لاہور: چار طالب علم ’لاپتہ‘، جمعہ کو احتجاج کا اعلان

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پانچ طالب علم کے اہلخانہ اور ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کی صبح تقریباً چار بجے ایک پولیس پارٹی زبیر صدیقی، ثنا اللہ امین اور دیگر کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ تمام گرفتاریاں ثنا اللہ امین کی رہائش گاہ سے ہوئی ہیں تاہم لاہور پولیس کے ترجمان نے زبیر صدیقی کی گرفتاری کی تصدیق تو کی ہے مگر باقی چار افراد کی گرفتاری سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ لاہور کی نجی جامعہ یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے طلبا کیمپس امتحانات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور آن لائن پیپرز کے انعقاد تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

دو روز قبل احتجاج کے بعد لاہور پولیس نے طالب علم رہنما زبیر صدیقی سمیت متعدد طالب علموں کے خلاف مقدمات درج کیے۔ درج مقدمے کے مطابق زبیر صدیقی کی قیادت میں کچھ معلوم اور پچاس ساٹھ نامعلوم طلبا نے، جو مسلح تھے، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے گیٹ نمبر دو پر ہنگامہ آرائی، پتھراؤ اور اشتعال انگیزی کی۔ پولیس ترجمان کے مطابق ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے 37 طالب علموں کو گرفتار کیا، جنھیں عدالت میں پیش کر کے جیل بھیجا جا چکا ہے۔

ثنا اللہ امین کی رہائش گاہ پر کیا ہوا؟

ثنا اللہ امین کی اہلیہ سدرہ بانو جو خود اس گرفتاری کی عینی شاہد ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، کا کہنا ہے کہ اس رات پولیس ان کے گھر سے ان کے شوہر ثنا اللہ اور ان کے دوست اور لاہور میں تحریک چلانے والے طالب علم رہنما زبیر صدیقی کے علاوہ علی اشرف ملک، سلیمان سکندر اور حارث احمد کو گرفتار کر کے لے گئی تھی۔

سدرہ بانو کے مطابق صبح کے چار بجے پولیس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور ان کے خاوند کے کزن نے دروازہ کھولا تو اس کو گردن سے پکڑ لیا گیا۔

ثنا اللہ امین
ثنا اللہ امین

’اس موقع پر تین چار افراد سادہ کپڑوں میں تھے باقی سب کے سب پولیس وردی میں تھے۔ ان میں کوئی بھی خاتون پولیس اہلکار نہیں تھی۔ انھوں نے کمرے میں جا کر زبیر صدیقی کو پکڑ لیا۔ ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ باقیوں کو بھی ساتھ لے چلو۔‘

سدرہ بانو کا کہنا تھا کہ جب میں نے ان سے پوچھا کہ کدھر لے کر جا رہے ہو تو انھوں نے کہا کہ ہمیں صرف زبیر صدیقی سے مطلب ہے جب کہ باقی لوگوں کو صرف پوچھ گچھ کے لیے لے کر جا رہے ہیں۔

’گرفتاریوں کے موقع پر میں نے زوردار تھپڑوں کی آوازیں بھی سنی تھیں، جس سے خوفزدہ ہو کر میں کمرے میں چلی گئی تھی۔‘

سدرہ بانو کا کہنا تھا کہ صبح انھوں نے پولیس والوں سے پتا کیا تو وہ اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ انھوں نے کسی کو گرفتار کیا ہے۔

’اب تک میں سارے لاہور کے تھانے تلاش کرچکی ہوں۔ مجھے میرے خاوند، زبیر صدیقی اور باقی تین لوگوں جن کا طلبا احتجاج سے کوئی لینا دینا نہیں کہ بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا ہے۔‘

زبیر صدیقی
لاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف کا کہنا ہے کہ پولیس نے زبیر صدیقی کو گرفتار کیا ہے تاہم انھوں نے کسی قسم کے تشدد کی تردید کی ہے

پولیس کا مؤقف کیا ہے؟

لاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف کا کہنا ہے کہ پولیس نے زبیر صدیقی کو گرفتار کیا ہے تاہم انھوں نے کسی قسم کے تشدد کی تردید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’زبیر صدیقی نے جس مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کروائی تھی، انھیں اس میں گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ان کو ایک اور مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کی سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں۔ جس میں ان کو تشدد کرتے اور تشدد پر اکساتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔‘

رانا عارف کا کہنا تھا کہ پولیس 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کی پابند ہے اور اس سے پہلے ملزم کسی سے بھی ملاقات کا استحقاق نہیں رکھتا۔ انھوں نے کہا کہ ہم زبیر صدیقی کو 24 گھنٹوں میں عدالت میں پیش کر دیں گے۔

تاہم رانا عارف کا کہنا تھا کہ باقی چار افراد کی گرفتاری کے دعوے میں صداقت نہیں کیونکہ پولیس نے مزید لوگوں کو گرفتار نہیں کیا۔

حکومتی مؤقف حاصل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر اس میں کامیابی نہیں ملی اور بتایا گیا کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ میٹنگ میں ہیں۔

احتجاج

طلبا پر تشدد کا خدشہ

طالب علموں کی وکیل بیرسٹر جنت علی کلہیار کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پولیس نے زیبر صدیقی سمیت پانچ طالب علموں کو گرفتار کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’صبح سے سارے لاہور میں ان کو تلاش کیا جا رہا ہے مگر پولیس ان کی گرفتاری سے انکاری ہے۔ جس وجہ سے ہمیں یہ خدشہ ہے کہ ان پر تشدد نہ کیا جا رہا ہو۔‘

بیرسٹر جنت علی نے مزید کہا: ’زبیر صدیقی ایک مقدمے میں نامزد ہیں مگر انھوں نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔ ان کی گرفتاری عدالتی احکامات کی شدید خلاف ورزی ہے۔‘

جنت علی کلہیار کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ بھی خدشہ ہے کہ باقی چار طالب علموں کو، جن کا مقدمے میں نام تو نہیں، پولیس نے دیگر افراد لکھ کر گرفتار کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے گرفتاری کو ظاہر نہ کرنا بھی آئین، قانون اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے، جس پر عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

پروگریسو سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی طالب علم رہنما حیدر علی کا کہنا تھا کہ پولیس اور حکومت غیر قانونی ہتھکنڈے اخیتار کر رہے ہیں، جس پر چپ نھیں رہا جائے گا اور جمعے کو دن دو بجے لاہور سمیت پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17773 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp