کورونا وائرس: فضائی سفر پر پابندیوں سے رولز رائس کی پریشانیوں میں اضافہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رولز رائس
Getty Images
جہازوں کے انجن بنانے والی دنیا کی بڑی کمپنی رولز رائس کو اس برس اندازوں سے کہیں زیادہ مالی نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ اس کے بنائے ہوئے انجنوں سے اڑنے والے جہاز کی پروازوں میں کووڈ 19 کی وجہ سے نمایاں کمی آئی ہے۔

کمپنی نے اپنے پیداواری اخراجات میں کئی ارب پاونڈز کی کمی کی ہے تاہم اس کو سنہ 2021 میں اپنے اندازوں سے تقریباً دو گنا زیادہ نقصان ہونے کا خدشہ ہے جو کہ جو دو ارب پاؤنڈز بنتا ہے۔

کمپنی کے بنائے گئے انجنوں کو جتنے گھنٹے چلایا جاتا ہے، کمپنی کو اُس ہی حساب سے معاوضہ ادا کیا جاتا ہے لیکن کووڈ 19 کی وجہ سے فضائی سفر پر پابندیوں سے اس کو ملنے والی رقوم میں کمی واقع ہوئی ہے۔

کووڈ 19 کی نئی اقسام سامنے آنے سے مستقبل کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

ہزاروں مسافر طیارے ’صحرائی قبرستانوں‘ میں کیوں منتقل کیے جا رہے ہیں؟

کورونا وائرس: انڈیا میں ہوا بازی کی صنعت کتنی متاثر ہوئی ہے؟

ایئر لائنز کے لاکھوں ملازمین کی نوکریاں خطرے میں

رولز رائس کے انجن طیارہ ساز کمپنیوں بوئنگ اور ایئر بس کے جہازوں میں لگائے جاتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اندازوں کے مطابق اس سال دنیا بھر میں مسافر پروازوں کے مجموعی گھنٹے سنہ 2019 کے مقابلے میں 55 فیصد رہ جائیں گے جو کہ 77 فیصد کے ابتدائی اندازوں سے بھی کہیں کم ہے۔

ان خبروں سے لندن کے حصص بازار میں کمپنی کے حصص کی قیمیوں میں نو فیصد گرواٹ دیکھنے میں آئی۔

اپنے مالی نقصانات کو کم کرنے کے لیے کمپنی نے پہلے ہی اربوں پاونڈ مالیت کے اپنے اثاتے فروخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی اپنے اخراجات سے ایک ارب پاؤنڈ بچانے کے لیے نو ہزار ملازمین کو برخاست کرنے اور کئی فیکٹروں کو بند کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔

جہاز

Reuters

رولز رائس نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگائے جانے میں تیزی آنے سے معاشی سرگرمیاں اور فضائی سفر میں درمیانی مدت میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

لیکن زیادہ تیزی سے انسانوں میں منتقل ہونے والی وائرس کی نئی اقسام کی وجہ سے مستقبل قریب میں غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔

کمپنی نے مزید کہا کہ ‘آنے والے چند مہینوں میں طویل فضائی سفر پر مزید پابندیوں کی بنا پر اس شعبے میں بحالی کا عمل تاخیر کا شکار ہو جائے گا جس کی وجہ سے کمپنی کے گاہکوں اور فضائی صنعت پر بوجھ بڑھے گا اور سنہ 2021 میں کمپنی کے محصولات بھی متاثر ہوں گے۔’

کمپنی نے کہا کہ اس کے پاس نو ارب پاؤنڈ کی بچت موجود ہے اور اس ہی وجہ سے یہ بات اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ حالیہ مشکل حالات سے کمپنی نکلنے میں کامیاب ہو جائے گی اور اس کا مستقبل تاریک نہیں ہے۔

رولز رائس کا کہنا ہے کہ کمپنی کو ہونے والی مالی نقصانات پر اس سال کے دوسرے نصف میں قابو پالیا جائے گا۔

رولز رائس کے پیچیدہ کاروبار کی نوعیت کے سبب تجزیہ کار صرف ایک سال کے منافع کے اعداد و شمار کو نہیں دیکھتے۔

لیکن پیشہ ور سرمایہ کار ایک سال کے اندر کمپنی کو ہونے والے منافع اور نقصانات پر نظر رکھتے ہیں۔

کمپنی کی انتظامیہ شراکت داروں کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کمپنی کے مالی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے بنائے گئے منصوبے پر مثبت پیش رفت جاری ہے اور کمپنی کے چیف ایگزیٹویو وارن ایسٹ نے ایک بلین پاونڈ کمپنی میں آنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

جہاز

PA Media

کووڈ 19 کی وجہ سے ان منصوبوں پر بھی اثر پڑا تھا اور تجزیہ کاروں کے خیال میں بڑی بڑی فضائی کمپنیوں کے پورے کے پورے فضائی بیڑے کھڑے ہو جانے کی وجہ سےاس سال کمپنی کو ایک سے ڈیڑھ ارب پاونڈ کا نقصان ہو گا۔

منگل کی صبح رولز رائس نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے یہ اندازے بھی درست ثابت نہیں ہوں گے۔

کمپنی کے دوالیہ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے خاص طور پر گزشتہ سال بڑے پیمانے پر فنڈز اکھٹا کرنے کی وجہ سے اس کے پاس نو ارب ڈالر کی بچت موجود ہے۔ لیکن صورت حال پریشان کن ہیں۔

اگر کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے طویل فضائی سفر پر پابندیاں برقرار رہتی ہیں جیسا کہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسکا آرڈن نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ اس سال ملک کی سرحدوں کو باہر سے آنے والوں کے لیے بند ہی رکھا جائے تو پھر رولز رائس کو اپنی بچت سے مزید پیسے نکلوانے پڑیں گے۔

کمپنی کے حصص کی قدر میں گزشتہ تین برس میں تین چوتھائی کمی واقع ہوئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17683 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp