’سانس لینا مشکل ہوتا ہے تو مجھے پہاڑ کی بلندیوں کی یاد آتی ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کارلوس سوریا سپین کے شہر میڈرڈ میں واقع اپنے گھر سے کوہ پیمائی کی مشق کے لیے نکلتے ہیں تو ان کے ذہن میں کوہ ہمالیہ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔

مسکراتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ‘سانس لینا مشکل ہوتا ہے تو مجھے پہاڑ کی بلندیوں کی یاد آتی ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

’خوش قسمتی ہے کہ K2 نے ہمیں خود کو سر کرنے کی مہلت دی، یہ بڑی بات ہے‘

پاکستان میں کوہ پیمائی کی الف سے ے

چار وجوہات جن کی بنا پر کوہ پیمائی کا سیزن متاثر ہوا

اکاسی سالہ کارلوس سوریا کو امید ہے کہ اس سال موسم بہار میں ہمالیہ کی شفاف ہواوں کا انھیں ایک مرتبہ پھر تجربہ ہونے والا ہے جب وہ نیپال میں دھولگیری کی چوٹی کو سر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس کے بعد موسم خزاں میں وہ تیبت میں شیشپنگما کو سر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اگر وہ ان دونوں مہمات میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ دنیا کی آٹھ ہزار میٹر(26247 فٹ) سے اونچی چودہ چوٹیوں کو سر کرنے والے معمر ترین شخص بن جائیں گے۔

کارلوس میڈریڈ سے شمال مغرب میں واقع ایوائلا میں پیدا ہوئے اور گھروں کی تزین و آرائش کے پیشے سے وابستہ رہے لیکن ساری زندگی کوہ پیمائی بھی کرتے رہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں انھوں نے زیادہ عمر میں کوہ پیمائی کی کئی مہمات سر انجام دے کر کے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی ہے۔

انھوں نے ساٹھ سال کی عمر میں پہنچنے کے بعد سے اب تک دنیا کی سب سے اونچی چودہ میں سے گیارہ چوٹیاں سر کی ہیں۔

باسٹھ سال کی سب سے زیادہ عمر میں کوہ ہمالیہ کو سر کرنے کا اعزاز بھی کچھ عرصے تک ان کے پاس رہا۔ ستر سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے وہ ساتوں براعظموں پر اونچی ترین چوٹیوں کو سر کر چکے تھے۔

‘میرے دونوں پاؤں تلے’

جس طرح اِن چوٹیوں کو انھوں نے سر کیا وہ اُن کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔

‘جس ریکارڈ پر مجھے فخر ہے وہ یہ ہے کہ مجھے کبھی فراسٹ بائٹ نہیں ہوئی اور نہ ہی مجھے بچانے کے لیے کوئی کارروائی کی گئی۔’

میں نے ہمیشہ اپنے دونوں قدموں پر ان چوٹیوں کو سر کیا اور اپنے دونوں قدموں پر ہی واپس اتر کر آیا۔’

وہ گذشتہ سال تمام چودہ چوٹیوں کو سر کرنے کا کارنامہ مکمل کرنا چاہتے تھے لیکن کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے وہ یہ کام نہیں کر سکے۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ یہ کارنامہ سر انجام دیں گے تو کووڈ 19 میں ہلاک ہونے والے ان کے ذہن میں رہیں گے۔

انھوں نے کہا ‘میں دنیا بھر میں اپنی عمر کے ان لوگوں کو خیراج تحسین پیش کروں گا جو اس وبا کا شکار ہو گئے اور ان لوگوں کو بھی جو وبا کی وجہ سے مشکل سے دوچار ہیں اور کئیر ہومز میں ہیں۔’

انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان چوٹیوں پر اپنے ساتھ پھول بھی لے کر جائیں گے اور کووڈ کا شکار ہونے والے لوگوں کی یاد میں وہاں رکھ کر آئیں گے۔

میڈریڈ کے قریب سیارا ڈی گوڈراما کی پہاڑیوں میں وہ کوہ پیمائی کی مشقیں کر رہے ہیں۔

ان کے ساتھ ان مہمات پر جانے کا ارادہ رکھنے والے جیولوجسٹ ستو کارکاویلا نے کہا کہ ‘دنیا بھر میں کبھی کسی نے ایسا نہیں کیا ہے۔’

وہ کہتے ہیں کارلوس کوئی ایسے بوڑھے شخص نہیں جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بور ہو کر کوہ پیمائی کا ارادہ کیا ہو۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار کوہ پیما ہیں جو ابھی تک متحرک ہیں اور دنیا بھر میں کوئی ایسا کھلاڑی نہیں جو اس اعلی ترین سطح پر چھ دہائیوں سے متحرک ہو۔

کارلوس اپنی ان دو مہموں کے لیے چندہ یا فنڈ اکھٹا کر رہے ہیں اور انھیں امید ہے کووڈ 19 کی وجہ سے اس میں کوئی خلل نہیں پڑے گا۔

دو سال قبل ان کا گھنٹے کا آپریشن ہوا تھا لیکن وہ کہتے ہیں کہ جسمانی فٹنس کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی ٹانگوں میں وہ جان نہیں رہی اور ذہن بھی اتنا چوکس نہیں رہا۔ انھوں نے کہا وہ ہمالیہ پر جا چکے ہیں اور انھیں کبھی ایسا محسوس ہوا کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ نہیں۔

ان کے بقول بہت سے لوگوں کا ستر برس کی عمر پر پہنچ کر یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں اور ان کا کام اب ختم ہو گیا۔ لیکن کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ اگر وہ ستر سال کے ہو گئے ہیں تو کیا ہوا۔ وہ بہت زبردست عمر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17688 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp