EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

انڈیا چین سرحدی کشیدگی: چین پیچھے ہٹنے پر کیسے راضی ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

जवान
Getty Images
دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین اور انڈیا کے درمیان معاہدے کے بعد جلد ہی مشرقی لداخ میں لائن آف ائکچوئل کنٹرول یعنی ایل اے سی پر فنگر 3 اور فنگر 8 مارکرز کے درمیان علاقوں کو دوبارہ 'نو مینز لینڈ' کے طور پر بحال کر دیا جائے گا۔

لیکن فی الحال اس علاقے میں چینی اور نہ ہی انڈین فوج پیٹرولنگ کرے گی۔ یہ نظام تب تک جاری رہے گا جب تک اس پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان کوئی ‘عام اتفاق’ قائم نہیں ہو جاتا۔

سٹریٹیجک امور کے ماہر اور صحافی ابھیجیت ایئر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سیٹیلائٹ‘ سے جو تصاویر فراہم ہو رہی ہیں انھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ پینگونگ سو جھیل کے جنوبی علاقے کے مقابلے سپانگُر کے علاقے میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی تیزی سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

‘فوج کی قربانیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں پر شک ان کی تذلیل ہے’

پاکستان، چین، انڈیا اور آم کی سیاست: ایک طویل کہانی

انڈیا چین تنازع: کیا انڈیا کے مقابلے میں چین بہتر پوزیشن میں ہے؟

لداخ: ’فوج پیچھے ہٹانے کے معاہدے میں انڈیا نے کچھ نہیں کھویا‘

ان کا کہنا ہے کہ سامنے آنے والی تازہ تصاویر سے پتا لگتا ہے کہ چین دس کلومیٹر سے زیادہ پیچھے ہٹ چکا ہے۔

ابھیجیت ایئر مترا کے مطابق ’یہ اچھا قدم ہے کیوں کہ آنکھ میں آنکھ ڈال کر پیچھے ہٹنے کی کوشش ہوتی تو گلوان جیسے حالات کے امکانات بڑھ جاتے۔ اس لیے دونوں ممالک کی افواج خود ہی معاہدے کی اپنی سطح پر پاسداری دکھاتے ہوئے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔‘

’نومبر 2019 جیسے حالات بحال ہوں گے‘

ابھیجیت ایئر مترا نے ’سیٹیلائٹ‘ کی تصاویر کے ذریعے چند برس قبل ایل اے سی پر تفصیلی معلومات حاصل کی تھیں۔

انڈیا اور چین کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تازہ معاہدے کے تحت ایل اے سی پر 2019 سے قبل کے حالات بحال کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ چین کی فوج فنگر 5 اور 6 تک پیچھے ہٹ جائے گی جبکہ انڈیا کی فوج فنگر 3 اور 4 تک پیچھے ہٹے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ چین کے فوجیوں نے فنگر 4 اور 5 کے درمیان پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ نومبر 2019 سے قبل کے حالات ویسے ہی ہیں جو مارچ 2012 میں تھے۔

آخر چین راضی کیسے ہوا؟

چین نے مطالبہ کیا تھا کہ فنگر 3 اور 4 کے علاقوں میں انڈیا کی جانب سے سڑک اور عمارتوں کی تعمیر کے کاموں کو روکا جائے۔ ابھی تک موصول معلومات کے مطابق انڈیا نے ایسا نہیں کیا ہے کیوں کہ چین نے بھی اپنے قبضے والے علاقوں میں ٹینک لگائے ہیں اور تعمیراتی کام کیے ہیں۔

سٹریٹیجک معاملوں کے ماہر اور لندن کے کنگز کالج میں پروفیسر ہرش وی پنت نے بی بی سی سے کہا کہ دس ماہ تک اپنی جگہ سے نہ ہلنے والا چین اب جاکر پیچھے ہٹنے پر یوں ہی راضی نہیں ہو گیا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ چین نے ایسا اس لیے کیا کیوں کہ انڈین فوج نے مشرقی لداخ اور کیلاش پہاڑی کے آس پاس کی اونچی پہاڑیوں پر مورچے سنبھال لیے ہیں۔

انھوں نے بتایا ’اونچی پہاڑیوں پر انڈیا کے مورچے سنبھالنے سے چین کو بھی پریشانی ہو رہی تھی کیوں کہ اس علاقے کے جغرافیائی حالات اور موسم کے مطابق فوج کو ڈھالنا بہت مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ بہت طویل عرصے تک ان حالات میں رہنا آسان نہیں، اس لیے پیچھے ہٹنا اس کی مجبوری تھی۔‘

پیچھے ہٹنے کی دیگر وجوہات

انڈیا اور چین کے درمیان کمانڈروں کی سطح پر مذاکرات تو چل ہی رہی تھیں۔ لیکن گذشتہ دنوں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی اپنے ہم منصبوں کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان دس ماہ سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت بھی کی تھی۔

مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’چین کے ساتھ پینگونگ سو جھیل کے شمالی اور جنوبی ساحلوں پر فوجیوں کے پیچھے ہٹنے پر معاہدہ ہو گیا ہے۔‘

انڈین وزیر دفاع نے یہ بھی واضح کیا کہ انڈین فوج نے کئی اونچی پہاڑیوں پر مورچے سنبھالے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا ’انڈین فوج بہت بہادری سے لداخ کی اونچی مشکل پہاڑیوں اور کئی میٹر موٹی برف کے درمیان سرحدوں کے تحفظ کے لیے ڈٹی ہوئی ہے، اور اسی وجہ سے ہماری پکڑ مضبوط ہے۔‘

راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ٹکراوٴ والے علاقوں میں ’ڈس انگیجمنٹ‘ کے لیے انڈیا چاہتا ہے کہ 2020 کی فارورڈ ڈپلائمینٹ یعنی آگے کی فوجی تعیناتی، جو ایک دوسرے سے بہت نزدیک ہے، وہ دور دور کی جائے اور فوجیں واپس اپنی عام جگہ یعنی پہلے سے جن چوکیوں پر رضامندی ہے ان پر لوٹ جائیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پینگونگ جھیل کے علاقے میں چین کے ساتھ ’ڈس انگیجمنٹ‘ کے معاہدے کے مطابق دونوں فریق اپنی آگے کی فوجی تعیناتی کو ’مرحلہ وار، متعاون اور مستند‘ انداز میں ہٹائیں۔

مستقبل میں کیا ہونے والا ہے؟

انڈیا اور چین کے درمیان اگلے دور کے مذاکرات جلد ہونے والے ہیں جس مین دونوں ممالک کی افواج کے درمیان باقی کارروائیاں مکمل کی جائیں گی۔

دفاعی امور کے ماہر ہرش کے مطابق پینگونگ سیکٹر میں چین کی کچھ مسلح گاڑیوں اور ٹینکوں کو پیچھے ضرور کر دیا ہے لیکن فوجیوں کی پوزیشن میں ابھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین کو فنگر 4 تک گشت کا حق دے دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایل اے سی کے حالات فنگر 8 سے ہٹ کر اب فنگر 4 تک پہنچتے نظر آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا یہ ہے کہ چین کی فوج کا اصل مقصد شروعات سے ہی مشرقی لداخ پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چین کی جانب سے ڈیپسانگ کے بارے میں ایک لفظ بھی سننے کو نہیں ملا ہے۔ انھوں نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ چین کی فوج کا ڈیپسانگ سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

لیکن سٹریٹیجک معاملوں کے ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابھی تو یہ پہلا قدم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے کئی اور دور ہونے ہیں جس میں ڈیپسانگ اور دیگر کئی اہم مقامات کا موضوع اٹھایا جائے گا اور ان کا حل نکالنے کی کوشش ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 20003 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp