضرب 10 سینٹی میٹر ضرب ڈھائی سینٹی میٹر ہے۔

یہ زمین پر موجود چیزوں مثلاً ایک جگہ سے دوسری جگہ جرت کرنے والے جانوروں سے لے کر شپنگ کنٹینر تک پر لگے آلات کے لیے مواصلاتی خدمات فراہم کریں گے۔

فیلکن راکٹ میں کچھ زیادہ بڑی چیزیں سوٹ کیس کے سائز کی تھیں۔ ان میں کئی ریڈار سیٹلائٹس تھیں۔ برقی آلات کی تیاری میں آنے والے انقلاب سے سب سے زیادہ فائدہ ریڈار نے اٹھایا ہے۔

روایتی طور پر ریڈار سیٹلائٹس بڑی اور کئی ٹن وزنی ہوتیں اور انھیں خلا میں بھیجنے میں کروڑوں ڈالر صرف ہوتے جس کا مطلب تھا کہ صرف افواج یا خلائی ادارے ہی انھیں آپریٹ کرنے کے اخراجات برداشت کر سکتے تھے۔

مگر نئے مٹیریلز اور ننھے پرزوں نے ان کا سائز ڈرامائی انداز میں گھٹا دیا ہے۔ اب یہ 100 کلو سے کم وزنی ہوتی ہیں اور ان کی قیمت صرف 20 لاکھ ڈالر کے آس پاس تک آ گئی ہے۔

فن لینڈ کی آئس آئی، امریکہ کی کیپیلا اور امبرا، اور جاپان کی آئی کیو پی ایس نے بھی اتوار کو سپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے اڑان بھری۔ یہ سٹارٹ اپ مدار میں سیٹلائٹس کا ایسا جھرمٹ قائم کر رہے ہیں جو زمین کی تیزی سے بار بار تصویریں لے گا۔

ریڈار کے پاس عمومی کیمرے کے برعکس یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ بادلوں کو چیر سکتا ہے اور زمین کی سطح کا جائزہ لے کر جان سکتا ہے کہ دن ہے یا رات۔ اب ہم ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں زمین پر ہونے والی کوئی بھی تبدیلی، چاہے کہیں بھی ہو، فوراً ہماری توجہ میں آ جائے گی۔

فیلکن 143 سیٹلائٹس کو 500 کلومیٹر بلند مدار میں لے گیا ہے جو قطب سے قطب تک چلتا ہے۔ اگر آپ کسی بڑے راکٹ سے ‘لفٹ’ لے کر مدار میں جائیں تو یہی اس کا نقصان ہے، کہ آپ کو وہیں جانا ہوگا جہاں راکٹ جا رہا ہے، اور کچھ سیٹلائٹس کے لیے ہو سکتا ہے یہ مثالی مدار نہ ہو۔

کئی سیٹلائٹ مشنز کو ایسا مدار چاہیے ہوگا جو خلا میں اس سطح سے نیچے یا اوپر ہو، یا خطِ استوا (ایکوئیٹر) کی بہ نسبت مختلف زاویہ رکھتا ہو۔

اس کو مصنوعی سیارہ کے ‘اسپیس ٹگز’ پر چڑھا کر حاصل کیا جاسکتا ہے جو راکٹ کے بالکل اوپر والے حصے سے نکلتا ہے اور کئی ہفتوں کے دوران اپنے ‘سواروں’ کے حتمی پیرامیٹرز میں ترمیم کرتا ہے۔ اتوار کے روز فیلکن پر اس طرح کے دو ٹگز لے جائے گئے۔

لیکن کچھ مشنوں کے لیے پہلے سے بک کردہ سواری ہی واحد قابل اطمینان حل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم چھوٹے راکٹ تیار کرنے کی بہت زیادہ کوششیں دیکھ رہے ہیں جو کہ مخصوص پروازوں پر چل سکتا ہے۔

یہ چھوٹے راکٹ سپیس ایکس کے فیلکن 9 جیسے بڑی گاڑیوں سے قیمت کی بنیاد پر مقابلہ نہیں کرسکیں گے لیکن یہ انتہائی مخصوص یا فوری ضرورت کے لیے کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہیں۔

ورجن اوربٹ نے ایک چھوٹا سا راکٹ تیار کیا ہے جسے بوئنگ 747 کے ونگ کے نیچے سے لانچ کیا جاسکتا ہے۔ اس کمپنی کے سی ای او ڈین ہارٹ کا کہنا ہے کہ اسٹارٹ اپ زیادہ سمجھدار ہوتے جارہے ہیں۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ چھوٹے سیٹلائٹ پرکشش اور دلچسپی کے مرکز ہوتے تھے اور خلا میں جانے کے بس سستے ترین راستے کی تلاش کا معاملہ تھا۔

انہوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ‘یہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ یہ اب ایسے اہم کاروبار ہیں کہ اگر انھیں انتظار کرنا پڑتا ہے یا کسی نا مناسب مدار میں جانا پڑتا ہے تو انھیں آمدنی کو نقصان کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ اور اسی وجہ سے آپ کو ایسے لوگ مل جائيں گے جو اس کے لیے تھوڑا زیادہ معاوضہ ادا کرنے کو تیار ہوں جب انھیں وہاں پہنچایا جائے جہاں وہ جانا چاہتے ہیں۔

ڈسپینسر

SPACEX

اب جبکہ مصنوعی سیارے باری باری سے مدار میں جانے لگے ہیں اور اس میں تیزی آ رہی ہے تو اب خلا میں ٹریفک مینجمنٹ کا معاملہ ایک گرما گرم موضوع بنتا جارہا ہے۔

ایک دوسرے کا مکمل طور پر ٹکراؤ فی الحال شاذ و نادر کے زمرے میں ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر مصنوعی سیارے کی بڑی تعداد کو اب اچانک، غیر متوقع رفتار کی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہوگا، غالبا یہ پچھلے مشن کے کچھ چھوٹے ٹکڑوں کی زد میں آنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

خلائی شعبے کو مدار میں اڑتے ہوئے ٹکڑوں کو ٹریک کرنے اور بروقت اس سے بچنے کے متعلق زیادہ سمارٹ طریقوں کی ضررت ہوگی۔ نہیں تو خلا کی بعض سطحیں خطرناک ٹکڑوں کے حصوں کی وجہ سے ناقابل استعمال ہوسکتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17695 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp