آرمی چیف کو تنقیدی خط لکھنے کا معاملہ: فوج کے مطابق ملزم کا مقصد ’افسران کو بغاوت پر اُکسانا تھا‘

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد ہائی کورٹ
AFP
پاکستان کی فوج کے ایڈجوٹینٹ جنرل نے ریٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی عسکری کے بیٹے کو تحویل میں لیے جانے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر ’پاکستانی فوج میں بغاوت اور فوجی افسران کو اپنی کمانڈ کے خلاف اُکسانے جیسے سنگین الزامات ہیں جن کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔‘

ملزم کے والد کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی کے توسط سے ایڈجوٹینٹ جنرل کا جواب جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’چونکہ ان کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ سنہ 1952 کے تحت تحقیقات کی جارہی ہیں اس لیے درخواست گزار کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا جائے۔‘

یاد رہے کہ میجر جنرل ریٹائرڈ ظفر مہدی عسکری کے بیٹے حسن عسکری کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کے تحت مقدمہ درج ہے جو فوج کے کسی بھی افسر یا اہلکار کو بغاوت پر اُکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے گزشتہ برس ستمبر میں بری فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کو خط لکھا تھا جس میں مبینہ طور پر اُن کی مدت ملازمت میں توسیع اور فوج کی پالیسوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا۔

تاہم ملزم کی رہائی کے لیے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ خطوط لکھنے کا مقصد نہ تو موجودہ حکومت کی قانونی پوزیشن کو متنازع بنانا تھا اور نہ ہی فوج کو اس بات پر اکسانا ہے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لیں۔

یہ بھی پڑھیے

جنرل باجوہ کو خط لکھنے والا سابق پاکستانی جرنیل کا بیٹا فوج کی حراست میں کیوں ہے؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع

جنرل قمر جاوید باجوہ ’کھلے ڈلے اور بے تکلف فوجی‘

فوج نے جواب میں کیا کہا؟

فوج کے ایڈجوٹینٹ جنرل کی طرف سے حسن عسکری کی فوج میں تحویل کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جو جواب جمع کروایا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ملزم حسن عسکری نے ’سنہ2017 سے بڑی تعداد میں خطوط اور کتابچے پاکستانی افسران کو لکھے تھے جس کا مقصد فوجی افسران کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اُکسانا ہے۔‘

اس جواب میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے ملزم حسن عسکری کو ’بارہا متنبہ کیا گیا کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے باز رہیں‘ لیکن اس کرنے کے باوجود اُنھوں نے ’فوجی افسران کو خطوط لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔‘

ایڈجوٹینٹ جنرل کی طرف سے دیے گئے اس جواب میں کہا گیا ہے کہ فوجی افسران کو ’بغاوت پر اکسانے جیسے خطوط لکھنا اظہار رائے کی آزادی کے زمرے میں نہیں آتے۔۔۔ ایسے خطوط لکھنے کا مقصد فوج کے بنیادی ڈھانچے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش ہے۔‘

قمر جاوید باجوہ

Getty Images
ملزم حسن عسکری پر الزام ہے کہ انھوں نے گذشتہ برس ستمبر میں بری فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کو خط تحریر کیا تھا جس میں مبینہ طور پر اُن کی مدت ملازمت میں توسیع ملنے اور فوج کی پالیسوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا

اس جواب میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملزم کی طرف سے یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملزم کے ’ملک دشمن عناصر کے ساتھ روابط ہیں۔‘

فوج کے اس بیان میں اسلام آباد کے مجسٹریٹ کی طرف سے ملزم حسن عسکری کو تحویل میں لینے کے اقدام کو جائز قرار دیے جانے کا حوالہ بھی دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’ملزم کے خلاف جس قسم کے سنگین الزامات ہیں اس کے بعد ان کے خلاف کارروائی پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت ہی بنتی ہے۔‘

اس جواب میں اس حوالے سے سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’چونکہ آرمی ایکٹ ایک خصوصی قانون کے طور پر بنایا گیا ہے اس لیے اس قانون کا اطلاق بھی خصوصی ہونا چاہیے۔‘

اس جواب میں عدالت کے دائرہ سماعت کے اختیار پر بھی بات کرتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’جن ملزمان کے خلاف مقدمات کی تفتیش آرمی ایکٹ کے تحت ہو رہی ہو تو عدالتیں ان کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت نہیں کرسکتیں، اس لیے عدالت اس درخواست کو بھی ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردے۔‘

’بند لفافے میں کیا ہے؟‘

پیر کے روز ہونے والی عدالتی کارروائی ان کیمرہ نہیں تھی اور نہ ہی ان کیمرہ کرنے سے متعلق فریقین کی طرف سے عدالت کو استدعا کی گئی تھی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی کی طرف سے ان کے بیٹے حسن عسکری کو فوجی حکام کے حوالے کرنے اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی ممکنہ کارروائی کو روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی تو ایڈشنل اٹارنی جنرل نے سربمہر لفافہ عدالت میں پیش کیا جس پر بینچ نے استفسار کیا کہ ’اس بند لفافے میں کیا ہے؟‘

اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس میں وہ خطوط ہیں جو ملزم حسن عسکری نے فوجی افسران کو لکھے تھے جس کا مقصد ’فوجی افسران کو اپنی کمانڈ کے خلاف اُکسانا تھا۔‘

درخواست گزار کی وکیل رابعہ جنجوعہ نے کہا کہ اُنھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اگر کوئی حساس دستاویزات ہیں تو ان کو سربمہر لفافے میں عدالت میں پیش کردیا جائے لیکن کم از کم درخواست گزار کے وکیل کو اتنا تو حق دیا جائے کہ وہ ’ان حساس دستاویزات کو دیکھ سکیں تاکہ وہ اپنے موکل کا دفاع کرسکے۔‘

عدالت نے درخواست گزار کے اس نقطے سے اتفاق کرتے ہوئے ایڈشنل اٹارنی جنرل کو اس معاملے میں دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت کو 4 فروری تک ملتوی کردیا ہے۔

درخواست میں کیا کہا گیا ہے؟

ریٹائرڈ میجر جنرل ظفر مہدی عسکری کی طرف سے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے جو درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے اس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے بیٹے کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پالیسوں کو ایک خط کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنانے پر حراست میں لیا گیا ہے۔

حسن عسکری کمپیوٹر انجینیئر ہیں

ظفر مہدی سنہ 1953 سے لے کر سنہ 1993 تک فوج کے آرٹلری اور ہوا بازی کے شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔

اُنھوں نے اپنی درخواست کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس چند سکیورٹی اہلکار، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کا تعلق ملٹری انٹیلیجنس سے ہے، اُن کے گھر پر آئے اور ان کے بیٹے کو گرفتار کر کے لے گئے۔

اس کے بعد حسن عسکری کے خلاف تھانہ شالیمار میں مقدمہ درج کیا گیا اور بعدازاں مقامی مجسٹریٹ نے اس معاملے کی چھان بین اور ممکنہ طور پر اس کا کورٹ مارشل کرنے کے حوالے سے ملزم حسن عسکری کو فوج کے ایک کمانڈنگ افسر کے حوالے کر دیا۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اُنھیں اس مجسٹریٹ کا وہ حکم نامہ ابھی تک نہیں ملا جس کے تحت ان کے بیٹے کو فوج کے حوالے کیا گیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اس ضمن میں جب سیشن جج کی عدالت سے رابطہ کیا گیا تو ان کے سٹاف نے بتایا کہ ان کے ریکارڈ میں ابھی تک ایسا کوئی مقدمہ پیش نہیں کیا گیا۔

اس درخواست میں ریاست پاکستان کے علاوہ پاکستانی فوج کے ایڈجوٹنٹ جنرل کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر تھری سٹار جنرل یعنی لیفٹیننٹ جنرل کو تعینات کیا جاتا ہے جو فوج کے ڈسپلن کو قائم رکھنے اور کسی بھی شخص کے خلاف کورٹ مارشل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ حسن عکسری نے موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کو جو خطوط لکھے اس میں فوج کی موجودہ قیادت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ خطوط لکھنے کا مقصد نہ تو موجودہ حکومت کی قانونی پوزیشن کو متنازع بنانا تھا اور نہ ہی فوج کو اس بات پر اکسانا ہے کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لیں۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ جو خطوط آرمی چیف اور فوج کے دیگر افسران کو بھیجے گئے ان کے بارے میں درخواست گزار سمیت اُن کے گھر والوں کو کوئی علم نہیں تھا۔

یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے آرمی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی دفعات میں فرق نہیں کیا اور درخواست گزار کے بیٹے حسن عسکری کو فوجی افسر کے حوالے کر دیا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان کو بارہا بتایا گیا ہے کہ ان کے بیٹے کے خلاف مقدمہ تیار کیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

ان کے مطابق حسن عسکری کے خلاف تھانہ شالیمار میں جو مقدمہ درج ہوا ہے اس میں صرف اس خط کا ہی ذکر کیا گیا ہے جبکہ اس خط میں ایسا کوئی ثبوت شامل نہیں ہے جس میں یہ ثابت ہو سکے کہ ملزم نے کسی فوجی یا فوجی افسر سے ملاقات کر کے انھیں فوج کی موجودہ قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسایا ہو۔ اس درخواست میں ایڈجوٹنٹ جنرل کو حسن عسکری کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی روکنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18550 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp