کورونا وائرس کی وبا کے دوران ’رومانس فراڈ‘ میں اضافہ

جین ویک فیلڈ - ٹیکنالوجی رپورٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Phone with 'I love you' message
Getty Images
کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران رومانس فراڈ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح کے فراڈ میں کسی کو تعلقات کا جھانسہ دے کر اس سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ یو کے فنانس کے مطابق سال 2019 کے مقابلے میں 2020 میں بینک سے اس طرح کے فراڈ میں رقم کی منتقلی میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ کے ایکشن فراڈ کے مطابق سال 2020 میں 68 ملین پاؤنڈ اس طرح کی دھوکہ دہی کے نظر ہوئے۔اداروں نے لوگوں کو ویلنٹائن ڈے سے قبل ایسی رقوم منتقلی سے متعلق باخبر رہنے کا کہا ہے۔ اس تجویز کے مطابق: ‘آن لائن ڈیٹرز’ کسی دوسرے فریق کو رقم منتقل نہ کریں اور نہ ہی انھیں بینک اکاؤنٹس تک رسائی دیں۔ کسی دوسرے شخص کے نام سے قرض نہ لیں۔ پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس جیسی دستاویزات کسی کے حوالے نہ کریں۔

کسی دوسرے شخص کے مشورے پر سرمایہ کاری نہ کریں۔

کسی دوسرے شخص کی جانب سے کوئی پارسل وصول کریں اور نہ کسی کو ایسا پارسل بھیجیں۔

یہ بھی پڑھیے

آن لائن فراڈ کا اگلا نشانہ کہیں آپ تو نہیں!

لوگ رات گئے آن لائن شاپنگ کیوں کرتے ہیں؟

عریاں ویب سائٹس پر جانے والے آن لائن فراڈ کا آسان نشانہ

ریورس امیج کے طریقے سے تصاویر کی جانچ پڑتال کریں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں جعلی تصاویر تو استعمال نہیں کی جا رہی ہیں۔

اور کسی مشکوک صورتحال میں فوری طور پر اپنے بینک یا ایکشن فراڈ اے رابطہ کر کے ایسے فراڈ کی فوری اطلاع دیں۔برطانیہ کے اس قسم کے فراڈ پر نظر رکھنے والے ادارے ایکشن فراڈ کے مطابق 2019 اور 2020 میں آن لائن شاپنگ میں ہونے والے فراڈ سے بھی زیادہ ’رومانس فراڈ‘ میں رقوم چرائی گئی ہیں۔ سال 2020 میں آن لائن شاپنگ اور ’آکشن فراڈ‘ میں 63 ملین جبکہ ڈیٹنگ فراڈ میں 68 ملین پاؤنڈ چرائے گئے ہیں۔ کورونا وائرس کے دوران اس طرح کے فراڈ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تنظیم ’ایکشن فراڈ‘ کے سربراہ پاؤلن سمتھ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے جو لاک ڈاؤن کیا گیا اس عرصے میں ساتھی تلاش کرنے کی غرض سے لوگوں نے آن لائن ساتھیوں کی تلاش شروع کی جس کی وجہ سے اس قسم کے فراڈ کی زیادہ تعداد میں اطلاعات سامنے آئیں۔

Woman at a laptop

Getty Images

منی لانڈرنگ

رومانس فراڈ کے متاثرین رقوم کی منتقلی اور جعلی تحائف کے کارڈ بھیجنے، واؤچر، فون اور لیپ ٹاپ تک رسائی دینے کی وجہ سے اپنی رقوم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

کچھ صارفین تو اپنے بینک اکاؤنٹس یا بینک کارڈ تک رسائی دیتے ہیں۔ فراڈ کرنے والے بہت متاثر کن انداز میں ایسی کہانیاں سناتے ہیں کہ لوگ انھیں پیسے دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ لوگوں سے میڈیکل بل کے لیے پیسے مانگتے ہیں

اب ایسے متاثرین کو مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ان کے بینک اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کے لیے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں کیونکہ فراڈ کرنے والے ان سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کے لیے پیسے بٹور رہے ہیں۔

اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک آسٹریلین خاتون ایک ایسے ہی فراڈ کا نشانہ بنی۔ وہ ایک امریکی فوجی افسر کے پیار میں گرفتار ہوئی مگر اس کے بینک اکاؤنٹ سے 150 ہزار ڈالر ایک گینگ تک پہنچ گئے۔

شناخت سے متعلق فراڈ

لائڈز بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 55 سے 64 سال کی عمر کے لوگوں کو اس طرح کے خطرے کا زیادہ سامنا ہے۔

اینا( فرضی نام) کی طرح جو پچاس برس سے زائد کی عمر کی ہیں اور وہ بیوہ بھی ہیں، ایسے ہی فراڈ کا نشانہ بنیں جب انھیں ایک فراڈ کرنے والے نے اپنا ٹم بتا کر فون کیا۔ ان دونوں کی ایک ڈیٹنگ ویب سائٹ پر ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد دونوں نے واٹس ایپ پر رابطہ قائم کر لیا تھا۔

چند ہفتوں کے بعد ٹم نے اینا کو بتایا کہ وہ ایک ٹرانسپورٹ سے متعلق منصوبے پر کام کرنے کی غرض سے رومانیا جا رہے ہیں اور اس سے رقم بھیجنے کا کہا۔ پہلے تو اس نے چھوٹی رقوم کا مطالبہ کیا مگر اس کے بعد پھر کرتے کرتے اس نے کل 320 ہزار پاؤنڈ اس سے بٹور لیے۔

’رومانس فراڈ‘ اکثر ڈیٹنگ ویب سائٹ سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ سوشل میڈیا پر چلا جاتا ہے یا پھر پرانے طریقے سے ٹیکسٹ میسج بھیجے جاتے ہیں، جس کے بعد فراڈ کا ثبوت نہیں رہتا۔

بعض دفعہ تو فراڈ کرنے والا رقم کے مطالبے کی بجائے ذاتی نوعیت کی معلومات کا پتا چلاتے ہیں، جس کی بنیاد پر بعد میں فراڈ کیا جاتا ہے، جسے شناختی فراڈ کہا جاتا ہے۔

بہت سے متاثرین مذاق اڑائے جانے کے ڈر سے ’رومانس فراڈ‘ کی اطلاع تک نہیں دیتے۔ مگر ایسے لوگ جو اس کی رپورٹ کرتے ہیں ان کے لیے پھر بھی کوئی راستہ نکل آتا ہے۔

سال 2019 میں بینک ایک ’والنٹری کوڈ‘ پر رضامند ہو گئے، جس کے مطابق اگر احتیاط کے باوجود بھی کسی کی رقم فراڈ کی بھینٹ چڑھ جائے تو پھر ایسے متاثرہ شخص کو بینکوں کی طرف سے رقم ری فنڈ کی جاتی ہے۔

جیسا کے اینا کے کیس میں آدھی رقم اسے واپس مل گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17900 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp