پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ پر سمیع چوہدری کا کالم: لیکن فواد عالم آڑے آ گئے

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فواد عالم
Getty Images
جرأت اور دانش مندی میں ایک باریک سا فرق ہوتا ہے۔ جو اس فرق کو نہیں سمجھتا، وہ اپنا ہی نقصان کر بیٹھتا ہے۔

جنوبی افریقہ کے کوئنٹن ڈی کاک کی بیٹنگ ٹیم بھی یہ فرق نہیں سمجھ پائی اور دلیری دکھاتے دکھاتے اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مار بیٹھی۔

اس میں دو رائے نہیں کہ جنوبی افریقی کے بلے باز ایشیا کی کنڈیشنز میں عموماً لاچار ہی دکھائی دیتے ہیں مگر ڈین ایلگر نے جس طرح اپنی اننگز بڑھائی، اس کے بعد محض 220 رنز کی جگہ ایک اچھا مسابقتی مجموعہ تشکیل دیا جا سکتا تھا۔

دنیا بھر کی روایت کے عین مطابق پاکستان نے بھی ہوم کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی طرح کی سپن وکٹ بنائی۔ ڈی کاک نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ بھی یہی سوچ کر کیا تھا کہ اس سُست وکٹ پہ چوتھی اننگز کی بیٹنگ نہ کرنی پڑے۔

لیکن یہ یاد رکھنا بھی ضروری تھا کہ یہاں کی بیٹنگ کنڈیشنز میں اننگز چاہے پہلی ہو یا چوتھی، تحمل بنیادی عامل ہے۔ یہ وہ وکٹیں نہیں کہ آپ جنوبی افریقہ کی طرح ہر سیدھی گیند کو ڈرائیو کرنے کی کوشش کریں۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم

انڈیا، آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز: ایک کرکٹنگ کہانی جو برسوں زندہ رہے گی

اگر مصباح کو گھر بھیج دیا جائے؟

’شکر ہے، کرائسٹ چرچ ٹیسٹ ختم ہو گیا‘

فواد عالم کے گیارہ سال اور یہ ساڑھے چھ گھنٹے

جنوبی افریقی بلے بازوں کی اس بے سبب سبک رفتاری کا پاکستانی بولنگ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ساتھ ہی وکٹ سے یہ مدد بھی ملی کہ پہلے روز مسلسل متغیر باؤنس دیکھنے کو ملا۔ یہ بیٹنگ کے لیے آسان وکٹ ہرگز نہیں تھی۔

اس کا سب سے واضح ثبوت ہمیں کل شام کے سیشن میں دیکھنے کو ملا جہاں ربادا، نورکیا اور ماہراج نے اوپر تلے چار وکٹیں گرا دیں اور پاکستانی ڈریسنگ روم کے سبھی ہشاش بشاش چہرے ایک دم مرجھاتے نظر آئے۔

اگر جنوبی افریقہ بولنگ ڈسپلن کا ویسا ہی مظاہرہ آج بھی کرتا تو بعید نہ تھا کہ پاکستانی اننگز خسارے کا شکار ہی رہتی مگر بہت عرصے بعد پاکستانی مڈل آرڈر نے وہ مزاحمت دکھائی جو وقت کی گرد میں کہیں گم ہوتی جا رہی تھی۔ اس مزاحمت نے ربادا اور ان کے ہمنواؤں کے ڈسپلن کو بھی ناکام کر چھوڑا۔

پاکستان، جنوبی افریقہ

Getty Images
یہ وہ وکٹیں نہیں کہ آپ جنوبی افریقہ کی طرح ہر سیدھی گیند کو ڈرائیو کرنے کی کوشش کریں

اظہر علی نے ہوم کنڈیشنز کے لیے بالکل وہی فلسفہ اپنایا جو لگ بھگ سبھی کنڈیشنز میں مڈل آرڈر ٹیسٹ بلے بازی کا خاصہ ہے۔ وکٹ پہ رُکنا اور بغیر رنز بنائے حریف بولرز کو تھکانا، یہ وہ دقیق آرٹ ہے جو کامیاب ایشیائی بلے بازوں کا خاصہ رہا ہے۔

اور اسی سانچے میں ڈھل کر فواد عالم نے بھی جب جنوبی افریقی اٹیک کو تھکانا شروع کیا تو ڈی کاک خود بھی پریشان ہوتے نظر آئے۔ فیلڈرز کی چستی ماند پڑنے لگی اور کیچز بھی ڈراپ ہونے لگے۔

فواد عالم نے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے لیے جتنا انتظار کیا ہے، اب کریز پر ان کی موجودگی سے یہ جھلکتا ہے کہ وہ ایک ایک گیند کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ فواد عالم کا ہوم گراؤنڈ ہے اور پچھلے گیارہ سال جب وہ قومی ٹیم سے دور تھے، اسی گراؤنڈ پہ لگاتار بڑی اننگز کھیلتے رہے ہیں۔

بھلے مبصر ان کی تکنیک اور سٹائل پہ جو بھی رائے زنی کریں، فواد نے سارے سوالوں کے جواب اپنے بلے سے دے دیے ہیں۔

ڈین ایلگر

Getty Images
ڈین ایلگر نے جس طرح اپنی اننگز بڑھائی، اس کے بعد محض 220 رنز کی جگہ ایک اچھا مسابقتی مجموعہ تشکیل دیا جا سکتا تھا

بلے باز کے لیے ہر اننگز یادگار نہیں ہوتی۔ بڑے ہندسے یقیناً یاد رہ جاتے ہیں اور سنچری تو بہرحال یاد ہی رہتی ہے مگر فواد عالم کی یہ سنچری ایک ایسی اننگز ہے جو ان سمیت ان کے کئی ہم وطنوں کو بھی بہت دیر تک یاد رہے گی۔

کیونکہ جس وقت وہ کریز پر آئے، ٹیم گرداب میں پھنسی ہوئی تھی۔ ہزیمت کا یہ عالم تھا کہ نائٹ واچ مین بھی شکست و ریخت کو پندرہ گیندوں تک روک نہ پایا اور وہ فواد عالم جنھیں اگلی صبح کے سیشن تک بچایا جانا تھا، انھیں مجبوری کے عالم میں میدان میں اُترنا پڑا۔

اگر پاکستان یہ میچ جیت جاتا ہے تو اس میں بنیادی کردار فواد عالم کی سنچری کا ہو گا۔ اگر جنوبی افریقی بلے بازوں کو بھی ایشین کنڈیشنز میں کامیاب بیٹنگ کا راز جاننا ہے تو فواد عالم کی اس اننگز کو دیکھیں کہ کیسے برق رفتار بولرز کے سامنے کھڑے ہو کر وقت کو روکا جا سکتا ہے اور کھیل کی رفتار کو اپنے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔

جنوبی افریقہ کا یہ بولنگ اٹیک پاکستانی مقابل سے زیادہ تجربہ کار اور تیز رفتار ہے مگر اپنی تمام تر قابلیتوں کے باوجود فواد کو روکنے میں ناکام رہا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کی بولنگ میں کوئی کمی تھی، مسئلہ یہ تھا کہ فواد عالم کے ارتکاز میں کوئی کمی نہ تھی۔

یہ اننگز کھیل کر فواد عالم نے صرف میچ کا توازن ہی درست نہیں کیا، بہت سے ناقدین کو بھی جواب دیا ہے اور غالباً اپنے کوچنگ سٹاف کے مستقبل کو بھی محفوظ کر دیا ہے۔ کیونکہ ڈی کاک کے بولرز پہلی اننگز کی برتری کی راہ ہموار کر رہے تھے لیکن فواد عالم آڑے آ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17968 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp