محمد علی سد پارہ، بہادر یا بیوقوف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے کچھ دنوں سے محمد علی سدپارہ اور کے ٹو کا ذکر سوشل میڈیا پر بہت زور و شور سے جاری ہے۔ ان دو موضوعات پر بات کرنے کے لیے صرف اور صرف انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی سہولت ہونا ضروری ہے۔ علم نہ بھی ہو تو کام چلایا جا سکتا ہے۔ چونکہ ہمارے ملک میں ضروری لوازمات اب بہت سے لوگوں کے پاس ہیں ، اس لیے لوگوں نے جی کھول کر ان موضوعات پر رائے دی۔

مجھے اس طرح رائے دینے پر ہرگز اعتراض نہیں لیکن ایسے لوگ جن کا دور دور تک کوہ پیمائی سے تعلق نہیں ان کا محمد علی سد پارہ کو بیوقوف کہنا اور سردیوں میں اس مہم جوئی سے باز رہنے اور مصنوعی آکسیجن کے بغیر مہم پر نکلنے جیسے مشوروں پر سخت اعتراض ہے۔

محمد علی سد پارہ نے جب سردیوں میں کے ٹو کو بغیر مصنوعی آکسیجن کے سر کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ مہم کتنی خطرناک ہو سکتی ہے (یقین رکھیے محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی اس مہم کی تمام تفصیلات سے آگاہ تھے) اس لاعلمی کی وجہ عام لوگوں کا اس طرح کی تمام مہمات اور ان سے جڑے اعزازات سے نابلد ہونا ہے۔ ہمارے یہاں لوگوں کو اس طرح کے تمام مشاغل کا بہت تھوڑا علم ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس طرح کی مہم جوئی کو ہمیشہ سے بے وقوفی شمار کرتا رہا ہے۔

بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہاں ہر طرح کی مہم جوئی کو بے وقوفی اور پاگل پن شمار کیا جاتا ہے۔ یقین نہ آئے تو اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو کوئی نیا آئیڈیا دے کر دیکھیے ، سب سے پہلا جملہ آپ کو یہی سننے کو ملے گا ”پاگل ہو گئے ہو کیا؟“

محمد علی سدپارہ اور اس کے ساتھیوں کی اس مہم پر روانگی سے پہلے نیپال کے کوہ پیماؤں نے سردیوں میں کے ٹو کو سر کرنے کا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ یہ مہم نیپال جیسے چھوٹے ملک کے دنیا میں تعارف کا ایک نیا حوالہ ثابت ہوئی۔

اپنی مہم کی کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران نیپالی کوہ پیماؤں کا کہنا تھا کہ انہوں نے سردیوں میں کے ٹو کو سر کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ ان کے ملک کا نام آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ اونچی چوٹیوں کو سر کرنے والے ممالک کی فہرست میں آ سکے اور اس فہرست میں بس اب یہی جگہ باقی تھی کیونکہ باقی تمام اعزازات اس پہلے باقی ممالک کے کوہ پیماؤں نے حاصل کر لیے تھے۔ میں ان کی یہ بات سن کر بہت حیران ہوا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو ایک لسٹ میں اپنے ملک کا نام ڈلوانے کے لیے اتنی پر خطر مہم پر نکل پڑے۔

کیا ان کے ہاں ان کو کوئی سمجھانے والا نہ تھا؟ کیا ان کو کوئی بیوقوف یا پاگل کہنے والا نہیں؟ ہیں تو یہ بھی اسی خطے کے باسی پھر اس طرح کا فرق کیوں؟ شاید یہی فرق بہادری اور بیوقوفی کی صحیح تعریف سکھاتا ہے۔ شاید یہی فرق لوگوں کو بہادر بننا اور دوسروں کی بہادری کو بہادری کہنا سکھاتا ہے۔ ہمارے ہاں اگر اس طرح کے لوگ پائے جائیں تو ہم انہیں بے وقوف، ناسمجھ اور پاگل کہتے ہیں۔

ہم ہر اس شخص کو بیوقوف مانتے اور منواتے ہیں جو کسی بھی طرح سے خود کو باقیوں سے ممتاز کرنے کی کوشش کرے۔ بھلے اس کوشش میں ملک و قوم کا نام ہی کیوں نہ روشن ہو رہا ہو۔ شاید ہمارے یہی رویے ہر اس شخص کو اس ملک اور یہاں کے لوگوں کا نام اس فہرست میں لکھوانے سے روک رہے ہیں جہاں ابھی بھی کچھ اعزازات باقی ہیں۔

محمد علی سدپارہ اور اس کے جیسے چند ایک لوگ بے وقوف نہیں ہیں بلکہ وہ بے وقوفوں کے درمیان بہادر ہیں۔ ایسے بہادر کہ جنہیں صرف خوف ہی نہیں بلکہ بے وقوفی سے بھی لڑنے کا ہنر آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply