کیا گلگت بلتستان سے کورونا وائرس ختم ہو گیا؟

’خدا کا شکر ہے، آخر کار گلگت بلتستان سے کووڈ 19 کا صفایا ہو گیا ہے۔‘ ڈپٹی کمشنر گلگت کے اس ٹویٹ نے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا اور ہر کوئی یہی پوچھتا نظر آیا کہ کیا واقعی گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے؟

یہ خواہش تو سب کی ہے کہ اس وائرس کا دنیا سے خاتمہ ہو اور لوگ اس سے محفوظ ہوں لیکن اب تک یہ وائرس موجود ہے۔

پاکستان میں کووڈ 19 کے خاتمے کے لیے قائم قومی ادارے این سی او سی کے مطابق گلگت بلتستان کے کچھ اضلاع سے اب بھی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کیسز کم ہو سکتے ہیں صفر تک بھی آ سکتے ہیں یعنی کوئی ایک بھی کیس سامنے نہ آئے لیکن اس کے لیے طریقہ کار اور وقت درکار ہوتا ہے۔

تو پھر گلگت بلتستان کے ڈپٹی کمشنر کی ٹویٹ کا کیا مطلب ہوا؟ اور جب دنیا بھر میں وائرس موجود ہے تو کسی ایک ملک کے ضلع کو مکمل طور پر وائرس سے کیسے پاک قرار دیا جا سکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

کورونا کے مریضوں کی جان بچاتے ہوئے جان دینے والا پاکستانی ڈاکٹر

پاکستان میں سیاحت پر پابندی ہزاروں خاندانوں کے لیے تباہی کا پیغام

کیا عقیدے اور دعا کی طاقت نے پاکستان کو کورونا سے محفوظ رکھا؟

صحت کے حوالے سے وزیر اعظم کے خصوصی معاون ڈاکٹر فیصل سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بھر میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد میں اگرچہ کمی واقع ہوئی ہے لیکن اب بھی وائرس موجود ہے اور بڑی تعداد میں مریض ملک بھر سے سامنے آ رہے ہیں۔

’جہاں تک بات گلگت کی ہے تو کوئی ایک چھوٹے سے علاقے کو کچھ وقت کے لیے تو کووڈ 19 سے پاک علاقہ قرار دے سکتے ہیں لیکن یہ کہنا کہ وائرس مکمل ختم ہو گیا ہے، مناسب نہیں ہو گا کیونکہ وائرس موجود ہے اور دنیا بھر میں موجود ہے۔‘

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ’کسی علاقے کو وائرس سے مکمل صاف قرار دینے کا کوئی مستند فارمولا نہیں لیکن بنیادی اصول یہی ہو سکتے ہیں کہ نئے مریض نہ رپورٹ ہو رہے ہوں اور نہ دریافت ہونے والے مریضوں کا دورانیہ یعنی انکوبیشن پیریڈ زیادہ ہو یعنی دو ہفتوں تک ہونا چاہیے، اس جگہ پر سرویلنس یا مریضوں کی نشاندہی کا مناسب نظام رائج ہو اور اس علاقے میں لوگوں کی آمدورفت یا لوگوں کے آنے جانے پر سخت چیک ہونا چاہیے تاکہ اگر وائرس باہر سے آئے تو اس کی نشاندہی ہو سکے ایسی صورتحال میں کسی علاقے کو کووڈ فری کہنا مناسب ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ مختلف علاقوں میں لوگوں کی آمدورفت جاری ہے اور وائرس موجود ہے تو کسی کو کسی بھی وقت وائرس لگ سکتا ہے اس لیے ایسے حالات میں جب دنیا بھر میں وائرس موجود ہے تو کسی ایک علاقے کو مکمل کووڈ فری قرار دینا مناسب نہیں۔

ضلع گلگت کے ڈپٹی کمشنر نوید احمد کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں 31 جنوری کو کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد صفر ہو گئی تھی یعنی نہ کوئی نیا مریض آیا، نہ کوئی فعال کیس بتایا گیا اور نہ ہی ہسپتال میں کوئی مریض موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں روزانہ اوسطاً ساڑھے تین سو کے لگ بھگ ٹیسٹ ہوتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کیا گلگت ضلع سے کورونا مکمل ختم ہو گیا ہے، ان کا دعویٰ تھا کہ کورونا وائرس تو پوری دنیا میں موجود ہے اور ایسا نہیں کہ کوئی اس وائرس سے متاثر نہیں ہوگا لیکن یہ ضرور ہوا ہے کہ جب سے یہ وائرس آیا ہے گلگت ضلع میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کووڈ 19 کے مریض اب نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ گذشتہ سال جب کووڈ 19 کے مریض رپورٹ ہونا شروع ہوئے تو تفتان سے آنے والے زائرین اور تبلیغی مراکز سے آنے والے لوگوں میں بھی گلگت کے لوگ شامل تھے۔

’اس کے علاوہ گلگت بڑا شہر ہے تو یہاں دیگر اضلاع سے بھی لوگ روزگار اور دیگر کاموں کے لیے آتے جاتے رہتے ہیں اور سیاح بھی آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی بہتر حکمت عملی کی وجہ سے وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ ‘

گلگت بلتستان کے ماہرین کیا کہتے ہیں؟

گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں حکام کے مطابق 17 فعال کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں کووڈ 19 کے بارے میں فوکل پرسن ڈاکٹر شاہ زمان نے بتایا کہ اس علاقے میں ضلع گلگت اور ضلع ہنزہ سمیت کچھ اضلاع ایسے ہیں جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد صفر ہو گئی ہے یعنی نہ کوئی فعال کیس رہا نہ ہی ہسپتال میں کوئی داخل ہے اور نہ ہی اوسط ٹیسٹوں کے بعد کسی مریض میں وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان متعلقہ اضلاع میں جو مریض موجود تھے وہ صحتیاب ہو گئے ہیں یا جو مشتبہ تھے ان میں وائرس ٹیسٹ مثبت نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھاکہ دیگر اضلاع سے اب بھی وائرس کے متاثرین سامنے آ رہے ہیں اور ایسا نہیں کہ گلگت اور ہنزہ میں وائرس مکمل ختم ہو گیا ہے اور اب وہاں وائرس نہیں آئے گا بلکہ آئندہ اس کے مریض آ بھی سکتے ہیں۔

’ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے تین سو تک ٹیسٹ کیے جاتے ہیں لیکن مثبت کیسز کی شرح کافی کم ہے۔ ڈاکٹر شاہ زمان نے بتایا کہ پورے گلگت بلتستان میں کل فعال کیسز کی تعداد 17 بتائی گئی ہے۔

این سی او سی کے گلگت بلتستان کے بارے میں اعداد وشمار

وفاقی سطح پر جاری اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں کووڈ کے مریضوں کی تعداد سب سے کم رپورٹ ہوئی ہے اور تین فروری کے روز دو کیس رپورٹ ہوئے۔ گلگت میں چار مریض آکسیجن پر ہیں جبکہ کوئی مریض وینٹیلیٹر پر یا آیسولیشن میں نہیں۔

اسی طرح گذشتہ 24 گھنٹوں میں 360 ٹیسٹ کیے گئے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں صرف ایک مریض میں وائرس مثبت ظاہر ہوا جبکہ ہسپتال میں کل پانچ مریض داخل ہیں۔

گلگت کے مقابلے میں پاکستان کے دیگر علاقوں میں کووڈ کے مریضوں کی کہیں زیادہ تعداد سامنے آئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر ضلع گلگت نے 31 جنوری کی جس رپورٹ کا ذکر کیا اس میں ضلع شگر سے ایک مثبت کیس سامنے آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں روزانہ مثبت کیس سامنے آنے کی شرح صفر اعشاریہ دو رہی ہے جو انتہائی کم ہے۔ گلگت بلتستان کے کل دس اضلاع ہیں جن میں سے بیشتر اضلاع میں 24 گھنٹوں میں نئے کیس رپورٹ نہیں ہوئے تھے۔

ڈپٹی کمشنر ضلع گلگت کے مطابق انھوں نے اس ساری صورتحال کا مشاہدہ کیا اور انکوبیشن پیریڈ جو دس روز تک ہوتا ہے اس دوران وہ مشتبہ مریضوں کا مشاہدہ کرتے رہے اور اس دوران (12 دن تک) ٹیسٹ کرنے کے باوجود کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words