کورونا وائرس: وہ لڑکی جس نے ایک ٹویٹ سے اپنے والد کا ڈوبتا کاروبار بچا لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک خاتون نے بتایا ہے کہ کیسے انھوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے والد کی کاروں کی ورکشاپ کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔

ہارلی والش نامی اس خاتون کے والد ایک مکینک ہیں۔ انھوں نے نئے گاہک حاصل کرنے کی امید سے اپنے والد کی ایک تصویر ٹوئٹر پر شیئر کی۔

ان کی یہ ٹویٹ اس وقت مقبول ہونے لگی جب ان کے والد نے کہا کہ ان کا ایسٹ کلبرائڈ میں 35 سال پرانا کاروبار کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بحران کا شکار تھا۔

انھیں وبا کے دوران اپنا کاروبار کھولے رکھنے کی اجازت تو تھی مگر ان کے گاہکوں کی تعداد کم ہو کر صفر کے برابر ہو گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

انسٹاگرام پر سرمایہ کاری کی ’جعلی سکیم‘ جس نے 24 سالہ نوجوان کو کنگلا کر دیا

دنیا میں کمپیوٹر چپس کی کمی سے آپ کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا؟

زوم میٹنگز میں شرکت کرنے والی بکریاں جو 50 ہزار پاؤنڈز کما چکی ہیں

ہارلی بتاتی ہیں کہ ان کے گاہکوں کی تعداد روزانہ پانچ سے کم ہو کر ایک ہفتے میں بھی پانچ سے کم رہ گئی تھی کیونکہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران سڑکوں پر کاروں کی تعداد انتہائی کم ہو گئی تھی۔

ہارلی والش خود ایک آئی لیش ٹکنیشن (یعنی پلکوں کی ٹیکنیشن) ہیں۔ جمعرات کو انھوں نے کاروبار میں کچھ اضافے کی امید سے اپنے والد کی تصویر ٹویٹ کی۔

مگر ایک گھنٹے کے اندر ان کی یہ پوسٹ 1000 مرتبہ سے زیادہ دفعہ شیئر کی جا چکی تھی اور ایک ہفتے میں یہ تعداد 19 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے والد کی ورکشاپ پورے ہفتے کے لیے بک ہو چکی ہے اور آئندہ دو ہفتوں کے لیے ان کے پاس بہت کام ہے۔

ان کی ٹویٹ میں لکھا تھا: ’یہ میرے والد ہیں۔ ان کا 35 سال سے زیادہ پرانا کار مکینک گیراج موجودہ وبا کی وجہ سے مشکل میں ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو اس کے بچنے کے امکان کم ہیں۔‘

ہارلی نے بی بی سی ریڈیو سکاٹ لینڈ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گزشتہ کچھ عرصے سے میرے والد کے لیے بہت مشکل ہو گیا تھا۔ انھیں ماضی میں مسائل نہیں تھے مگر جمعرات کو ان کے پاس کوئی گاہک نہیں تھا تو ایسا اب کئی مہینوں سے تھا۔‘

’مجھے اپنے والدین کو یہ ٹویٹ کرنے کے لیے راضی کرنا پڑا کیونکہ میرے والد کو لگ رہا تھا کہ اب میں لوگوں کو آنے کے لیے درخواست کر رہا ہوں۔‘

’مگر میں نے ان سے کہا ’ابو آپ ایمانداری کے ساتھ کام کی تلاش کر رہے ہیں۔ اور پھر اس کا بہت اچھا رد عمل آیا اور ان کے پاس بہت زیادہ کام آ گیا۔‘

’اس کا بہت فرق پڑا ہے‘

ہارلی کہتی ہیں کہ کاروبار میں کمی ان کے والد پر بہت اثر انداز ہو رہی تھی مگر اب وہ اپنے پرانے انداز میں لوٹ آئے ہیں۔

نئے گاہکوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں اور انھیں امید ہے کہ یہ گاہک لوٹ کر پھر آئیں گے۔

ہارلی کہتی ہیں ’ہمیں بس امید ہے یہ جاری رہے۔ میرے والد کا خیال تھا کہ نوجوانوں کو اپنی کاریں ٹھیک کرانے کی اتنی ضرورت نہیں پڑتی اور اسی لیے وہ کافی حیران ہوئے جب اتنے سارے نوجوان لوگوں نے سروس کے لیے ان سے رابطہ کیا۔‘

وہ کہتی ہیں ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اچھے لوگ ابھی باقی ہیں اور سوشل میڈیا پر ایسا دیکھ کر اچھا لگا۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’گزشتہ ہفتے جب میں اپنے والد کی کام پر مدد کر رہی تھی تو سارا دن بار بار میرے پاس آتے رہے اور مجھے گلے لگاتے رہے۔ انھیں ایسے دیکھ کر اچھا لگا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17683 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp