انڈیا، چین سرحدی تنازع: وادی گلوان میں ہونے والے انڈین فوج کے آپریشن ’سنو لیپرڈ‘ کا مقصد کیا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا چین
Getty Images
انڈیا اور چین کے درمیان اس سے قبل سنہ 1962 میں جنگ ہو چکی ہے
انڈیا کے 72ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر انڈین حکومت نے لداخ کی وادیِ گلوان میں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کو شجاعت کے تمغوں سے نوازا ہے۔

گذشتہ سال مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں 15 اور 16 جون کی درمیانی شب چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان خونریز تصادم میں انڈیا کے ایک کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

چین نے اب تک باضابطہ طور پر یہ نہیں بتایا ہے کہ اس جھڑپ میں اس کے کتنے فوجی مارے گئے تھے۔

انڈین حکومت نے اس جھڑپ میں ہلاک ہونے والے 16 ویں بہار رجمنٹ کے کرنل سنتوش بابو کو بعداز مرگ ’مہاویر چکر‘ کے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ گلوان میں پیش آئے واقعے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں تناؤ کی سی صورتحال ہے جسے ختم کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سِکّم انڈیا کی ریاست کیسے بنا؟

لداخ: وہ علاقہ جس پر خلیفہ ہارون الرشید کی بھی نظر تھی

وادی گلوان: ’بیٹا کھو دینے سے بہتر تھا کہ روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کر لیتے‘

تاہم یہ ایوارڈ دیتے ہوئے انڈین حکومت نے پہلی مرتبہ تفصیل سے بتایا ہے کہ اس رات دراصل ہوا کیا تھا۔ اس سے پہلے انڈیا اور چینی فوجیوں کے مابین پرتشدد جھڑپوں کے بارے میں بہت کم معلومات سرکاری سطح پر دستیاب تھیں۔

لیکن اب کرنل بابو کو ایوارز سے نوازتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی آخری سانس تک بہادری سے مقابلہ کرتے رہے۔

اس موقع پر حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ ’کرنل سنتوش بابو کو اپنی ٹیم 16 ویں بہار رجمنٹ کی سربراہی کرتے ہوئے 15 جون 2020 کو آپریشن ’سنو لیپرڈ‘ کے تحت دشمن کے سامنے ایک آبزرویشن پوسٹ قائم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ کرنل بابو نے اس مشن کو منظم انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔‘

مزید بتایا گیا کہ ’لیکن اپنی اس چوکی کو بچاتے ہوئے دشمن کی جانب سے انھیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دشمن نے مہلک اور نوکدار ہتھیاروں کا استعمال کیا اور اونچائی سے پتھراؤ کیا۔ مگر دشمن کے پرتشدد اور جارحانہ ہتھکنڈوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے انھوں نے دفاع جاری رکھا۔ خدمت کے جذبے سے سرشار کرنل بابو دفاع کرتے ہوئے شدید زخمی ہوئے مگر آخری دم تک فوجی جوانوں کی قیادت کرتے رہے۔‘

انڈین حکومت نے کرنل بابو کے علاوہ 16 ویں بہار رجمنٹ کے نائب صوبیدار نوڈورام سورین، حولدار پیلانی، حولدار تیجندر سنگھ، نائیک دیپک سنگھ کو بعد از مرگ ویر چکر (بعد میں) اعزاز دیا۔ اس کے علاوہ گورتیج سنگھ کو بھی اعزاز دیا گیا۔

https://twitter.com/ANI/status/1353760409015074816?s=20

سکیورٹی ماہرین چکرا سیریز کے بہادری ایوارڈ کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں کیونکہ یہ ایوارڈ جنگ کے دور میں دیے جانے والے بہادری کے ایوارڈز میں شامل ہیں۔ اس سے قبل انڈین حکومت کی جانب سے یہ ایوارڈ سنہ 1999 میں دیے گئے تھے جب انڈیا اور پاکستان کے مابین کارگل جنگ چل رہی تھی۔

دفاعی اور تزویراتی امور کے ماہر اور سینیئر صحافی نتن گوکھلے نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے ’اگر کرنل سنتوش بابو، جو گذشتہ سال جون کے مہینے میں وادی گلوان میں 19 دیگر فوجیوں کے ہمراہ ہلاک ہوئے تھے، کو مہاویر چکرا (دوسرا سب سے بڑا بہادری کا ایوارز، دیا گیا ہے تو یہ بات واضح ہے کہ انڈیا لداخ میں چین کے ساتھ جاری لڑائی کو جنگ کے طور پر لے رہا ہے۔ اس سے قبل چکرا سیریز کے ایوارڈ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران فوجیوں کو اُن کی بہادری پر دیے گئے تھے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ روز ایک بیان میں انڈین فوج نے کہا تھا کہ ’20 جنوری کو انڈیا اور چین کی فوج کے بیچ شمالی سکم میں ایک معمولی جھڑپ ہوئی تھی اور اصولوں کے مطابق یہ معاملہ مقامی کمانڈروں نے سلجھا لیا ہے۔‘ انڈین آرمی نے میڈیا کو کہا تھا کہ وہ اس حوالے سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے گریز کریں۔

نمائندہ بی بی سی شکیل اختر کے مطابق اس جھڑپ میں فوجیوں نے ایک دوسرے کو گھونسوں اور مکوں سے نشانہ بنایا تھا جس کے باعث متعدد فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اس جھڑپ میں دونوں جانب کے کم ازکم ڈیڑھ سو فوجی ملوث تھے۔

انڈین ذرائع ابلاغ کے دعوے کے مطابق اس واقعہ میں 20 چینی جبکہ چار انڈین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس متنازع سرحدی علاقے میں جھڑپوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18951 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp