’پاکستان میں پورشے کے ڈیلر سے کار خریدی، کار ملی نہ پیسے واپس‘

عمیر سلیمی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہورشے
Getty Images
’ہمیں شوروم پر گاڑی دکھا کر کہا گیا کہ یہ ایک، ڈیڑھ ماہ میں آپ کو مل جائے گی۔ رابطہ کرنے پر مزید ایک، ڈیڑھ ماہ کا وقت مانگا گیا۔۔۔ پھر کورونا کا بہانہ بنایا۔۔۔ کئی ماہ ایسے ہی کرتے کرتے گزر گئے۔۔۔‘

علی معین صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی ایک کاروباری شخصیت ہیں، جنھیں پورشے کی نئی الیکٹرک کار ٹائیکن فور ایس بہت خوبصورت لگی تھی۔

انھوں نے گذشتہ سال پاکستان میں پورشے کے واحد ڈیلر کو 50 لاکھ روپے ایک پے آرڈر کی صورت میں جمع کروا کر یہ گاڑی اپنے لیے بُک کر لی تھی۔ علی معین کے مطابق ہر بار رابطہ کرنے پر انھیں گاڑی کی ڈیلیوری کی نئی تاریخ دی جاتی تھی۔

’وہ کہتے رہے کار آج آتی ہے، کل آتی ہے،۔ ہم یہ کر رہے ہیں، وہ کر رہے ہیں۔ تنگ آکر انھوں نے ہماری کال اٹھانا بند کردی۔‘

یہ بھی پڑھیے

گاڑیوں سے جذباتی محبت میں مبتلا جرمن قوم

’کانسیپٹ‘ کاریں اگر لانچ نہیں ہوتیں تو بنتی کیوں ہیں؟

پورشے پر 33 ارب ڈالر کے جرمانے، معاوضے اور نقصان

’پورشے پاکستان‘ کے مالک پر فراڈ کے سنگین الزامات

کئی ماہ گزرنے کے باوجود علی کو اپنی پسندیدہ کار ملی نہ اپنے پیسے واپس۔ انھوں نے آخر کار اس ڈیلر کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کروا دی۔ علی کی طرح لاہور میں ایسے کئی افراد کا دعویٰ ہے کہ ان کے ساتھ ’پورشے کے نام پر دھوکہ ہوا ہے۔‘

علی معین کہتے ہیں کہ پاکستان میں پورشے کے واحد ڈیلر ابوزر بخاری نے ’ان سمیت کئی لوگوں کے ساتھ (مبینہ) فراڈ کیا ہے۔‘

’وہ ہمیں یہ کہتے رہے کہ دبئی میں موجود کمپنی ڈیفالٹ کر گئی ہے۔۔۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد غائب ہوگئے۔‘

لیکن ابوزر بخاری کی پورشے ڈیلرشپ پرفارمنس آٹو موٹو سنہ 2007 سے پاکستان رجسٹرڈ ہے اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے دوران انھوں نے پورشے گاڑیاں پاکستان درآمد کر کے لوگوں کو بیچی ہیں۔

پورشے

Getty Images

وہ پاکستان میں پورشے کے مستند ڈیلر کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں لیکن گذشتہ سال پورشے نے ان کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا تھا۔

پرفارمنس آٹو موٹو نے جرمن کمپنی پورشے پر گاڑیاں وقت پر سپلائی نہ کرنے کے الزامات لگائے ہیں جبکہ پورشے نے ان دعوؤں کو متنازع قرار دے کر اس پر کوئی بات نہیں کی۔

ابوزر بخاری نے لاہور میں پورشے کے نام پر کئی دفاتر اور شورومز قائم کر رکھے تھے اور کاروباری حلقوں میں لوگ انھیں اس حوالے سے پہچانتے تھے۔

علی معین کہتے ہیں کہ گاڑیاں خریدنے کے خواہشمند افراد جب بھی کار بُک کراتے ہیں تو ڈیلر کو ہی پیسے دیتے ہیں۔ لاہور میں ابوزر بخاری کے شوروم سے جب انھوں نے اپنی پورشے کار کی بکنگ کروائی تو انھیں بکنگ کی رسید دی گئی۔

علی معین ذاتی طور پر بھی ابوزر کو جانتے تھے اس لیے انھیں ان پر اعتماد تھا۔

’ابوزر بخاری نے بتایا کہ میں آپ کی گاڑی نہیں منگوا سکا۔۔۔ ان کی طرف سے رقم واپسی کا چیک جب بینک میں جمع کروایا تو وہ ڈس آنر ہو گیا۔‘

لاہور پولیس کے متعدد تھانوں میں پرفارمنس آٹو موٹو کے سی ای او ابوزر بخاری کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی گئی ہے۔

پولیس نے اپنی ابتدائی تفتیش میں کہا ہے کہ ابوزر بخاری نے علی معین سمیت کئی لوگوں کے ساتھ اسی طرح مبینہ دھوکہ کیا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں پورشے ڈیلرشپ کے ساتھ معاہدہ ختم ہوچکا تھا

گاڑیاں بنانے والی جرمن کمپنی پورشے نے بی بی سی کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک تحریری معاہدے کے تحت پرفارمنس آٹو موٹو ایک نجی پاکستانی کمپنی ہے جو پورشے کی گاڑیاں پاکستان میں درآمد کرتی تھی۔

پرفارمنس آٹو موٹو یہ گاڑیاں مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پورشے کی مقامی کمپنی پی ایم ای سے حاصل کرتی تھی۔

پورشے کی جانب سے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ایم ای نے پرفارمنس آٹو موٹو کے ساتھ اپنا معاہدہ 12 ماہ کے نوٹس پر 30 جنوری 2020 کو ختم کر دیا تھا، جس کے تحت پی ایم اع کا پاکستانی کمپنی پرفارمنس آٹو موٹو کہ معاہدہ یکم فروری 2021 سے باقاعدہ طور پر ختم ہوگیا تھا۔

دوسری طرف پرفامنس آٹو موٹو نے ایک وضاحتی بیان پر اپنے سی ای او پر عائد کیے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ادائیگیاں قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھیں اور ابوزر بخاری نے انفرادی حیثیت میں کسی سے پیسے نہیں لیے تھے۔

اس نے جرمن کمپنی پورشے پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ’دو سال تک پاکستانی صارفین کو گاڑیاں سپلائی کرنے سے انکار کیا۔‘

پرفامنس آٹو موٹو نے کہا ہے کہ وہ پورشے کے ’غیر ذمہ دارانہ رویے‘ پر ان کے خلاف پاکستان میں قانونی کارروائی کریں گے۔

’پورشے پاکستان نے پورشے کے خلاف لندن کی عدالت میں بین الاقوامی ثالثی کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں فیصلہ آجائے گا۔‘

پورشے

Getty Images

تاہم پورشے کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے حوالے سے قانونی کارروائی اور ثالثی جاری ہے۔

’ان حالات میں پورشے یا پی ایم ای ان متنازع الزامات پر مزید بات نہیں کریں گے، جو پرفارمنس آٹو موٹو نے پورشے اور پی ایم اے پر عائد کیے ہیں۔‘

پورشے نے اپنی ویب سائٹ پر درج کیا ہوا تھا کہ ابوزر بخاری پاکستان میں ان کا مرکزی نمائندہ ہے۔ لیکن اب ان کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔

پاکستان میں نئی درآمد شدہ گاڑیاں خریدنے کے لیے لوگ کمپنی کی کسی مستند ڈیلرشپ سے رابطہ کرتے ہیں۔ گاڑیوں کے ڈیلر بکنگ کی مد میں صارفین سے کچھ رقم حاصل کرتے ہیں اور باقی پیسے ڈیلیوری پر ادا کیے جاتے ہیں۔

ڈیلیوری میں تاخیر کے حوالے سے ڈیلر صارفین سے رابطے میں رہتے ہیں اور شیڈول میں کسی تبدیلی کے حوالے سے اطلاع دی جاتی ہے۔ ڈیلیوری کب تک کی جاسکے گی، اس حوالے سے لوگ بکنگ کے وقت اپنے ڈیلر سے تحریری ٹائم فریم طے کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17659 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp