گھروں میں صنفی امتیاز کی کہانی ’دی گریٹ انڈین کچن‘: ’نرم گو، رحم دل مرد بھی زہریلے ہو سکتے ہیں‘

گیتا پانڈے - بی بی سی نیوز، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک طرف گھر کی عورت ہے جو سبزی چھیلتی ہے، کاٹتی ہے، مصالحہ پیستی ہے، کھانا بناتی ہے، پروستی ہے، پھر برتن دھوتی ہے اور جھاڑو لگاتی ہے۔ سانس لینے تک کی فرست نہیں۔ دوسری طرف مرد ہے، جو کھانا کھاتا ہے، اطمینان سے بیٹھتا ہے، یوگا کرتا ہے، ایک لمبا سانس اندر اور باہر۔

یہ کہانی ہے ’دی گریٹ انڈین کچن‘ یعنی ’شاندار انڈین باورچی خانے‘ کی، جو ایک چھوٹے بجٹ کی ملیالی زبان کی فلم ہے اور جو بہترین طریقے سے پدرشاہی کے اصولوں پر مبنی ایک گھرانے کی کہانی کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں موجود روزمرہ کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ فلم، جس کی کہانی کا بڑا حصہ ایک عزت دار مڈل کلاس گھرانے کے اندھیرے سے کچن میں رونما ہوتا ہے، جنوبی ریاست کیریلا میں اور سوشل میڈیا پر شدید بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

اس فلم میں گھروں کے اندر صنفی برابری اور صنف کی بنا پر تعصب کے بارے میں کئی مشکل سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خواتین پوچھ رہی ہیں کہ ‘مرد ریپ کیوں کرتے ہیں؟’

نام بتانے پر عورت کی پٹائی کیوں؟

کیا فیمنزم کا مطلب مردوں سے نفرت کرنا ہے؟

فلم کے ہدایت کار جیو بیبی کہتے ہیں ’یہ ایک عالمی کہانی ہے۔ کچن کے اندر ایک عورت کو پیش آنے والے مسائل کی کہانی انڈیا کی تقریباً تمام خواتین کی کہانی ہے۔ مردوں کو لگتا ہے کہ عورتیں مشین ہیں، چائے بنانے کے لیے، کپڑے دھونے کے لیے اور بچے پالنے کے لیے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ فلم بنانے کی تحریک انھیں اپنے کچن سے ملی۔

’میں صنفی برابری میں یقین رکھتا ہوں، تو جب سنہ 2015 میں میری شادی ہوئی میں نے کافی وقت کچن میں گزارنا شروع کیا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ کھانا بنانا کوئی آسان یا معمولی کام نہیں اور اس میں بہت محنت لگتی ہے۔‘

جیو بیبی مزید کہتے ہیں کہ کچھ دیر بعد وہ یہ سوچنے لگے کہ وہ ’کچن کے اس روز کے تھکا دینے والے کام سے کس طرح فرار‘ حاصل کر سکتے ہیں۔

’مجھے ایسا لگنے لگا تھا کہ جیسے میں ایک جیل میں قید ہوں اور پھر میں ان تمام خواتین کے بارے میں سوچنے لگا جو چاہ کر بھی اس جیل سے نہیں نکل سکتیں اور اس خیال نے مجھے بہت پریشان کیا۔‘

فلم کا آغاز ایک شادی سے ہوتا ہے۔ انڈیا میں ہونے والی زیادہ تر شادیوں کی طرح یہ ایک ارینجڈ شادی ہے۔ دلہا دلہن، جن کے کردار سورج وینجارامودو اور نیمیشا سجاین نے نبھائے ہیں، شادی سے پہلے صرف ایک بار ملے ہیں اور ایک ہی بار خاندان والوں کے سامنے ایک دوسرے سے تھوڑی بہت بات کی ہے۔

شادی کی تقریبات اور ہنگامہ ختم ہونے کے بعد روزمرہ کی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ نئی دلہن کچن میں اپنی ساس کا ہاتھ بٹانے لگتی ہے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ دونوں کے شوہر خوش رہیں۔ جیسا کہ ایک کہاوت بھی ہے کہ ایک مرد کے دل تک کا راستہ اس کے پیٹ سے ہوتے ہوئے جاتا ہے۔

بیڈروم میں بھی کہانی بہتر نہیں، جہاں نئی دلہن سے توقع ہے کہ وہ ہر رات اپنے شوہر کی مرضی کے مطابق جنسی تعلق کے لیے تیار ہو گی، بھلے ہی اس کی اپنی مرضی ہو یا نہیں کیونکہ انڈیا کے پدرشاہی نظام میں عورت کی مرضی اور اس کے دل کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔

اس فلم کو نیٹ فلکس اور ایمیزان جیسی بڑی سٹریمنگ ایپس نے دکھانے سے منع کر دیا تھا جس کے بعد اب یہ نیسٹریم ایپ پر دستیاب ہے اور اسے شائقین اور نقاد، دونوں کی ہی طرف سے بہت سراہا جا رہا ہے، خاص طور پر خواتین نے اس فلم کو بہت پسند کیا ہے۔

کلنٹا پی ایس ایرنجالاکوڈا شہر کے کرائسٹ کالج میں انگریزی کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس فلم کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ آپ کی زندگی کے بارے میں ہو سکتی ہے۔ اس میں کوئی تشدد نہیں، کسی کو ولن کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ ہمارے گھروں میں موجود نابرابری اور بےحسی کی حقیقی عکاسی کی گئی ہے۔‘

پروفیسر کلنٹا کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی والدہ اور دیگر خواتین کو کچن میں ہر وقت کام کرتے دیکھا ہے کیونکہ کیریلا میں کھانا بہت ’مفصل‘ ہوتا ہے۔

’بہت سارا وقت کاٹنے، دھونے، پیسنے اور سجانے میں نکل جاتا ہے۔ اس سب کو آسان کیا جا سکتا ہے لیکن ہم کرتے نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عورت کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ اس کا شوہر اور خاندان ہی سب کچھ ہیں اور خود اس کے وجود کا مقصد صرف انھیں خوش کرنا ہے۔‘

کیریلا انڈیا کی سب سے زیادہ ترقی پسند ریاستوں میں شامل ہے۔ اس کا ذکر اکثر اس حوالے سے کیا جاتا ہے کہ وہاں شرح خواندگی سو فیصد ہے اور خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد باضابطہ نوکریاں کرتی ہے۔

تاہم پروفیسر کلنٹا کا کہنا ہے کہ کیریلا کے معاشرے میں پدرشاہی اتنی ہی رائج ہے جتنی باقی ملک میں۔

وہ کہتی ہیں ’ہم کیریلا میں خواتین کے بااختیار ہونے کی بات کرتے ہیں کیونکہ یہاں بہت بڑی تعداد میں خواتین گھروں سے باہر جا کر نوکریاں کرتی ہے لیکن جب وہ گھر واپس آتی ہیں تو گھر کا سارا کام پھر بھی انھی کو کرنا پڑتا ہے اور یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، ترقی پسند گھرانوں میں بھی ہوتا ہے۔‘

ان کے اپنے گھر میں صنف کی بنیاد پر کام کا بٹوارا نہیں ہوتا اور گھر کا کام ان کے اور ان کے شوہر دونوں کے درمیان برابری سے بانٹا جاتا ہے لیکن ان کے والدین کے گھر میں کہانی الگ ہے۔

وہ کہتی ہیں ’مرد حضرات صنفی برابری کے بارے میں جانتے ہیں لیکن ان کے اپنے گھروں میں یہ اہم نہیں۔ زیادہ تر انڈین مردوں کی طرح میرے والد کے بھی دہرے معیار ہیں۔ میری ان سے کئی بار اس بارے میں شدید بحث بھی ہوئی ہے کہ وہ میری والدہ کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ وہ ایک جدید دور کے، ترقی پسند مرد ہیں لیکن گھر کے سارے کام کا بوجھ پوری طرح سے میری والدہ کے کندھوں پر ہے۔‘

پروفیسر کلنٹا کہتی ہیں کہ کیریلا میں ایک مقبول کہاوت ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے ’آپ ترقی پسند چپل پہنتے تو ہیں لیکن اسے گھر کے دروازے پر اتار دیتے ہیں۔‘

دنیا کے دیگر ممالک کی ہی انڈیا میں بھی بنا اجرت کے کام کا بوجھ عام طور پر خواتین ہی اٹھاتی ہیں۔

سنہ 2018 میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق انڈین شہروں میں خواتین ہر دن 312 منٹ بنا اجرت کے دوسروں کا خیال رکھنے کے کام پر گزارتی ہیں۔ مرد ایسے کام پر صرف 29 منٹ گزارتے ہیں۔

’دی گریٹ انڈین کچن‘ اسی امتیاز کو بدلنا چاہتی ہے۔

بیبی کہتے ہیں ’عورتیں مردوں کے بنائے قید خانوں میں زندگی گزار رہی ہیں۔ مرد فیصلہ ساز ہیں اور عورتیں مزدور، جنھیں اپنی مزدوری کی اجرت تک نہیں ملتی۔ اس فلم کے ذریعے میں عورتوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انھیں اس قید سے نکلنا ہوگا، وہ کیوں سب سہتی رہیں؟ یہ دنیا ان کی بھی ہے۔‘

حقیقی تبدیلی میں شاید کافی وقت لگے لیکن اس فلم نے گھروں کے اندر اس بارے میں ایک گفتگو کا آغاز ضرور کر دیا ہے۔ کام پر میرے ایک ملیالی ساتھی نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر والے اور دوست واٹس ایپ گروپس پر اس بارے میں بات کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی کافی بحث ہوئی ہے جہاں کئی افراد نے خاص طور پر خواتین نے ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر اس فلم کے بارے میں تبصرے کیے ہیں اور اپنے دوستوں سے اسے دیکھنے کی تلقین کی ہے۔

ایک ایسی ہی خاتون نے لکھا ’یہ ہماری کہانی ہے‘، دوسری نے لکھا، ’اس میں ہمارے نقطہ نظر کو پیش کیا گیا ہے۔‘ سوشل میڈیا پر ایک اور صارف نے لکھا، ’اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسی چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا گیا، کسی پر انگلی نہیں اٹھائی گئی، اور یہ دکھایا گیا ہے کہ نرم گو، رحم دل مرد بھی سب سے زیادہ زہریلے ہو سکتے ہیں۔‘

کچھ نے تو یہ تک قیاس لگایا کہ اس فلم کی ہدایت کار ایک عورت ہی ہو سکتی ہے اور کچھ نے یہ کہا کہ اس فلم کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے مردوں کو مضطرب کیا ہے۔

فیس بک پر ایک مرد نے فلم دیکھنے کے بعد لکھا کہ انھیں احساسِ جرم ہو رہا ہے۔ ایک اور مرد صارف نے لکھا، ’میں اس بارے میں اور کچھ نہیں لکھ سکتا کیونکہ میں بالکل ایسا ہی ہوں (فلم میں شوہر جیسا)۔‘ ایک اور مرد نے کہا کہ اس فلم نے ان کی ’آنکھیں کھول دیں۔‘

پروفیسر کلنٹا کہتی ہیں کہ یہ بات بہت اچھی ہے کہ لوگوں نے اس بارے میں بات کرنا شروع کی ہے تاہم صدیوں سے چلے آرہے رویوں کو تبدیل ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں، ’میں اپنی کلاسوں میں ان معاملات پر بات کرتی ہوں، کوشش کرتی ہوں کہ اپنے لیکچرز کے ذریعے طلبہ کی بےحسی کم کروں۔ مرد طلبہ کتابی سطح پر تو صنفی برابری کو سمجھتے ہیں لیکن میں نہیں جانتی کہ وہ ان کو اس معاشرے میں مرد ہونے کی وجہ سے حاصل برتری کو چھوڑنے کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17721 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp