کیا انڈین کسانوں نے دلی کے لال قلعے سے انڈیا کا قومی جھنڈا اتار کر خالصتان کا پرچم لہرایا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا

منگل کے روز دلی میں انڈیا کے یوم جمہوریہ کی پریڈ کے بعد ’ٹریکٹر ریلی‘ کے دوران مشتعل ہجوم میں شامل کچھ افراد لال قلعے پر چڑھ دوڑے تھے۔ یہ انڈین کسان تھے جو گذشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے ملک میں متعارف کروائے گئے نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والی کسان تنظیموں سے وابستہ ہیں۔

لال قلعے میں داخل ہونے اور جھنڈے لہرانے والے لوگوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ان ویڈیوز میں کچھ لوگ لال قلعے پر پرچم لہراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ پہلی نظر میں یہ جھنڈے زعفرانی اور پیلے رنگ کے نظر آتے ہیں۔

انڈیا اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان مظاہرین نے لال قلعے کے اطراف سے انڈیا کا پرچم اتارا اور ’خالصتان‘ تحریک کا پرچم لہرایا۔ سوشل میڈیا پر یہ خبریں عام ہیں اور بیشتر لوگ ان مظاہرین کے خلاف یہ اقدام کرنے پر کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ خالصتان تحریک علیحدگی کی ایک تحریک تھی اور بہت سی سکھ تنظیمیں اس تحریک کی حامی تھیں۔ اس تحریک کا مقصد ایک علیحدہ سکھ تحریک کا قیام تھا۔

انڈین ٹوئٹر صارف شیام جھا نے لکھا: ’گاؤں کا بچہ بھی جانتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے اور ہم کچھ پوشیدہ ماسٹر سٹروکس کا انتظار کر رہے تھے۔ تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ مودی جی کے دور حکومت میں لوگ لال قلعے میں داخل ہوئے اور خالصتانی پرچم لہرایا گیا۔‘

تاہم ٹوئٹر پر ایک خاتون شویتا شالینی نے لال قلعے پر لہرائے جانے والے دونوں جھنڈوں میں فرق بتایا۔

انھوں نے لکھا: ’یہ معلومات کچھ لوگوں کے لیے ہیں۔۔۔ براہ کرم دونوں جھنڈوں پر نظر ڈالیں، ایک پرچم کیسریا نشان صاحب کا ہے، جو آپ کو تمام گرودواروں میں نظر آئے گا۔ دوسرا پرچم پیلے رنگ کا ہے، براہ کرم تیسری تصویر میں دیکھیں اس کا کیا مطلب ہے۔‘

انڈین نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس نے کہا ہے کہ لال قلعے پر جو کچھ ہوا ہے وہ ان کی توہین ہے جنھوں نے انڈیا کی آزادی کے لیے اپنی جانیں دیں۔

لیکن بہت سے سینیئر صحافیوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ لال قلعے پر خالصتان کا پرچم لہرایا گیا۔

سینیئر صحافی راج دیپ سردسائی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: ’نشان صاحب پرچم کوئی خالصتانی جھنڈا نہیں ہے۔ یہ سکھ مذہب میں ایک قابل ستائش جھنڈا ہے لیکن یوم جمہوریہ کے موقع پر اسے لال قلعے پر زبردستی لہرانے کی ضرورت نہیں تھی۔‘

انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی کل یہ معاملہ زیر بحث رہا۔ ٹوئٹر پر سعد خانی نے لکھا: ’دلی میں خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا گیا۔ آزادانہ طور پر لڑنے والوں کے لیے تاریخی دن۔‘

اور چند پاکستانی صارفین تو اس معاملے میں دو ہاتھ مزید آگے نکل گئے۔ میاں خرم شہزاد نامی نامی صارف نے لکھا: ’یہ وقت ہے کہ ہم اپنے نئے ہمسائے خالصتان کو خوش آمدید کہیں۔ یوم جمہوریہ پر کسان احتجاج خالصتان کی آزادی کی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔‘

دوسری جانب سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کی تفتیش کرنے والی ویب سائٹ الٹ نیوز نے تحقیقات کے بعد کہا ہے کہ مظاہرین نے انڈیا کے جھنڈے کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔

بی بی سی کو دستیاب ویڈیوز میں بھی مظاہرین کہیں بھی انڈین پرچم ہٹاتے یا اسے اتارتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ درحقیقت جب وہ لال قلعے کے اطراف پر چڑھے تھے تو انھوں نے بہت سی جگہوں پر زعفرانی رنگ کے مذہبی پرچم اور کسان پرچم (جن کا کسی سیاسی تحریک سے کوئی واسطہ نہیں ہے) لہرائے۔

اب آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ کھانڈا کی علامت بننے والا زعفرانی جھنڈا اصل میں کیا ہے۔

بی بی سی پنجابی نے اس بارے میں پٹیالہ کی پنجابی یونیورسٹی میں شعبہ سری گرو گرنتھ صاحب کے چیئرمین پروفیسر سربجندر سنگھ سے معلومات لی ہیں۔

سربجندر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ سکھ مذہب میں لفظ ’صاحب‘ بطور اعزاز استعمال ہوتا ہے۔

نشان صاحب کو سب سے پہلے سکھ مذہب کے چھٹے گرو بال ہرگوبند نے سکھ مذہب میں متعارف کرایا تھا جب لاہور میں جہانگیر کے حکم پر گرو ارجن دیو جی کو قتل کیا گیا تھا۔

سکھ روایت کے مطابق پانچویں گرو نے بال ہرگوبند کو ایک پیغام بھیجا جسے گرو ارجن دیو جی کا ’آخری پیغام‘ کہا جاتا ہے۔ پیغام تھا ’جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ شاہی اعزاز کا ایک تاج پہنے، ایک فوج رکھے اور تخت پر بیٹھے اور اپنی مثال قائم کرے۔‘

انڈیا

جب گروگددی کی رسم میں بال ہرگوبند کو روایتی طور پر بابا بوڈھا جی نے پیش کیا تو انھوں نے کہا: ’یہ سب چیزیں خزانے میں رکھو، میں شاہی شان و شوکت کے ساتھ تاج پہنوں گا اور نشان لگا دوں گا، میں تخت پر بیٹھوں گا۔ ایک فوج رکھوں گا، میں بھی شہید ہو جاؤں گا لیکن اس کی شکل پانچویں بطاح سے مختلف ہو گی جو شہدا کو میدان جنگ میں دیا جائے گا۔‘

اس کے بعد شری ہرمندر صاحب کے سامنے ایک 12 فٹ اونچا پلیٹ فارم لگایا تھا۔ (دلی بادشاہت کا تخت گیارہ فٹ تھا اور انڈیا میں اس سے بلند تختہ تعمیر کرنا قابل سزا جرم تھا)۔ درحقیقت اس تخت کو 12 فٹ اونچائی پر رکھ کر حکومت کو چیلنج کیا گیا تھا۔

یہ تخت بھائی گورداس اور بابا بوڈھا جی نے تعمیر کیا تھا۔ اس سے پہلے چھٹے بادشاہ نے خود جدیدر، بھائی گورداس جی کو مقرر کیا تھا۔ اس کے سامنے دو نشانات لگائے گئے تھے۔ جنھیں پیری اور مری کے نشان کہتے ہیں۔ پیر کی پگڈنڈی میری سے ڈیڑھ فٹ اونچی ہے۔

گرو بادشاہ کے وقت اس کا رنگ زعفرانی (کیسری) تھا لیکن 1699 میں خالصہ کی تعمیر کے بعد نیلے نشان کا بھی استعمال کیا گیا۔ اسے اس وقت ’قحط کا جھنڈا‘ بھی کہا جاتا تھا۔

کیسری نشان صاحب دراصل سکھ مذہب کی آزاد شخصیت کی علامت ہے۔ یہ ایک مذہبی علامت ہے اور ہر گرودوارہ یا سکھ تاریخ سے وابستہ مقامات پر نصب ہے۔

لال قلعے پر جس کیسری نشان والا پرچم لہرایا گیا ہے وہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی تحریک کا جھنڈا نہیں بلکہ سکھ مذہب کی علامت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17710 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp