جنرل قمر جاوید باجوہ کو خط لکھنے والا سابق پاکستانی جرنیل کا بیٹا فوج کی حراست میں کیوں ہے؟

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہائی کورٹ
AFP
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کے سویلین بیٹے کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اس معاملے کو جلد از جلد نمٹانے کا عندیہ دیا ہے۔

ریٹائرڈ میجر جنرل ظفر مہدی عسکری کے بیٹے حسن عسکری کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کے تحت مقدمہ درج ہے جو فوج کے کسی بھی افسر یا اہلکار کو بغاوت پر اُکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔

ملزم حسن عسکری پر الزام ہے کہ انھوں نے گذشتہ برس ستمبر میں بری فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کو خط تحریر کیا تھا جس میں مبینہ طور پر اُن کی مدت ملازمت میں توسیع ملنے اور فوج کی پالیسوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا۔ اس خط کی کاپیاں فوج میں حاضر سروس ٹو اور تھری سٹار جنرلز کو بھی بھیجی گئی تھیں۔

ملزم کے والد کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست کی اب تک ایک ہی سماعت اوپن کورٹ یعنی کھلی عدالت میں ہوئی ہے۔ وفاق کی جانب سے عدالت میں یہ درخواست دائر کی گئی تھی کہ چونکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اس لیے اس کی تمام تر کارروائی اِن کیمرہ کی جائے۔

وفاق کی اس درخواست پر عدالت کی جانب سے اس کیس کے مدعی کی رضامندی حاصل کی گئی جس کے بعد جسٹس محسن اختر کیانی نے اس کیس کی ان کیمرہ کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا اور اُس وقت کمرہ عدالت میں موجود تمام افراد کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیے

لاپتہ افراد کے وکیل انعام الرحیم خود ’لاپتہ‘

آرمی چیف کے عہدے کی دوڑ سے کون کون باہر ہوا؟

جنرل قمر جاوید باجوہ ’کھلے ڈلے اور بے تکلف فوجی‘

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع

اس درخواست میں فوج کے ایڈجوٹنٹ جنرل کو بھی فریق بنایا گیا ہے جنھیں عدالت کی جانب سے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ اس عدالتی کارروائی کا جو حکم جاری کیا گیا اس میں کہا گیا ہے کہ اس پٹیشن میں بنائے گئے تیسرے فریق یعنی ایڈجوٹنٹ جنرل کی طرف سے یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ حسن عسکری پاکستان آرمی کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف جو مقدمہ درج ہوا ہے اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ اس ضمن میں آرمی ایکٹ سنہ 1952 کے حوالے سے بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

پٹیشنر کی طرف سے حسن عسکری کی فوج کے تحویل کے معاملے کو غیر قانونی قرار دینے اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کو روکنے کے بھی استدعا کی گئی۔

اس عدالتی حکمنامے میں پٹیشنر کی طرف سے حسن عسکری کے ساتھ ان کے اہلخانہ کی ملاقات کی استدعا کرنے کا بھی ذکر ہے۔

اس معاملے میں وفاق کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ قانون کے مطابق چونکہ یہ حساس معاملہ ہے اس لیے ملزم کے ساتھ اُن کے اہلخانہ کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

باجوہ

Getty Images

اُنھوں نے کہا کہ تفتیشی اداروں کی طرف سے اس ضمن میں جو بھی ہدایات یا تحریری جواب ملے گا وہ اس کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کریں گے۔

اس درخواست کی اگلی سماعت اب یکم فروری کو ہو گی۔

اس معاملے کے دیگر فریقوں نے اس مقدمے پر تبصرہ کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا ہے کہ یہ درخواست بند کمرے میں زیرسماعت ہے اس لیے وہ اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کریں گے۔

درخواست میں کیا کہا گیا ہے؟

ریٹائرڈ میجر جنرل ظفر مہدی عسکری کی طرف سے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے جو درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے اس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے بیٹے کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پالیسوں کو ایک خط کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنانے پر حراست میں لیا گیا ہے۔

حسن عسکری کمپیوٹر انجینیئر ہیں۔

ظفر مہدی سنہ 1953 سے لے کر سنہ 1993 تک فوج کے آرٹلری اور ہوا بازی کے شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔

اُنھوں نے اپنی درخواست کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس چند سکیورٹی اہلکار، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کا تعلق ملٹری انٹیلیجنس سے ہے، اُن کے گھر پر آئے اور ان کے بیٹے کو گرفتار کر کے لے گئے۔

اس کے بعد حسن عسکری کے خلاف تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج کیا گیا اور بعدازاں مقامی مجسٹریٹ نے اس معاملے کی چھان بین اور ممکنہ طور پر اس کا کورٹ مارشل کرنے کے حوالے سے ملزم حسن عسکری کو فوج کے ایک کمانڈنگ افسر کے حوالے کر دیا۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اُنھیں اس مجسٹریٹ کا وہ حکم نامہ ابھی تک نہیں ملا جس کے تحت ان کے بیٹے کو فوج کے حوالے کیا گیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس ضمن میں جب سیشن جج کی عدالت سے رابطہ کیا گیا تو ان کے سٹاف نے بتایا کہ ان کے ریکارڈ میں ابھی تک ایسا کوئی مقدمہ پیش نہیں کیا گیا۔

اس درخواست میں ریاست پاکستان کے علاوہ پاکستانی فوج کے ایڈجوٹنٹ جنرل کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ فوج کے قانونی معاملات کی نگرانی کرنے والے جج ایڈووکیٹ جنرل اور جیگ برانچ بھی ایڈجوٹنٹ جنرل کے ماتحت ہوتی ہے۔

ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر تھری سٹار جنرل یعنی لیفٹیننٹ جنرل کو تعینات کیا جاتا ہے جو فوج کے ڈسپلن کو قائم رکھنے اور کسی بھی شخص کے خلاف کورٹ مارشل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ حسن عکسری نے موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کو جو خطوط لکھے اس میں فوج کی موجودہ قیادت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ خطوط لکھنے کا مقصد نہ تو موجودہ حکومت کی قانونی پوزیشن کو متنازع بنانا تھا اور نہ ہی فوج کو اس بات پر اکسانا ہے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لیں۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ جو خطوط آرمی چیف اور فوج کے دیگر افسران کو بھیجے گئے ان کے بارے میں درخواست گزار سمیت اُن کے گھر والوں کو کوئی علم نہیں تھا۔

یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے آرمی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی دفعات میں فرق نہیں کیا اور درخواست گزار کے بیٹے حسن عسکری کو فوجی کمانڈگ افسر کے حوالے کر دیا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان کو بارہا بتایا گیا ہے کہ ان کے بیٹے کے خلاف مقدمہ تیار کیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے مذید معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

ان کے مطابق حسن عسکری کے خلاف تھانہ شالیمار میں جو مقدمہ درج ہوا ہے اس میں صرف اس خط کا ہی ذکر کیا گیا ہے جبکہ اس خط میں ایسا کوئی ثبوت شامل نہیں ہے جس میں یہ ثابت ہو سکے کہ ملزم نے کسی فوجی یا فوجی افسر سے ملاقات کر کے انھیں فوج کی موجودہ قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسایا ہو۔ اس درخواست میں ایڈجوٹنٹ جنرل کو حسن عسکری کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی روکنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کیا ہے؟

پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کے تحت ہے۔ اس مقدمے کے مدعی رائے تنویر احمد ہیں جو کہ ایف آئی آر کے مطابق راولپنڈی کے علاقے چکلالہ کے رہائشی ہیں۔

تعزیرات پاکستان کی اس دفعہ کے تحت اگر کسی شخص پر آرمڈ فورسز کے کسی اہلکار کو بغاوت پر اُکسانے کا جرم ثابت ہو جائے تو اس کی سزا موت ہے۔ اس کے علاوہ اس قانون کے تحت مجرم کو عمر قید یا دس سال قید اور جرمانے کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کا کورٹ مارشل کیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے درج ہونے والی ایف آئی آر میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملزم حسن عسکری نے اپنے خطوط میں فوج کی اعلی قیادت کے خلاف غیر قانونی ریمارکس بھی دیے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کا تعلق ملک دشمن عناصر سے ہے جو پاکستانی فوج میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں۔

آرمی ایکٹ کا سیکشن 31 ڈی

آرمی ایکٹ کے سیکشن 31 ڈی کے تحت صرف کوئی فوجی اہلکار یا افسر ایسے مقدمے میں ملوث پایا جائے تو اس کا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے جبکہ سویلین یعنی عام شہری پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس آرمی ایکٹ کی شق 2 ون ڈی کے تحت کسی بھی سویلین کا معاملہ 31 ڈی میں لا کر اس کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے پہلے اس سویلین کے خلاف کسی تھانے میں مقدمہ کے اندارج اور مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے۔

آرمی ایکٹ میں اس شق کو پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے متعارف کروایا تھا۔

واضح رہے کہ جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی درخواستوں کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو کچھ عرصہ قبل حساس اداروں کے اہلکاروں نے اپنی حراست میں لیا تھا تو ان کا معاملہ بھی اسی قانون کے تحت کورٹ مارشل کے لیے لے کر آئے تھے لیکن وہاں پر نہ تو کوئی مقدمہ درج کروایا گیا اور نہ ہی کسی مجسٹریٹ کے سامنے اُنھیں پیش کیا گیا جس کی بنا پر لاہور ہائی کورٹ نے اُنھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

گذشتہ برس پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے سابق چیئرمین ابصار عالم اور صحافی اسد علی طور کے خلاف بھی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کے تحت ہی مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ مذہبی جماعت تحریک لبیک کی قیادت نے جب فوج کی قیادت کے خلاف باتیں کی تھیں تو ان کے خلاف بھی اسی قانون کے تحت مقدمات درج ہوئے تھے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی وکیل حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی کارروائی کھلی عدالت میں ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ ہے کہ جس میں تفتیشی اداروں نے کوئی مواد جج صاحب کو دکھانا ہے یا پیش کرنا ہے تو وہ اس کو ان کے چیمبر میں لے کر جا سکتے ہیں اور اس کو خفیہ رکھ سکتے ہیں لیکن اس سارے معاملہ کی ان کیمرہ کارروائی کرنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملکی قانون جب فیئر ٹرائل کی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ انصاف صرف ہو ہی نہ بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔

حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو فوجی عدالتوں میں ہونے والی کارروائی کا جائزہ لینے اور ان کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17794 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp