مریخ مشن: بیک وقت تین خلائی مشن مریخ پر کیوں پہنچ رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگلے کچھ دن مریخ مشن کے لیے انتہائی مصروف گزریں گے۔

اس کے ارضیات اور ماحول کا مطالعہ کرنے اور قدیم مائیکرو بیکٹیریل زندگی کی ممکنہ علامتوں کی تلاش کے لیے تین خلائی تحقیقاتی مشن سرخ سیارے پر پہنچنے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ منگل کو مریخ پر پہنچنے والا پہلا مشن متحدہ عرب امارات کا ’ہوپ‘ ہو گا۔

دو دن بعد چین کا تیان وین -1 مشن پہنچے گا جس کے بعد ناسا کا مشن 18 فروری تک مریخ پر ہو گا۔

یہ مشن مریخ اور زمین کے درمیان قربت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ سورج کے گرد چکر لگانے کی مختلف رفتار کے باعث دونوں سیاروں کے مابین فاصلہ بدلتا رہتا ہے۔ مشنز کے آغاز کے لیے وہ وقت جس جو کم سے کم ایندھن استعمال ہوتا ہے ہر 26 ماہ بعد آتا ہے۔

لیکن کسی بھی مریخ کے مشن کی طرح ان تین خلائی مشنز کو مشکل چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے – جس میں ’خطرے کے وہ سات منٹ‘ بھی شامل ہیں جب کوئی خلائی جہاز مریخ کے مدار سے اس کی سطح پر اترنے میں لگاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین کے چاند پر مشن کی اہمیت کیا ہے؟

مریخ پر میتھین گیس زندگی کی علامت ہو سکتی ہے

مریخ کے لیے چین کی پہلی خلائی گاڑی روانہ ہو گئی

متحدہ عرب امارات کا ’ہوپ مشن‘ سرخ سیارے کے لیے روانہ

مریخ جسے سرخ سیارہ بھی کہتے ہیں، یہاں جانے والے پچھلے تمام مشنوں میں سے نصف ناکام ہو کر ختم ہوچکے ہیں۔

تو سائنس دان اس بار ان مشنز کو کامیاب بنانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ اور وہ کیا جاننا چاہ رہے ہیں؟


متحدہ عرب امارت کا ’ہوپ‘ مشن

Undated handout photo issued by Mohammed Bin Rashid Space Centre (MBRSC) of an artist's impression of the Hope Probe, the United Arab Emirates' first Mars mission, using the Hope probe

PA Media

مریخ پر متحدہ عرب امارات کا تاریخی پہلا مشن گزشتہ سال جولائی میں جاپان سے روانہ ہوا تھا۔

تحقیق میں سرخ سیارے کی فضا کو تلاش کیا جائے گا، یہ ایسا کام ہے جو مریخ کے کسی سابقہ ​​مشن نے نہیں کیا ہے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس سے ہماری سمجھ میں اضافہ ہوسکتا ہے کہ کس طرح مریخ نے اپنی زیادہ تر ہوا کھو دی اور اس کے ساتھ اس کا پانی بھی ختم ہو گیا۔

چینی اور امریکی مشنوں کے برعکس ہوپ مریخ پر نہیں اترے گی ، لیکن کم از کم ایک مریخ سال یا 687 دن کے لیے سیارے کا چکر لگائے گی۔

توقع ہے کہ ستمبر میں اس کی مدد سے حاصل کی گئی معلومات زمین تک پہنچنا شروع ہوجائیں گے۔

لیکن اس سے پہلے مشن کو مریخ کے مدار میں پھنسنے کے لیے ایک خطرناک عمل انجام دینے کی ضرورت ہوگی، اس مرحلے کو اماراتی عہدیداروں نے ’نازک اور پیچیدہ‘ قرار دیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ اپریل تک جاری رہے گا۔

Please check distribution email for instructions on how to reversion graphic

BBC

بی بی سی سائنس کے نمائندے جوناتھن آموس نے ہوپ کے مشن کو سائنسی کوشش سے کہیں زیادہ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا ’اس مشن کو حوصلہ افزائی کا مشن سمجھا جاتا ہے۔۔ یہ ایسی چیز ہے جو امارات اور عرب خطے کے نوجوانوں کو اس طرح کے علوم حاصل کرنے کے لیے راغب کرے گی۔

اس سے قبل صرف امریکہ، انڈیا، سابق سوویت یونین اور یورپی خلائی ایجنسی کامیابی کے ساتھ مریخ پر پہنچی تھیں۔

خلائی مشن ’ہوپ‘ متحدہ عرب امارات کے قیام کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر مریخ کے مدار میں داخل ہو گا۔

رات کے وقت متحدہ عرب امارات سرخ رنگ کی روشنی میں نہا چکا ہو گا، سرکاری اکاؤنٹس #ArabstoMars ہیش ٹیگ سے ٹویٹ کر رہے ہیں اور اس بڑے دن دبئی کا برج خلیفہ، دنیا کا سب سے بلند ٹاور، پر ایک جشن کا سماں ہو گا۔


چین کا تیان وین -1

Tianwen Mars rover

Getty Images

چین کا پہلا مریخ ایکسپلوریشن مشن جس کا ترجمہ ’جنت سے سوالات‘ ہے، در حقیقت مزید تین ماہ تک لینڈنگ نہیں کرے گا۔

انجینئر لینڈنگ سے قبل سیارے پر موجود ماحول کی صورتحال کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے۔

مریخ پر اترنے کے لیے سائنس دانوں کو 20،000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو کم کرنے کے چیلنج سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

چین کو امید ہے کہ 240 کلو گرام وزنی یہ روور مئی میں مریخ کے یوٹوپیا نامی میدان پر اترے گا۔ یہ روور، فولڈ آؤٹ سولر پینلز کے ذریعے تیار کردہ سطح کے بالکل نیچے والے علاقے کی ارضیات کا مطالعہ کرے گا۔ اس پر نصب آلات مقامی چٹانوں میں معدنیات کا اندازہ کرنے اور پانی یا برف تلاش کرنے میں مدد کریں گے۔

Model of Tianwen-1

Reuters

چینی سائنس دان روبوٹ سے کم از کم 90 دن کی خدمت حاصل کرنا چاہیں گے۔ ابھی تک صرف امریکی ہی مریخ پر طویل عرصے تک آپریشن چلانے میں کامیاب ہوسکے ہیں (سوویت یونین کا مریخ ۔3 اور یورپ کے بیگل ٹو مشن پہنچے تو تھے لیکن کچھ ہی دیر بعد ناکام ہوگئے تھے)۔

ٹیان وین -1 نے پہلے ہی مریخ کی پہلی تصویر کو زمین پر بھیج دیا ہے: مریخ کی سطح پر وادیوں کے ایک وسیع علاقے کی اس بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں شیپیریلی کریٹر اور ویلس مارینیس جیسی ارضیاتی خصوصیات کو دکھایا گیا ہے۔

اس تصویر کو مریخ سے 2.2 ملین کلومیٹر کے فاصلے سے لیا گیا تھا۔

The first image of Mars taken by China's Tianwen-1 unmanned probe is seen in this handout image released by China National Space Administration (CNSA) February 5, 2021.

Reuters
تیان وین -1 خلائی جہاز کے ذریعہ مریخ کی ایک تصویر

تیان وین -1 مریخ پر پہنچنے کے لیے چین کی پہلی کوشش نہیں ہے۔ روس کے ساتھ 2011 میں پچھلا مشن وقت سے پہلے ہی ختم ہو گیا تھا جب اسے لانچ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

لیکن چاند پر دو روور بھیجنے کے بعد ملک پراعتماد ہے۔ دوسرے ہی سال میں چین کامیاب لینڈنگ کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔


یو ایس پریزروینس مشن

ناسا کی پرسویرینس مریخ پر ماضی میں ممکنہ زندگی کے ثبوت تلاش کرے گی۔ یہ چٹانوں کے نمونے اکٹھا کرے گی جو اس بارے میں انمول سراغ دے سکیں گے کہ آیا سرخ سیارے میں کبھی زندگی تھی۔

کسی دوسرے سیارے پر لینڈ کرنے کے لیے اب تک بھیجی جانے والی سب سے بڑی اور جدید ترین خلائی گاڑی جمعرات 18 فروری کو 2100 GMT سے قبل مریخ کی سطح چھونے کی امید کر رہی ہے۔

انجینئر ایلن چن نے جو پرسویرینس کے لیے انٹری اور لینڈنگ (ای ڈی ایل) کوشش کی رہنمائی کر رہے ہیں بی بی سی نیوز کو بتایا ’ہر طرف خطرہ ہے۔ یہاں 60 سے 80 میٹر لمبا پہاڑ ہے جو ہماری لینڈنگ سائٹ کے بیچ آتا ہے۔ اگر آپ مغرب کی طرف دیکھیں تو وہاں بھی اتنے کھڈے موجود ہیں کہ اگر ہم کامیابی کے ساتھ اترتے تو روور باہر نہیں نکل سکتا۔ اور اگر آپ مشرق کی طرف دیکھیں تو یہاں اتنی بڑی چٹانیں ہیں کہ ہمارا روور اس سے بہت ناخوش ہوگا۔‘

Perseverance rover

NASA / JPL-Caltech

خوش قسمتی سے پرسویرینس کے پاس کچھ آزمائشی اور آزمائشی ٹیکنالوجیز ہیں جن کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ سطح پر محفوظ مقام تک پہنچ جائے۔

روور کا سائز ایک چھوٹی سی ایس یو وی کی طرح ہے اور اس کا وزن ایک میٹرک ٹن ہے۔

یہ گاڑی خودمختاری سے 200 میٹر فی دن حرکت میں آسکتی ہے اور یہ 19 کیمرے اور دو مائیکروفون سے لیس ہے جس کے ساتھ سائنس دانوں کو امید ہے کہ وہ مریخ پر پہلی آوازیں ریکارڈ کریں گے۔

یہ مشن پہلی بار 1.8 کلو وزنی ڈرون کسی دوسری دنیا پر اڑانے کی کوشش کرے گا۔

ان سب وعدوں کے باوجود ہم صرف اس وقت ہی پپرسویرینس کی دریافتوں کے بارے میں جان پائیں گے جب لال سیارے پر جمع کردہ نمونے دوبارہ زمین پر آئیں گے۔ اور یہ مشن ختم ہونے کے بعد ہوگا۔۔۔ یعنی آج سے دو سال بعد۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17698 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp