انڈین یوم جمہوریہ پر ہزاروں احتجاجی کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ: دلی میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران پولیس کی آنسو گیس شیلنگ

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا ٹریکٹر ریلی
Getty Images
مختلف رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے انڈیا کے ہزاروں احتجاجی کسان دارالحکومت نئی دہلی میں اپنے ٹریکٹروں سمیت داخل ہو گئے ہیں۔ کسانوں کو دارالحکومت میں داخلے سے روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے ہیں۔

آج انڈیا کے 72ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی میں کسان ٹریکٹر ریلی کا انعقاد کر رہے ہیں۔ اس ریلی کو ٹریکٹر پریڈ کا نام دیا گیا ہے۔

پنجاب ہریانہ، مغربی اتر پردیش، راجستھان اور کئی دیگر ریاستوں سے ہزاروں کسان اپنے ٹریکٹر لے کر دلی کے نواح میں پہنچ چکے ہیں اور اب وہ مختلف اطراف سے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دارالحکومت کی سرحدوں پر اس وقت موجود ٹریکٹروں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔ کسان اس ریلی کو ’کسانوں کی طاقت‘ کا مظاہرہ قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا کے کسان حکومت کی جانب سے بنائے گئے نئے زرعی قوانین کے خلاف گذشتہ دو ماہ سے احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے۔ یہ احتجاج دلی کے نواح میں تین مختلف مقامات پر جاری ہے جس میں ہزاروں کی تعداد کسان اور ان کے خاندان شریک ہیں۔

اُن کا مطالبہ ہے کہ یہ متنازع قوانین واپس لیے جائیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ ان سے انھیں اپنے اناج کی فروخت کے عوض مناسب دام نہیں مل سکے گا اور مقامی منڈیوں پر نجی تاجروں کا قبضہ ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

کسانوں کا احتجاج مودی کی توقعات سے بھی زیادہ منظم نکلا؟

کیا انڈیا میں زرعی اصلاحات کے نئے مجوزہ قوانین کسانوں کی ’موت کا پروانہ‘ ہیں؟

انڈیا کے کسان آخر چاہتے کیا ہیں؟

مختلف کاشتکار تنظیموں نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ ان کی ٹریکٹر ریلی مکمل طور پر پُرامن ہو گی اور ٹریکٹروں پر کوئی سیاسی پرچم نہیں لہرایا جائے گا۔

پولیس نے کسانوں کو اس ریلی کے لیے شہر کے تین نواحی علاقوں میں محدود پریڈ کی اجازت دی ہے لیکن کسان دلی کا احاطہ کرنے والی مرکزی رنگ روڈ پر ریلی نکالنے پر مصر ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کسان رنگ روڈ کی طرف بڑھیں گے یا نہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا میں یوم جمہوریہ کے موقع پر پریڈ میں مختلف فوجی دستے مارچ کرتے ہیں اور ملک کی مختلف ریاستوں کی ثقافت کی جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں۔ اس پریڈ میں جنگی ساز و سامان کی نمائش کے ذریعے ملک کی جنگی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔

کسانوں کی ریلی قومی ریلی کے بعد منعقد ہو گی۔ اس دن کی مناسبت سے انڈین دارالحکومت اور اس کے اطراف میں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

یہ ٹریکٹر ریلی ٹیکری، غا‏زی پور اور شنگھو سرحد سے دلی میں داخل ہو گی۔ ابھی تک احتجاجی کسانوں کو دلی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

دلی پولیس کی کوشش ہو گی کہ وہ ٹریکٹر کے ساتھ داخل ہونے والے کسانوں کو دارالحکومت میں رکنے نہ دے۔

حکومت نے پہلے ٹریکٹر ریلی کی اجازت نہیں دی تھی لیکن کسانوں کو کسی تشدد کے بغیر ریلی سے روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ ٹریکٹر ریلی کی محدود راستوں پر اجازت دی گئی ہے۔

ٹریکٹر ریلی کے بارے میں کاشتکاروں میں کافی جوش وخروش نظر آتا ہے۔ انھیں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ حکومت پر ان کی نفسیاتی جیت کا نتیجہ ہے۔

پنجاب کے کسان ترنجیت سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم یہ ٹریکٹر ریلی اس لیے نکال رہے ہیں کہ حکومت کے سامنے پر امن طریقے سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت لاکھ کوشش کر لے، توپیں لگا دے، رکاوٹیں کھڑی کر دے لیکن اب وہ ہمیں نہیں روک پائے گی۔‘

مدھیہ پردیش کی ایک خاتون کسان رہنما پوتر کور کا کہنا تھا کہ ٹریکٹر ریلی سے یوم جمہوریت کے جشن میں کسانوں کی بھی شمولیت ہو گی۔ ’آج بہت بڑا دن ہے۔‘

کسانوں کا خیال ہے کہ وہ اتنے دنوں سے دھرنے پر بیٹھے ہیں، ہڑتال پر بیٹھے ہیں تو سب مل کر اسے ٹریکٹر ریلی کی شکل میں منائیں کیونکہ ٹریکٹر کسان کا سب سے اہم آوزار ہے۔‘

ہریانہ کے کسان اجیت شرما حکومت پر کافی برہم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آزادی کے بعد یہ پہلی بار ہے جب کسان اس طرح بے بس ہوئے ہیں۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہ حکومت سرمایہ داروں کے ہاتھوں کھیل رہی ہے۔‘

’اگر نئے قوانین سے کسانوں کو فائدہ ہوتا تو وہ یہاں دھرنے پر کیوں بیٹھے ہوتے۔‘

اناج کی مقررہ قیمت کی قانونی ضمانت کے مطالبے پر زور دینے کے لیے ہزاروں کسان ممبئی کے آزاد میدان میں بھی جمع ہیں۔ آج ملک کی مختلف ریاستوں میں بھی پریڈ کے بعد کسانوں کی حمایت میں جلسے جلوس کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا ہے کہ کسانوں کو یوم جمہوریہ کے موقع پر ریلی نہیں کرنی چاہیے تھی اور وہ کسی اور دن یہ ریلی کر سکتے تھے۔

اس دوران کسان یونیینز نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے تینوں زرعی قوانیں واپس نہیں لیے تو وہ یکم فوری کو عام بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔

نئے زرعی قوانین پر کیا اعتراض ہے؟

مجموعی طور پر یہ اصلاحات زرعی اجناس کی فروخت، ان کی قیمت کا تعین اور ان کے ذخیرہ کرنے سے متعلق طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے بارے میں ہیں جو ملک میں طویل عرصے سے رائج ہیں اور جس کا مقصد کسانوں کو آزاد منڈیوں سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔

نئے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت حاصل ہو گی کہ وہ مستقبل میں فروخت کرنے کے لیے براہ راست کسانوں سے ان کی پیداوار خرید کر ذخیرہ کر لیں۔

پرانے طریقہ کار میں صرف حکومت کے متعین کردہ ایجنٹ ہی کسانوں سے ان کی پیداوار خرید سکتے تھے اور کسی کو یہ اجازت حاصل نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ان قوانین میں ’کانٹریٹک فارمنگ‘ کے قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں کو وہی اجناس اگانا ہوں گی جو کسی ایک مخصوصی خریدار کی مانگ کو پورا کریں گی۔

سب سے بڑی تبدیلی یہ آئے گی کہ کسانوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی پیداوار کو منڈی کی قیمت پر نجی خریداروں کو بیچ سکیں گے۔ ان میں زرعی اجناس فروخت کرنے والی بڑی کمپنیاں، سپر مارکیٹیں اور آئن لائن پرچون فروش شامل ہیں۔

اس وقت انڈیا میں کسانوں کی اکثریت اپنی پیداوار حکومت کی زیر نگرانی چلنے والی منڈیوں میں ایک طے شدہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

یہ منڈیاں کسانوں، بڑے زمینداروں، آڑھتیوں اور تاجروں کی کمیٹیاں چلاتی ہیں جو کسانوں اور عام شہریوں کے درمیان زرعی اجناس کی ترسیل، ان کو ذخیرہ کرنے اور کسانوں کو فصلوں کے لیے پیسہ فراہم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔

یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے کچھ قواعد اور اصول ہیں اور جس میں ذاتی اور کارروباری تعلقات کا بھی بہت عمل دخل ہے۔۔

نئی اصلاحات کہنے کی حد تک تو کسانوں کو یہ سہولت فراہم کرتی ہیں کہ وہ روایتی منڈیوں سے ہٹ کر بھی اپنی پیداوار فروخت کر سکتے ہیں۔

ابھی تک واضح نہیں کہ اس پر حقیقی طور پر کس طرح عمل ہو گا۔ انڈیا کی بہت سی ریاستوں میں اب بھی کسان اپنی پیداوار نجی خریداروں کو فروخت کر سکتے ہیں لیکن یہ قوانین اس کو قومی سطح پر لے جائیں گے۔

کسانوں کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ اس سے آڑھت کی منڈیاں ختم ہو جائیں گی اور ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ جائے گا۔ آڑھت سے مراد لین دین کروانے والا شخص یا مڈل مین ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر انھیں نجی خریدار مناسب قیمت ادا نہیں کریں گے تو ان کے پاس اپنی پیداوار کو منڈی میں فروخت کرنے کا راستہ نہیں ہو گا اور ان کے پاس سودے بازی کرنے کے لیے کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ منڈیوں کا نظام جاری رہے گا اور وہ کم از کم امدادی قیمت جسے (ایم ایس پی) بھی کہا جاتا ہے اسے ختم نہیں کیا جا رہا۔ لیکن کسان اس پر یقین نہیں رکھتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17773 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp