تیرا کامت: ‘بچی کی بیماری ایک انجیکشن سے دور ہو سکتی ہے جس کی قیمت 16 کروڑ روپے ہے‘

امریتا دوروے - بی بی سی مراٹھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’آپ کی بیٹی چھ ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہے گی۔ انڈیا میں اس کا کوئی علاج ممکن نہیں ہے۔ تیرا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے پہلے دن ہی ہمیں یہ افسوسناک خبر دے دی تھی۔‘

پانچ ماہ کی تیرا کے والد مہر کامت نے یہ بات بی بی سی مراٹھی سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ تیرا گذشتہ چند دنوں سے ممبئی کے ایس آر سی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

مہر کامت کا کہنا ہے کہ ’پیدا ہوتے وقت اس نے بہت شور کیا۔ جب وہ اپنی پیدائش کے بعد روئی تو آواز ہسپتال کی انتظار گاہ تک آ رہی تھی۔ اس کا دماغ عام بچوں سے زیادہ تیز تھا۔ اس کا سر تیر کی طرح لمبوترا تھا، اسی وجہ سے ہم نے اس کا نام تیرا رکھا۔‘

پیدائش کے بعد تیرا گھر آ گئی اور سب کچھ بظاہر ٹھیک ٹھاک تھا۔ لیکن جلد ہی حالات بدلنے لگے۔ تیرا اپنی والدہ کا دودھ پیتے ہوئے اپنا دم گھٹتے ہوئے محسوس کرتی تھی۔ اس کے جسم میں پانی کی کمی تھی۔ ایک بار جب اس کی سانسیں کچھ سیکنڈ کے لیے رُکی تو اس کے والدین کو لگا کہ تیرا فوت ہو گئی ہے اور وہ اسے لے کر ہسپتال کو بھاگے۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا سے بھی مہلک وائرس جو ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے

’انسانی دماغ میں خلیوں کی تعداد کہکشاں کے تاروں سے بھی زیادہ‘

دو بہنیں جو جنس تبدیلی کے آپریشن کے بعد دو بھائی بننے پر خوش ہیں

ڈاکٹروں نے بچی کو نیورولوجسٹ کو دکھانے کے لیے کہا۔ نیورولوجسٹ نے تشخیص کی کہ بچی ایس ایم اے ٹائپ 1 نامی مرض میں مبتلا ہے۔ نام سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بیماری کتنی خطرناک ہے۔

پروٹین جین

انسانوں کے جسم میں ایک جین موجود ہوتا ہے، جو پروٹین بناتا ہے اور اسی کے ذریعے پٹھوں اور اعصاب کو زندہ رکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ جین تیرا کے جسم میں موجود ہی نہیں تھا۔

تیرا کا جسم یہ ضروری پروٹین نہیں بنا پا رہا تھا۔ اس کی وجہ سے تیرا کے اعصاب جیسے مردہ ہونے لگے تھے۔ اس کا دماغ بھی کم متحرک اور بے جان ہونے لگا تھا۔

سانس لینے سے لے کر کھانا چبانے تک، انسانی دماغ تمام پٹھوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ مگر یہ سب عمل تیرا کے جسم میں نہیں ہو رہا تھا۔ اس حالت کو ایس ایم اے یعنی سپائینل مسکیولر ایٹروپی کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کی کئی اقسام ہیں اور قسم 1 انتہائی سنگین ہے۔

13 جنوری کو سانس میں مشکلات کے باعث تیرا کو ممبئی کے ایس آر سی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ تیرا کے ایک پھیپھڑے نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس کے بعد اسے وینٹیلیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

مہر کامت کہتے ہیں ’وہ آج بھی وینٹیلیٹر پر ہیں۔ لیکن اب اسے زیادہ دن وینٹیلیٹر پر نہیں رکھا جا سکتا۔ کیونکہ اسے زیادہ دن وینٹیلیٹر پر رکھنے سے ٹیوب میں انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے۔‘

انڈیا میں علاج دستیاب نہیں ہے

تیرا کی دیکھ بھال کرنے کے علاوہ پرینکا اور مہر کو اپنی بیٹی کے علاج کے خرچے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

پہلی مشکل یہ ہے کہ اس بیماری کا علاج، جس کے بعد جسم میں وہ جین بننے لگتا ہے جو پروٹین بناتا ہے، انڈیا میں ممکن ہی نہیں ہے۔

مہر کامت کہتے ہیں کہ ’تیرا کی صورتحال بھی نازک ہے۔ اسے اس حالت میں کہیں بھی باہر لے کر جانا ممکن نہیں ہے۔ جو کچھ بھی ہے، ہمیں انڈیا میں ہی کرنا ہے۔‘

یہی وجہ ہے کہ امریکہ سے خصوصی انجیکشن لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر اس انجیکشن کی قیمت 16 کروڑ انڈین روپے کے لگ بھگ ہے۔

مشکل صورتحال کا قدرے اچھا پہلو

مہر ایک آئی ٹی سروس کمپنی میں کام کرتے ہیں جبکہ پرینکا مصور ہیں۔ اس انجیکشن کی قیمت سُن کر وہ دونوں حیران رہ گئے۔

لیکن کچھ دنوں کے بعد ان لوگوں نے ایک بین الاقوامی نیوز چینل پر ایک ایسی خبر دیکھی جس میں لوگ کینیڈا میں ایسی مشکل بیماریوں کے علاج کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے۔ مہر اور پرینکا کو بھی یہ خبر سننے کے بعد آس نظر آنے لگی۔

مہر نے بتایا ’یہ پہلے تو بہت مشکل لگتا تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ بیٹی چھ ماہ سے زیادہ نہیں زندہ رہے گی، کیونکہ انڈیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو پہلے دن بتایا تھا۔ میں نے کہا اگر آپ رونا چاہتی ہیں تو اب نہ رونا کیونکہ ابھی ایک طویل جدوجہد آگے ہے۔‘

مہر کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی 16 کروڑ روپے نہیں دیکھے ہیں۔ لیکن ہم نے سوچا کہ ہمیں شروع کرنا چاہیے۔ کینیڈا جیسے ممالک میں لوگ کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے رقم اکٹھا کرتے ہیں۔ ایک شخص کو یہ کرتے دیکھ کر ہمیں یقین ہوا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔‘

دونوں والدین نے تیرا کی کہانی کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ اس کے بعد انھوں نے تیرا کی ایس ایم اے کی ایک مہلک بیماری کے خلاف جاری لڑائی کے عنوان سے ایک انسٹاگرام اور فیس بُک پیج بنایا۔ اس پر وہ تیرا کی صحت کے بارے میں مستقل معلومات فراہم کرتے ہیں اور لوگوں سے مدد کی اپیل کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے وہ تیرا کے علاج کے لیے رقم اکٹھا کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

مہر کہتے ہیں ’لوگ ہماری کہانی سنتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ ہماری کہانی اُن کی اپنی ہے۔ ہم لوگوں کو ہر روز اپڈیٹ بتاتے ہیں۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ ان کی اپنی بیٹی، یا بھتیجی ہے۔ لوگوں نے بھی مدد کی۔ ایک بڑھئی نے دور دراز علاقے سے کچھ پیسے بھیجے۔ میں ان لوگوں سے کبھی نہیں ملا مگر وہ چھوٹے چھوٹے دیہات سے مدد بھیج رہے ہیں۔‘

بہت سے دوسرے لوگوں نے بھی تیرا کے لیے مدد حاصل کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف اس انتہائی سنگین بیماری کی شکار تیرا ہمیشہ اپنی آنکھوں کے ذریعے مسکراتی نظر آتی ہے۔

بہت سارے لوگوں کی مدد سے رقم جمع ہو رہی ہے اور تقریباً 16 کروڑ تو جمع ہو چکے ہیں لیکن یہ رقم تو صرف انجیکشن کی قیمت ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی اخراجات ہیں۔

ڈاکٹروں نے امریکہ سے انجیکشن لینے کا عمل شروع کر دیا ہے، مگر اس میں وقت لگے گا۔ انجیکشن کی لاگت کے علاوہ، کامت فیملی کے سامنے اور بھی چیلینجز ہیں۔

مہر بتاتے ہیں ’پہلی بات یہ ہے کہ ہم یہ ادائیگی کس طرح کریں گے۔ اتنی بڑی رقم ہے۔ ہم میں سے کسی نے بھی اتنی بڑی رقم اب تک ادا نہیں کی۔ کیا ہمیں اس کی ادائیگی کے لیے ٹرانسفر فیس ادا کرنا پڑے گی؟ کیا ڈالر کا تبادلہ ہو گا؟ ہمارے پاس اس سب کا کوئی جواب نہیں ہے۔

مہر یہ بھی کہتے ہیں کہ ’نایاب دوائیں کسٹم ڈیوٹی سے خارج کر دی گئیں ہیں۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ کیا اس دوا کو زندگی بچانے والی دوائیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ کیا ہمیں اس کے لیے جی ایس ٹی ادا کرنا پڑے گی؟ اگر ہمیں جی ایس ٹی ادا کرنا پڑے تو 12 فیصد کی شرح سے، پھر وہ بھی بہت بڑی رقم ہو گی۔‘

’رقم جمع کرنا بہت مشکل ہے۔ لیکن ہم یہ کر رہے ہیں۔ لیکن اگر حکومت ہمیں ٹیکس سے تھوڑی ریلیف دیتی ہے تو ہمارے علاوہ باقی تمام متاثرہ خاندانوں کی بھی مدد ہو گی۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں جین تھراپی کو بھی ہونا چاہیے۔ اسے شروع کیا جانا چاہیے۔‘

مہر کا ماننا ہے کہ جب تک کمپنیاں یہ دوائیں انڈیا نہیں لاتی ہیں تب تک متاثرہ بچوں کا علاج نہیں ہو گا۔ اس کے انھیں بیرون ملک جانا پڑے گا۔ وہاں جانے کے لیے قیام کریں اور تارکین وطن کی حیثیت سے جانے کی اجازت حاصل کریں، ان مسائل پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

ممبئی ہسپتال کی نیورولوجسٹ ڈاکٹر نرمل سوریہ کہتی ہیں کہ ’ایس ایم اے ریڑھ کی ہڈی کے گرد پٹھوں کی اٹروپی کی چار اقسام میں سے ایک ہے۔ ان میں سب سے پہلی قسم انتہائی پیچیدہ ہے۔ یہ چھ ماہ تک کے بچوں میں پائی جاتی ہے اور اس میں اعصاب بے جان ہو جاتے ہیں۔ مریض کے جسم سے دماغ کو کوئی معلومات منتقل نہیں ہوتیں اور دماغ کمزور ہونے لگتا ہے، اور آخر کار یہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں بچے کا بچنا مشکل ہے۔ آج بھی اس کا یہاں کوئی علاج نہیں ہے۔‘

’اگرچہ اس بیماری کے علاج کے لیے سنہ 2019 میں امریکہ میں زولجینما تھراپی کو منظور کیا گیا تھا۔ یہ علاج دو سال سے کم عمر بچوں کو دیا جاتا ہے۔ اگرچہ سارا نقصان ٹھیک نہیں ہو سکتا لیکن بچہ کسی حد تک ٹھیک ہو جاتا ہے۔‘

’یہ انجیکشن دینے کے بعد، جسمانی اعصاب خراب ہونا رک جاتے ہیں۔ کمزور اعصاب کا دماغ سے دوبارہ رابطہ قائم ہونے لگتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ مضبوط ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ بچہ بڑا ہوتا ہے اور حرکت کرنے لگتا ہے۔ یہ علاج بہت مہنگا لیکن موثر ہے۔‘

تیرا محض پانچ ماہ کی ہیں۔ ان کا اعصابی نظام مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا ہے، لیکن اس کے اعصاب بہت کمزور ہو چکے ہیں، لیکن وہ حرکت کر سکتی ہیں۔

مہر بتاتے ہیں کہ ’یہ انجیکشن صرف ایک بار دینا ہے۔ اگر وقت پر انجکشن لگایا گیا تو تیرا کے پٹھوں کو مضبوط تر کیا جا سکے گا۔ جسم پروٹین بنانا شروع کر دے گا اور یہ ایک عام زندگی بسر کرے گی۔ وہ کھا سکے گی اور صحیح طور پر سانس لے سکے گی۔‘

ملک بھر میں ایس ایم اے مریضوں کی حالت

الپنا شرما کا بیٹا سنہ 2013 میں ایس ایم اے ٹائپ 2 کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ بین الاقوامی اداروں نے ان کے بیٹے کے علاج میں مدد کی تھی۔ سنہ 2014 سے الپنا نے انڈیا میں ایس ایم اے سے متاثرہ بچوں کے لیے کیور ایس ایم اے فاؤنڈیشن تشکیل دی۔ یہ انسٹیٹیوٹ ایس ایم اے میں مبتلا بچوں کی مدد کرتا ہے۔

الپنا شرما نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ ’ایس ایم اے کا صرف ایک چھوٹا سا علاج ہے۔ تمام بچے قیمت کے سبب اسے حاصل نہیں کر سکتے۔ بہت ساری دوا ساز کمپنیاں یہ دوائیں اپنی سی ایس آر یعنی کارپوریٹ سوشل ذمہ داری کے طور پر فراہم کرتی ہیں۔ یہ بالکل لکی ڈرا کے مترادف ہے۔ جبکہ ہر ایک کو زندہ رہنے کا حق ہے۔ کوئی والدین اپنی آنکھوں کے سامنے بچے کو مرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سمت میں پہل کرے۔‘

’یہاں تک کہ اگر یہ کمپنیاں علاج انڈیا لے کر آئیں تو بھی لوگ اس کی قیمت برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اس کے لیے حکومت کو پہل کرنا ہو گی۔ ابھی تیرا کے والدین جدوجہد کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں ایسے بہت سے والدین ہوں گے۔‘

تیرا اگست میں کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران پیدا ہوئی تھیں۔ کووڈ کی وجہ سے والدین کو اضافی احتیاط برتنی پڑتی ہے۔

مہر بتاتے ہیں کہ ’ہم دیکھتے ہیں کہ تیرا تکلیف میں ہے۔ اسے بچانا ضروری ہے۔ یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک کہ وہ ضروری علاج حاصل نہیں کرے گی۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کو بتائیں کہ امید ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی باقی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17964 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp