نورین محمد صدیق: قرآن کی تلاوت جسے لوگوں نے غمزدہ، روح پرور اور صحرا کا لہجہ قرار دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورین محمد صدیق
Naqa Studio
سوشل میڈیا نے قرآنی تلاوت کے منفرد افریقی انداز میں حیات نو کا آغاز کیا ہے، جس پر کبھی مشرق وسطی کی روایات کا غلبہ تھا اور سوڈان سے آنے والی ایک آواز اس بات کا ثبوت ہے کہ اس برِاعظم کے پاس کیا کیا گہر ہیں۔

جب نورین محمد صدیق نے قرآن پاک کی تلاوت کی تو دنیا بھر کے لوگوں نے ان کے لہجے کو غمزدہ، روح پرور اور امریکہ کی بلیو موسیقی جیسا قرار دیا۔

ان کی منفرد آواز نے انھیں مسلم دنیا کے سب سے مشہور قاریوں میں شامل کر دیا تھا۔

اسی وجہ سے جب نومبر میں سوڈان میں ہونے والے ایک کار حادثے میں 38 سالہ نورین محمد صدیق کی موت واقع ہوئی تو پاکستان سے لے کر امریکہ تک اس کا سوگ منایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’میں نے اسلام کو نہیں، اسلام نے مجھے چنا‘

سنہرا اسلامی دور: امام بخاری اور ان کی علمیت پسندی

’ماضی کا پورا مدینہ آج کی مسجدِ نبوی کا حصہ بن چکا ہے‘

حضرت خدیجہ: جن کی کاروباری ذہانت نے دنیا کی تاریخ بدل ڈالی

ٹیکساس کے ایک امام عمر سلیمان نے ٹویٹ کیا کہ ’دنیا ہمارے وقت کی ایک خوبصورت (آواز) سے محروم ہو گئی ہے۔‘

سوڈانی نژاد امریکی ہند مکی نے، جو خود ایک بین المذاہب معلم ہیں، کہا کہ ان کی آواز کی خصوصیت کو بیان کرنا ایک مشکل کام ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس میں ایک افریقی صداقت موجود ہے جس کی طرف لوگ اشارہ کرتے ہیں اگرچہ وہ اسے بالکل واضح طور پر بتا نہیں سکتے کہ وہ کیا ہے لیکن وہ اسے پسند کرتے ہیں۔

https://twitter.com/omarsuleiman504/status/1324911042087022592


بلیوز موسیقی کے ساتھ اس کا موازنہ ویسے ہی نہیں کیا جا رہا۔

مورخ سلویانی ڈیوف کے مطابق مغربی افریقی غلام مسلمانوں کی لے، دعائیں اور تلاوت نے، جو کہ ساحل کے آر پار سوڈان اور صومالیہ کے مسلمانوں کی طرح ہے، شاید جنوب کی مخصوص افریقی امریکی موسیقی کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو ہولر اور آخر کار بلیوز کی شکل میں سامنے آئی۔‘

روایت کے مطابق اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید کی تلاوت ترنم میں کی جاتی ہے، جس کی حوصلہ افزائی پیغمبرِ اسلام خود کرتے تھے اور جنھوں نے کہا تھا کہ لوگ ’اپنی آوازوں سے قرآن پاک کو خوبصورت بنائیں۔‘

مختلف جگہیں، مختلف طریقے

اس کو اس وقت اور بھی زیادہ پسند کیا جاتا ہے جب لوگ مذہبی تہواروں پر اکٹھا ہوتے ہیں جیسا کہ رمضان میں تراویح کے دوران۔

تلاوت کے کئی بین الاقوامی مقابلے بھی ہوتے ہیں۔

اور جس پر کئی مرتبہ اتنا غور نہیں کیا جاتا وہ قرآن کی تلاوت کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔

تلاوت قرآن

Getty Images
تلاوت کرنے کے بہت سے سٹائل ہیں جیسا کہ 2017 میں بنگلہ دیش میں ایک کانفرنس کے دوران اپنایا گیا ایک منفرد سٹائل

یہ طریقے مشرقِ وسطیٰ سے پرے کی وسیع مسلم دنیا میں اپنے لہجے اور بیان میں جغرافیے، ثقافت اور تاریخی تجربات کی وجہ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

صدیق کی تلاوت اور اچانک موت کی وجہ سے روایتی افریقی سٹائل پر زیادہ توجہ پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے سنہ 1990 کی دہائی کے وسط میں دارالحکومت خرطوم کے مغرب میں واقع اپنے گاؤں ال فاراجاب کے ایک روایتی مدرسے میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے یہ سٹائل اپنایا تھا۔

جب بعد میں وہ خرطوم منتقل ہوئے تو انھوں نے شہر کی کئی مساجد میں امامت کی اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے۔ یوٹیوب پر ویڈیوز اپ لوڈ ہونے کے بعد وہ مزید مشہور ہو گئے۔


اگرچہ وہ آوازیں جنھیں سات نوٹ والی ہیپٹاٹونک سکیل کی عکاس آوازیں سمجھا جاتا ہے مشرق وسطی میں مقبول ہیں لیکن صدیق کی تلاوت جو پانچ نوٹ یا پینٹاٹونک سکیل کی عکاس ہے ساحل اور ہارن آف افریقہ (جزیرہ صومالیہ) کے مسلم اکثریتی علاقوں میں عام ہے۔

سوڈان کے ایک اور مشہور قاری ال زین محمد احمد کہتے ہیں کہ ’یہ اسی ماحول کا لہجہ ہے جس میں میں پروان چڑھا ہوں، صحرا (کا لہجہ)، یہ (سوڈانی لوک موسیقی کی صنف) دوبیٹ کی طرح سنائی دیتا ہے۔‘

لیونت (مشرقی بحیرہ روم کا علاقہ) میں تلاوت کرنے والے ان دھنوں کے مطابق تلاوت کرتے ہیں جنھیں وہ جانتے ہیں جیسا کہ مصر، حجاز، شمالی افریقہ اور دیگر مقامات کے لوگ۔‘

اس بات کی حمایت کینیڈا میں البرٹا یونیورسٹی کے میوزک پروفیسر مائیکل فرشکوف جیسے موسیقار نے بھی کی ہے۔

اگرچہ انھوں نے سب صحرا افریقہ کو ایک آواز کی روایت کہنے کے متعلق احتیاط برتی لیکن انھوں نے یہ ضرور تسلیم کیا کہ پینٹاٹونک سکیل علاقے میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

’اگر وسیع پیمانے پر بات کریں تو آپ کو پینٹاٹونک یا ہیگزاٹونک (چھ نوٹ) تلاوت مصر میں نہیں ملے گی، جبکہ یہ آپ کو نائجر اور سوڈان، گھانا اور گیمبیا میں ملے گی۔‘

https://youtu.be/prkabpBlP9M


ریاست واشنگٹن کے دارالحکومت اولمپیا کے امام عمر جیبی سعودی عرب کے شہر مدینہ کی مشہور اسلامی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ سیرالیون میں پیدا ہوئے اور سینیگال اور گیمبیا میں قرآن پاک پڑھنا سیکھا۔

انھوں نے کہا کہ ’وہیں سے میں نے بہت سی قرآنی ٹونز سیکھیں تھیں۔

حالیہ دہائیوں میں افریقہ اور دنیا بھر کے شہری علاقوں میں قرآن کریم کی تلاوت کرنے کے مشرق وسطی کے انداز کا غلبہ ہوا ہے۔ قرآن سننے والوں کو وینائل ریکارڈز، شارٹ ویو ریڈیو براڈ کاسٹس، آڈیو کیسٹ ٹیپس اور سی ڈیز کے ذریعہ ریکارڈنگ تک رسائی حاصل ہوئی، جو مصر اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے ذریعہ تیار اور تقسیم یا فروخت کی جاتی تھیں۔

مصر کی الازہر یونیورسٹی اور مدینہ میں اسلامی یونیورسٹی سے واپس آنے والے طلبا اور خلیجی ممالک سے مالی تعاون سے چلائے جانے والے خیراتی اداروں کے اثرات نے بھی مشرق وسطی کے سٹائل کو عالمی سطح پر بہت سے تلاوت کرنے والوں میں پھیلانے اور مقبول بنانے میں مدد کی، جن میں سب صحارا افریقہ کے افراد بھی شامل ہیں، جن میں سے کچھ تو اس میں بہت بہتر بھی ہو گئے۔ اور کچھ نے اسے زیادہ مستند بھی کہا۔

قرآن کی پڑھائی

Getty Images
صدیق نے بھی قرآن کو اس طرح کی تختیوں پر پڑھا ہو گا جہاں آیات ہاتھ سے لکھی جاتی ہیں

لیکن انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے روایتی آوازوں پر نئی توجہ دلائی ہے، خاص طور پر نوجوان نسل کی طرف سے۔

عالمی اپیل

ایک امیچیور ویڈیو گرافر احمد عبدالغدیر سنہ 2017 سے اپنے یوٹیوب چینل کے لیے امام جیبی کی تلاوتیں ریکارڈ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’سب سے مشہور ویڈیو ریکارڈنگ افریقی طرز کی دعا ہے جسے 20 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ اسے دیکھنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق فرانس سے ہے، جہاں بہت سے مغربی افریقی مسلمان آباد ہیں، اس کے بعد امریکہ ہے جہاں اسے لوگوں نے دیکھا۔‘

ان آن لائن ریکارڈنگز نے قرآن مجید کی قرآت کے مختلف مکاتب فکر کی طرف بھی توجہ دلائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17607 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp