سول افسران اور لباس کا انتخاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے یاد ہے سال 2012 کے وسط میں جب میں اس وقت کے ڈی سی نوشہرہ کے دفتر میں زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے ٹو پیس سوٹ اور ٹائی پہن کر حاضر ہوا تو دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چلا تھا۔ طے یہی پایا کہ نماز اور کھانے کے وقفے کے بعد تفصیلی بات چیت ہوگی۔ جب میں کھانے کے لئے ڈی سی صاحب کے دفتر سے منسلک بغلی کمرے میں داخل ہوا تو فرشی نشست کا اہتمام تھا اور دو مہمان پہلے سے ڈی سی صاحب کے منتظر تھے۔ قالین پر موجود پرات میں رکھے دنبے کے گوشت سے اٹھتی ہوئی خوشبو سے تب مجھے اجنبیت سی محسوس ہوئی تھی۔

میں ابھی تسموں والے بوٹ کھولتے ہوئے ٹائی اور کوٹ لٹکانے کے لئے کھونٹی کی تلاش میں کمرے کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ ڈی سی صاحب نے اپنے مخصوص پختون اردو لہجے میں سمجھاتے ہوئے مجھے کہا تھا کہ اگر میں صوبہ پختونخوا میں قیام کو اپنے لئے یادگار اور لوگوں کے لئے واقعتاً نفع بخش بنانا چاہتا ہوں تو مجھے وہاں کے کھانوں، زبان، رسوم و رواج اور بالخصوص لباس کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ ان کی یہ بات منطقی تھی اور سیدھی میرے دل کو لگی تھی۔

شاید یہی وجہ تھی کہ اٹھارہ گریڈ میں ترقی پانے کے بعد جب میں پختونخوا سے پنجاب واپس لوٹ رہا تھا تو عام لوگوں سے پشتو بول چال میں مناسب مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ میری مرغوب ترین خوراک دنبے کا گوشت اور پسندیدہ ترین لباس شلوار قمیض مع کوٹ یا واسکٹ اور پشاوری چپل ہو چکا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کل پنجاب سیکریڑیریٹ لاہور میں کام کے دوران ایک میکانکی انداز میں پھر سے وہی کوٹ پینٹ پہنتے ہوئے مجھے اپنا پسندیدہ لباس پہننے کا موقع زیادہ تر جمعہ کے دن ہی ملتا ہے۔

ایڈمنسٹریٹو یا مینجمنٹ سروسز میں منسٹریوں اور سیکریڑیریٹ کی تعیناتیوں کے مقابلے میں اضلاع کی تعیناتیاں جہاں کئی اور حوالوں سے منفرد ہیں وہاں ایک اہم حوالہ لباس کا انتخاب بھی ہے۔ دفتری امور کی انجام دہی، فیلڈ کے دورے، قدرتی آفات کے دوران ہنگامی کارروائیاں، صفائی ستھرائی اور شجر کاری کی مہمات، سبزی منڈیوں کے معائنے، جاگنگ، چہل قدمی اور ورزش (جو زندگی اور کام میں شدید عدم توازن کے باعث اب ایک خواب و خیال سے زیادہ نہیں)، رات سونے کے اوقات، چیف سیکریڑی، وزیر اعلی، گورنر، اور وزیر اعظم کے دورے، مہمان خصوصی کی حیثیت سے مختلف تقریبات میں شرکت اور بیرون ملک دورے وغیرہ اس بات کے متقاضی رہتے ہیں کہ کہاں کون سا لباس زیب تن کرنا ہے اور کون سا نہیں، کہاں دھوپ والا چشمہ پہننا ہے اور کہاں صرف جیب میں لٹکا لینا ہے، کدھر ٹائی لگانی ہے اور کہاں نہیں، کدھر کامبی نیشن پہننا ہے اور کہاں لاؤنج سوٹ ضروری ہے وغیرہ وغیرہ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ والٹن اکیڈمی یا صوبائی تربیتی اداروں میں ٹریننگ کے دوران زیر تربیت افسران کو جس صبر آزما مرحلے سے ہمہ وقت دوچار رہنا پڑتا ہے وہ مختلف اوقات کار میں مختلف طرز کے ملبوسات پہننے کی تربیت ہے۔ لیکن یہ بھی ایک روشن حقیقت ہے کہ آج سول سروس میں جن افسران کا ذکر بھی اچھے الفاظ میں کیا جاتا ہے وہ لباس سے نہیں بلکہ اپنے کام سے مقبول رہے ہیں۔ مسعود کھدر پوش جیسے سول افسر کی شہرت کی وجہ ان کی سادہ لباسی سے کم اور ان کے ہاری رپورٹ پر لکھے جانے والے پینتیس صفحات پر مبنی اس اختلافی نوٹ سے زیادہ ہے جس کو پاکستان میں زرعی اصلاحات کے لئے کیے جانے والے اقدامات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

گزشتہ روز صبح صبح عدالت عظمیٰ کی طرف سے موجودہ ڈی سی لاہور کے لباس کی ’غیر موزونیت‘ پر جس برہمی کا اظہار ہوا اس کی بدولت مختلف حلقوں میں عدالتوں میں حاضری کے دوران سول افسران کے لباس کے انتخاب کا معاملہ زیر بحث آ گیا ہے۔ حالانکہ میں کچھ سال قبل ایک قلیل دورانیے کے لئے ڈی سی صاحب کے ساتھ ایک اہم ادارے میں کام کر چکا ہوں اور مجھے بخوبی یاد ہے کہ وہ اچھے خاصے خوش لباس افسر رہے ہیں۔ تاہم جس طرح ڈی سی لاہور کے لباس پر معزز عدالت نے چیف سیکریڑی صاحب کے ہمراہ انہیں دوبارہ عدالت میں طلب کروا کر ان کی سرزنش کی ہے اس سے مجھے اسکول کے وہ ایام یاد آ گئے جہاں ہماری غیر تسلی بخش کارکردگی اور کوتاہیوں پر ہمارے والدین کو طلب کر لیا جاتا تھا اور جو شرمساری ان کی موجودگی میں ہمیں اٹھانا پڑتی تھی وہ غالباً اساتذہ کے سامنے بھی ویسے نہ ہوتی تھی۔

لیکن ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو عدالت عظمیٰ نے ایک اہم امر کی جانب سول افسران کی توجہ مبذول کروائی ہے کہ جہاں دیگر امور کے لئے انہوں نے بھانت بھانت کے پہناوے اپنے لیے مختص کر رکھے ہیں وہاں سول اور اعلی عدالتوں میں حاضری کے دوران بھی مناسب لباس پہن لینے میں کوئی حرج نہیں۔ ویسے بھی غالباً سول افسران کی ایک کثیر تعداد اس غلط فہمی کا شکار ہو چکی تھی کہ معزز عدالتوں کا کام صرف انصاف کی فراہمی اور قانون کی تشریح تک ہی محدود ہے اور افسران کے لباس جیسے معاملے کا عدالت میں زیر بحث آ جانا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

اب معزز عدالت کو ڈی سی صاحب کے لباس اور جوتوں کے رنگ پر زیادہ اعتراض تھا کہ ان کی ہیئت پر، یہ تو عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے پر ہی پتا چلے گا (ویسے کوٹ کی مخصوص رنگت پر کسی خاموش احتجاج کا گمان بھی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے)۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ معزز عدالت نے سول افسران کو اس بات کا بخوبی احساس دلوا دیا ہے کہ وہ عدالت میں ایک عام شہری کے روپ میں نہیں بلکہ اپنے عہدے کے مطابق مناسب لباس زیب تن کر کے پیش ہوا کریں (تا کہ ان کی پہچان میں دشواری نہ ہو)۔

ورنہ تو اکثر افسران کو عدالتوں سے یہ شکایت بھی ہو چلی تھی کہ جج صاحبان ان کے منصب اور عہدے کا قطعاً لحاظ نہیں کرتے اور ان کے ساتھ ایک عام فریق مقدمہ کے طور پر برتاؤ کیا جاتا ہے۔ لیکن عدالت ذی وقار نے اپنے حضور مناسب و موزوں لباس کے ذریعے سول افسران کے عز و وقار کی بحالی کا جو ارادہ کیا ہے وہ خوش آئند بھی ہے اور لائق ستائش بھی۔

آپ سول افسران سے ملاقات کے لئے ان کے دفاتر میں جائیں تو وہاں باقاعدہ کوٹ ٹانگنے کے لئے ہینگرز رکھے ہوئے نظر آئیں گے۔ فوری ضرورت کے تحت دو دو اور تین تین رنگوں کی ٹائیاں بھی ان کی میزوں کے درازوں میں دھری ہوتی ہیں اور ایک آدھ آئینہ اور ہیئر برش بھی موجود رہتا ہے تاکہ جب کسی میٹنگ یا کسی بڑے افسر سے ملاقات کی آواز پڑے وہ حسب ضرورت اپنی وضع قطع درست کر لیں۔ اب اتنا ضرور ہوگا کہ سول افسران عدالتوں میں پیشی کے دوران بھی اپنے لباس کے معاملے میں ویسے ہی محتاط رہا کریں گے جیسا کہ وہ دیگر مقامات پر رہا کرتے ہیں۔ بلکہ ممکن ہے عدالتوں میں پیشیوں کے لئے وہ ایک الگ لباس اپنی الماریوں اور سرکاری گاڑیوں میں لٹکا کر رکھیں جو بوقت ضرورت ان کے کام آ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اویس ملک، واہ کینٹ کی دیگر تحریریں