انڈیا چین سرحدی تنازع: وزیر اعظم مودی نے لداخ میں انڈیا کی زمین چین کے حوالے کر کے سر جھکا دیا ہے، کانگریس رہنما راہل گاندھی کا الزام

شکیل اختر - بی بی سی نامہ نگار، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے لداخ میں انڈیا کی زمین چین کے حوالے کر دی ہے۔

راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے چین کے آگے جھک گئے ہیں۔ انھوں نے وزیراعظم مودی سے سوال کیا ہے کہ انھوں نے فوجیں پیچھے ہٹانے کے معاہدے میں انڈیا کی زمین چـین کے حوالے کیوں کی۔

لداخ میں فارورڈ محاذ سے فوجی اور ہتھیار پیچھے ہٹانے کے معاہدے پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان پر ایک پریس کانفونس میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نے چین کے آگے سر جھکا دیا ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گذشتہ روز پارلیمنٹ میں ایک بیان دیا تھا جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ مشرقی لداخ میں فوجی پیجھے ہٹانے کے بارے میں چین سے معاہدہ ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لداخ: ’فوج پیچھے ہٹانے کے معاہدے میں انڈیا نے کچھ نہیں کھویا‘

انڈیا چین تنازع: کیا انڈیا کے مقابلے میں چین بہتر پوزیشن میں ہے؟

انڈیا، چین سرحدی تنازع سے متعلق اہم سوالات کے جواب

میرے پاس موجود معلومات سے مودی خوفزدہ ہیں: راہل

انھوں نے کہا تھا کہ اس معاہدے کے تحت چین اپنی فوجی ٹکڑیوں کو پینگونگ جھیل کے شمالی کنارے پر ’فنگر 8‘ کے مشرق کی سمت رکھے گا۔ اسی طرح انڈیا بھی اپنی فوج کو پینگونگ جھیل کے پاچ ’فنگر 3‘ کے پاس اپنی مستقل پوسٹ پر رکھے گا اور ایسی ہی کارروائی دونوں فریق جنوبی کنارے پر بھی کریں گے۔

راج ناتھ سنگھ نے اس معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں اس ایوان کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ چین سے اس معاہدے میں انڈیا نے کچھ بھی نہیں کھویا ہے۔‘

تاہم حزب احتلاف کے ارکان نے جب ان سے بعض پہلوؤں کے بارے سوال کرنے کی کوشش کی تو سپیکر نے انھیں سوال کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور ایوان سے ایک متحد آواز باہر جانی چاہیے۔

انڈین فوجی

Getty Images

راہل گاندھی نے راج ناتھ سنگھ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا اپنی ہی زمین پر مزید پیچھے ہٹ گیا ہے۔

’پینگونگ جھیل کے کنارے ہماری زمین ’فنگر 4‘ تک ہے۔ نریندرمودی نے ’فنگر 3 سے فنگر 4‘ تک کی زمین، جو انڈیا کی مقدس زمین ہے، وہ چین کے حوالے کر دی ہے۔‘

نیوز کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں راہل گاندھی نے وزیراعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’چینی فوج انڈیا کی زمین پر تھی، وہ ڈیپسانگ میں تھے۔ وہ پینگونگ میں تھے۔ انڈین فوج ہر خطرہ مول لے کر کیلاش رینچ تک پہنچ پائی تھی۔ اب وزیراعظم نے یہ زمین بھی چین کو دے دی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’یہ صد فیصد بزدلی ہے اور وزیراعظم بزدل ہیں ۔ وہ چین کا سامنا کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ وہ ہماری فوج کی قربانیوں کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔‘

راہل گاندھی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت انڈیا نے صرف دیا ہے اور چین سے حاصل نہیں کیا۔

انھوں نے کہا ’ دیپسانگ کے عسکری اہمیت کے علاقے سے چینی فوجی کیوں پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ گوگرا اور ہاٹ سپرنگ میں موجود ہیں، وہ وہاں سے پیچھے کیوں نہیں ہٹے؟‘

راہل گاندھی نے کہا کہ یہ معاہدہ چین کی کامیابی ہے، انڈیا کی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا کی فوج چین کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن وزیراعظم چین کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان معاہدے کے بعد پینگونگ جھیل کے فارورڈ محاذ سے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور میزائل وغیرہ پیچھے ہٹانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ایل اے سی پر فوجوں کی تعیناتی اور گشت وغیرہ کے بارے میں اب بھی کئی تصفیہ طلب معاملات ہیں جن پر آئندہ مذاکرات میں بات چیت کی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17774 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp