انڈیا چین سرحدی تنازع: لداخ کی سرحد پر دونوں ملکوں کا فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پر ’اتفاق‘

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان؟یا
Getty Images
چین اور انڈیا کی افواج نے لداخ کی پینگونگ سو جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں پر تعینات ہزاروں فوجیوں کو دونوں جانب ایک ساتھ پیچھے ہٹانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ چین کی وزارت دفاع نے بدھ کو اعلان کیا کہ دونوں جانب فوجوں کو پیچھے ہٹانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

چین کی وزارت دفاع کے ترجمان وو کیان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی کمانڈروں کی نویں دور کی بات چیت میں جو اتفاق ہوا تھا، اسی کے مطابق بدھ سے فرنٹ لائن سے فوجیوں کو ایک ساتھ ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

انڈین فوج کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اس کے بارے میں آج پارلیمنٹ میں بیان دیں گے۔

انڈین میڈیا نے سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ’منگل کوگراؤنڈ لیول کے کمانڈروں کے درمیان بات چیت ہوئی، جس میں طے پائے معاہدے کے تحت جھیل کے دونوں جانب فوجوں کو پیچھے ہٹانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیاتھا۔ بدھ کو بھی بات چیت ہوئی ہے۔

معاہدے کا اطلاق شروع ہورہا ہے لیکن ابھی وہا ں سے فوجیوں کو ہٹانے کا عمل نہیں شروع ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین اور انڈیا کے سرحدی تنازع میں تبت کا کیا کردار ہے؟

لداخ کشیدگی: چین اور انڈیا کے درمیان فوجی مذاکرات کا چوتھا دور منگل کو

چین، انڈیا تنازع: لداخ کے خطے میں ایسا کیا ہے جو وہاں تنازعے کو منفرد بناتا ہے؟

ایک اور انڈین ذرائع کے حوالے سے خبر دی گئی ہے کہ گراؤنڈ کمانڈروں سے کہا گیا ہے کہ وہ بھاری توپوں اور ٹینکوں وغیرہ کو پیچھے ہٹا کر کسی دوسری پوزیشن پر نصب کرنے کے لیے جگہ تلاش کریں۔ بھاری توپ اور ٹینک وغیرہ ہٹانے میں ابھی دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔

فوجیوں کو تین سے چار دن کے بعد ہی پیچھے ہٹایا جا سکے گا اور اس عمل کے لیے ایک ہفتے سے دس دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

خبروں کے مطابق فوجوں کو پیچھے ہٹانے کا عمل مرحلے وار ہوگا۔ پہلے مرحلے میں بھاری توپیں ٹینک اور میزائل لانچرز وغیرہ محاذ سے ہٹائے جائیں گے جبکہ جو فوجی آگے کے محاذوں پر تعنیات ہیں وہ بدستور اپنی پوزیشن پر تعینات رہیں گے اور وہ بعد کے مرحلوں میں پیچھے ہٹیں گے۔

پینگونگ سو جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں پر دونوں ملکوں کے ہزاروں فوجی تعینات ہیں۔

چین کے اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک تجزیہ کار کیان فینگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس قدم سے سرحد پر کشیدکی کم کرنے میں مدد ملے گی اور خطے میں جلد سے جلد امن واستحکام قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

کیان نے لکھا ہے کہ پینگونگ سو جھیل کے شمالی کنارے پر طویل عرصے سے تعطل برقرار رہا ہے کیونکہ انڈیا اس خطے کے بارے میں یہ کوشش کر رہا تھا کہ چین اس کے موقف کو تسلیم کر لے۔ یہی وجہ تھی کہ حال میں ہونے والے مزاکرات میں پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امید ہے کہ انڈیا دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر پوری طرح عمل کرے گا تاکہ فوجوں کو پیچھے ہٹانے کا عمل خوش اسلوبی سے شروع ہو سکے۔‘

چین

EPA

خیال رہے کہ فوجیں پیچھے ہٹانے کا یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب گذشتہ دنوں یہ خبر آئی تھی کہ چین نے پینگونگ سو جھیل کے چند مقامات پر حال ہی میں اضافی بھاری ہتھیار نصب کیے ہیں۔

واضح رہےح کہ یہ پورا خطہ پہلے انڈیا کے پاس تھا جس پر چین نے گذشتہ جون میں ایک خونریز ٹکراؤ کے بعد قبضہ کر لیا ہے اور یہ علاقہ ٹکراؤ کا سب سے اہم پہلو ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ دونوں ملکوں نے اس خطے سے فوجیں کس حد تک اور کس طرح پیچھے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انڈیا کے لیے پیچھے ہٹنے کی پوزیشن بہت پیچیدہ ہے کیونکہ اس کی فوجوں کو خود اپنے ہی علاقے میں پیچھے ہٹنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17834 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp