جیل سے فرار ہونے والے انڈیا کے ’سیریل کِلر‘ جنھوں نے 18 ’تنہا‘ خواتین کو اپنا نشانہ بنایا

باٹ ستیش - بی بی سی تیلگو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قاتل
Getty Images
وہ 30 دسمبر کی یخ بستہ رات تھی۔ انڈیا کی ریاست حیدرآباد کے شہر یوسفگڈا میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں کچھ لوگ بیٹھے نشہ آور دیسی مشروب پی رہے تھے۔

اس کمپاؤنڈ میں موجود ہر شخص نشے میں تھا۔ اس احاطے میں اُن کے علاوہ دو اور افراد بھی تھے جو نشے سے چور تھے۔ ان دونوں افراد میں ایک 50 سالہ خاتون تھیں جبکہ ایک 45 سالہ مرد تھا۔

وہ 45 سالہ مرد آہستہ آہستہ اُس خاتون کے پاس گیا اور جلد ہی ان کی بات چیت شروع ہو گئی۔ اس شخص نے کچھ دیر خاتون سے بات کی اور اس کے بعد وہ دونوں کمپاؤنڈ سے باہر نکل گئے۔ اب اِن دونوں نے شہر کے مضافات میں کسی ویران جگہ کی تلاش شروع کر دی۔

جلد ہی یہ ایک مضافاتی علاقے ’انکوش پور‘ پہنچ گئے۔ یہ ایک ویران جگہ تھی۔

دونوں نے یہاں پہنچنے کے بعد مزید شراب پی۔ لیکن اس کے بعد وہ آپس میں جھگڑنے لگے۔ جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ اس شخص نے خاتون کو پتھر مار کر ہلاک کر ڈالا اور وہاں سے فرار ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

پانچ سب سے خطرناک جاسوس خواتین

وہ بدترین امریکی سیریل کلر جو 93 عورتوں کا قاتل تھا

گردن توڑ کر قتل کرنے والا لاہور کا مالشیا ’سیریل کِلر‘ کیسے بنا؟

اس واقعہ سے صرف 20 دن پہلے یعنی 10 دسمبر کو بالا نگر میں دیسی شراب کے ایک کمپاؤنڈ میں بھی کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔

یہ شخص (جس نے خاتون کو پتھر مار کر ہلاک کیا) وہاں پہنچا اور جلد ہی اسے اس کمپاؤنڈ میں بھی ایک تنہا خاتون مل گئی۔

اس خاتون کی عمر 40 سال کے لگ بھگ تھی۔ دونوں نے وہاں شراب پی تھی اور جلد ہی وہ اپنے حواس کھو بیٹھے تھے۔

گذشتہ واقعے کی طرح اس واقعے میں بھی یہ دونوں شہر کے ویران علاقے کی طرف چل پڑے۔ دونوں شہر کے سنسان علاقے سینگاریڈی ضلعے کے مولوگو علاقے کے سنگیاپللی گاؤں پہنچے۔ وہاں پہنچ کر دونوں نے پھر نشہ آور مشروب پیا۔ اس کے بعد اس شخص نے خاتون کو اسی کی ساڑھی سے گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا۔

درحقیقت 30 دسمبر کو اُس شخص نے دوسرا قتل نہیں کیا تھا بلکہ یہ اس کا 18واں قتل تھا۔

اس شخص کا نشانہ بننے والی تمام 18 خواتین اس کے باتوں میں آئیں، اس پر بھروسہ کیا مگر ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکی۔

خواتین کو قتل کرنے والے اس شخص کا نام ایم رامولو ہے۔ اس نے جتنی خواتین کو اپنا نشانہ بنایا ان میں ایک قدر مشترک تھی یعنی وہ یہ کہ ان میں سے بیشتر خواتین سنگل تھیں اور ان سب کو لگ بھگ ایک ہی طریقے سے قتل کیا گیا تھا۔ تمام قتل حیدرآباد کے ویران نواحی علاقوں میں ہوئے تھے۔

مگر ایسا نہیں کہ یہ شخص جب یہ کام کر رہا تھا تو پولیس نے اسے گرفتار نہیں کیا تھا۔

پولیس صرف نو قتل کے بعد ہی اسے پکڑ سکتی تھی۔ سنہ 2003 میں تورپان پولیس اسٹیشن کے علاقے میں، سنہ 2004 میں رایا درگام پولیس اسٹیشن میں، سنہ 2005 میں سنگاریڈی پولیس اسٹیشن میں، 2007 میں رائے درگ سٹیشن کے ڈنڈیگل میں، 2008 میں نرسا پور کے علاقے میں اور سنہ 2009 میں کوکاٹپلی کے علاقے میں دو قتل کے سلسلے میں قاتل کو پکڑا جا سکتا تھا۔

لیکن پہلی بار پولیس نے نرسنگی اور کوکاٹپللی کے علاقوں میں ہونے والی ہلاکتوں کو سنجیدگی سے لیا۔ سخت تحقیقات کے بعد ان معاملات کو حل کر لیا گیا۔ پولیس نے چارج شیٹ دائر کر دی۔

رامولو کے خلاف دائر دیگر مقدمات ابھی اختتام کو نہیں پہنچے تھے، لیکن فروری 2011 میں کوکاٹپللی اور نرسنگی کے مقدمات میں رنگاریڈی عدالت نے اسے مجرم قرار دیا اور اسے عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔

رامولو کا فلمی منصوبہ

گرفتاری کے بعد رامولو نے اپنی پوری زندگی جیل میں گزارنے سے بچنے کے لیے ایک منصوبہ ترتیب دیا۔

جیل میں اُس نے ذہنی مریض کی طرح برتاؤ کرنا شروع کر دیا اور کچھ عرصے بعد لوگوں کو یہ گمان گزرا کہ شاید یہ شخص واقعتاً بیمار ہے۔ اس کے بعد انھیں سنہ 2011 میں ایراگڈا مینٹل ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

وہاں ایک مہینہ قیام کے بعد وہ 30 دسمبر کی رات فرار ہو گیا۔ اس نے وہاں موجود پانچ دیگر قیدیوں کو بھی بھگا دیا جو ذہنی بیماریوں کا علاج کروا رہے تھے۔

اس کے ہسپتال سے فرار ہونے کے بعد ایس آر نگر پولیس سٹیشن میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

جیل سے فرار ہونے کے بعد رامولو خواتین کے قتل کے اپنے پرانے کام پر دوبارہ لگ گئے۔ سنہ 2012 اور سنہ 2013 میں بوونپلی میں دو قتل ہوئے۔ سنہ 2012 میں چندا نگر میں اور پھر سنہ 2012 میں ہی ڈنڈیگل میں دو مزید قتل، اور قتل ہونے والی پانچوں خواتین ہی تھیں۔

پولیس نے ان ہلاکتوں پر دوبارہ توجہ دینا شروع کی۔ رامولو کو مئی سنہ 2013 میں بوونپلی پولیس نے دوبارہ پکڑ لیا۔ اس بار اسے پانچ سال کے لیے جیل میں ڈال دیا گيا۔

ہم نہیں جانتے کہ آیا رامولو کی قانون پر اچھی گرفت ہے یا اس کے پاس اچھے وکیل ہیں لیکن انھوں نے سنہ 2018 میں ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی اور وہ اپنی سزا کم کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اور بلآخر اکتوبر 2018 میں فیصلہ رامولو کے حق میں آیا اور انھیں رہا کر دیا گیا۔

جیسے ہی وہ جیل سے باہر آئے ، اس نے پھر سے قتل کرنا شروع کر دیے۔ سنہ 2019 میں اس نے شمیر پیٹ میں ایک اور قتل کا ارتکاب کیا۔ اس طرح وہ اب تک 16 خواتین کو قتل کر چکا تھا۔

جلد ہی وہ وہ ایک بار پھر پکڑا گیا مگر جولائی سنہ 2020 میں دوبارہ جیل سے رہا ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

مزید وارداتیں

جولائی سنہ 2020 میں رہائی کے بعد اس نے پھر دو قتل کیے۔ 30 دسمبر کو ہلاک ہونے والی 50 سالہ خاتون کے شوہر نے اپنی اہلیہ کی گمشدگی کے بعد تھانے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اور اس گمشدگی کی رپورٹ جوبلی ہلز پولیس سٹیشن میں درج کی گئی۔ رپورٹ درج ہونے کے چار دن بعد پولیس کو ایک اور نامعلوم خاتون کی لاش ملی جس پر پولیس نے کیس کی تفتیش شروع کر دی۔

آخر کار مختلف ضلعوں کی پولیس نے آپس میں بات کی۔ سی سی ٹی وی کیمروں سے معلوم ہوا کہ قتل ہونے والی خاتون کسی مرد سے بات کر رہی تھیں۔ فوٹیج کی کھوج نے چیزوں کو مزید واضح کر دیا۔ معاملے کی مکمل چھان بین کی گئی۔

اس کے بعد کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے سنہ 2009 میں اسی طرح ہونے والے قتل کے معاملے کی تحقیقات پر نظر دوڑائی، یہ وہی واقعہ تھا جس میں ابتدا میں رامولو کو سزا سنائی گئی تھی۔ جب تفتیشی افسر نے حالیہ قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی، تو اسے شک ہوا۔

حالیہ قتل کا انداز بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ ایسی صورتحال میں پرانے مقدمے دیکھے گئے اور سچائی سامنے آنے لگی۔ اس کے بعد ان واقعات میں رامولو کی شمولیت کی تصدیق ہو گئی۔

قتل کرنے کا طریقہ کیا تھا؟

رامولو کی شکار بننے والی اکثر خواتین وہ تھیں جو اکیلی ہوتی تھیں۔ وہ ان خواتین کے ساتھ شراب کے اڈوں یا دکانوں پر ملتا، ان سے بات چیت کرتا اور اپنے ساتھ چلنے پر آمادہ کرتا اور مختلف حیلوں بہانوں سے انھیں ویران مقامات پر لے جاتا۔

وہاں وہ اپنی جنسی خواہش پوری کرتا اور اور پھر ان خواتین کا قتل کر دیتا۔ زیادہ تر معاملات میں اس نے خواتین کو ان ہی کی ساڑھیوں سے گلا گھونٹ کر مارا۔

کچھ معاملات میں اس نے بھاری پتھر کا استعمال کیا۔ وہ قتل کے بعد ان خواتین کے پاس موجود قیمتی اشیا بھی چوری کر لیتا تھا۔

رامولو کا نشانہ عموماً غریب یا نچلے متوسط طبقے کی خواتین بنتیں تھیں۔

رامولو کا تعلق ضلع سنگاریڈی کے کانڈی منڈل گاؤں سے ہے۔ ان کی شادی 21 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ مگر شادی کے کچھ ہی عرصے بعد ان کی اہلیہ انھیں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ اس گاؤں کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس کے بعد اس نے کسی دوسری خاتون سے شادی کر لی تھی مگر گذشتہ کچھ عرصے سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں رہتا تھا۔

حالیہ دو قتل کے علاوہ رامولو مزید 21 مقدمات میں ملزم ہیں۔ ان میں 16 قتل اور چوری کے چار واقعات شامل ہیں۔

پولیس کی تحویل سے فرار ہونے کا معاملہ بھی زیر تفتیش ہے۔ حال ہی میں انھیں دو کیسز میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ابھی تک پولیس کی معلومات اور تفتیش کے مطابق اس نے 18 خواتین کو ہلاک کیا ہے اور ان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔

یہ رپورٹ حیدرآباد پولیس کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات اور تفتیش پر مبنی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18486 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp