سینیٹ انتخابات 2021: فیصل واوڈا اور یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے ٹکٹ دینے پر تنقید کیوں؟

عماد خالق - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں آئندہ ماہ ہونے والے سینیٹ انتخابات کے لیے تمام جماعتوں نے اپنے نامزد امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے جس کے بعد سے کچھ ناموں پر مختلف وجوہات کی بنا سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

ان ناموں میں جہاں ایک جانب پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا پر تنقید ہو رہی ہے وہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اور سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کا نام بھی زیر بحث ہے۔

ادھر حکمران جماعت پی ٹی آئی نے گذشتہ روز سے سامنے آنے والی تنقید کے بعد بلوچستان سے سینیٹ کے لیے امیدوار عبدالقادر سے ٹکٹ واپس لے کر ظہور آغا کو جاری کر دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے اس بات کا اعلان ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا۔

تاہم فیصل واوڈا کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے پر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ ان پر الیکشن کمیشن میں گذشتہ ڈھائی برسوں سے دوہری شہریت سے متعلق نااہلی کا کیس زیر سماعت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر سماعت: ’جمہوریت برقرار رہتی تو شاید انتخابات میں پیسہ نہ چلتا‘

سینیٹ الیکشن پر سہیل وڑائچ کا کالم: ڈر کاہے کو

سپریم کورٹ: ’ایسا لگتا ہے کہ صدارتی آرڈیننس مفروضوں کی بنیاد پر جاری کیا گیا‘

اپوزشین جماعتوں کا مؤقف ہے کہ انھیں سینیٹ کا ٹکٹ اس لیے دیا گیا تاکہ انھیں اس مقدمے سے بچایا جا سکے جبکہ ادھر پی ٹی آئی کا مؤقف یہ ہے کہ انھیں سینیٹ میں ایک دبنگ آواز کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نون کے رکنِ قومی اسمبلی اور سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کو ٹکٹ دینے کی وجہ بڑی سادی سی ہے۔

’ان کے خلاف (دوہری شہریت کا) مقدمہ بہت مضبوط ہے لیکن ڈھائی سال سے اس بارے میں فیصلہ ہی نہیں دیا جا رہا۔ اگر انھیں دبنگ آواز ہی چاہیے تھی تو ایسے اور بھی بہت لوگ ہیں اور فیصل واوڈا تو وفاقی وزیر ہیں یہ ہر روز سینیٹ میں بیٹھ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ انصاف کے دوہرے معیار ہیں۔ ’سنہ 2018 میں ہمارے دو سینیٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کو بغیر کسی سماعت کے ازخود نوٹس کے تحت سپریم کورٹ نے نکال دیا تھا۔‘

فیصل واوڈا کو ٹکٹ دینے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی اور وفاقی وزیرِ برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ آرٹیکل 62 اور 63 سینیٹ پر بھی لاگو ہوتا ہے اس لیے اگر اپوزیشن کو اس حوالے سے کوئی اعتراضات ہیں تو وہ انھیں سکروٹنی کے وقت چیلنج کر سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سینیٹ میں ہمیں ایک مضبوط آدمی چاہیے اور وہ سندھ سے فیصل واوڈا ایک ایسے امیدوار ہیں جن پر سارے رکنِ صوبائی اسمبلی متفق ہیں۔‘

تاہم اس سے قبل جیو نیوز کے ایک پروگرام میں فواد چوہدری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فیصل واوڈا کو ٹکٹ دینے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان کے خلاف دوہری شہریت سے متعلق جو نااہلی کا کیس بنا ہوا ہے اس میں تاریخ سے متعلق جو ابہام موجود ہے اسے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے تاکہ واوڈا صاحب اپنی وزارت پر توجہ دے سکیں۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے سینیٹ کے انتخاب کے لیے اپوزیشن کے سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کی مشترکہ حمایت اور ان کی نامزدگی پر بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ’پی ڈی ایم کا متفقہ فیصلہ ہے کہ سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد کی سیٹ سے ٹکٹ دیا جائے اور پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں ان کی حمایت کریں گی۔‘

فواد چوہدری سے یوسف رضا گیلانی کو ٹکٹ دینے کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یوسف رضا گیلانی قابلِ احترام ہیں لیکن وہ وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں اور ان کا سینیٹ کی سیٹ کے لیے کھڑا ہونا ویسے ہی ہے، جیسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کے لیے الیکشن لڑیں۔‘

انھوں نے پی ڈی ایم کی یوسف رضا گیلانی کی حمایت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہمارے سیاستدانوں کی اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔ کیونکہ ان ہی یوسف رضا گیلانی کے خلاف نواز شریف کالا کوٹ پہن کر عدالتوں کے چکر لگاتے تھے کہ انھیں نااہل کیا جائے۔ پھر پاکستان مسلم لیگ نواز اشتہار دیتی تھی کہ یہ زرداری کی بدعنوانی چھپاتے ہیں اور اب انھیں ہی ووٹ دیا جا رہا ہے۔‘

سینیٹ نامزدگیوں پر سوشل میڈیا ردعمل

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے سامنے آنے والے ردِ عمل میں اکثر صارفین اور تجزیہ نگار پی ٹی آئی کی جانب سے فیصل واوڈا کی نامزدگی کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آئے۔

وکیل اور تجزیہ نگار ریما عمر کا کہنا تھا کہ فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی خاصا سیدھا سادہ کیس ہے لیکن اس حوالے سے الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت نہیں ہوتی کیونکہ فیصل واوڈا سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کر دیتے ہی اور اب پی ٹی آئی نے انھیں سینیٹ کا ٹکٹ دے دیا ہے۔

صحافی احمد سعید نے لکھا: ’فیصل واوڈا کو ٹکٹ دینا قانونی مراحل کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔‘

ایک اور صارف جو بظاہر تحریک انصاف کے حامی نظر آتے ہیں، نے لکھا: ’وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے سینیٹ کے ٹکٹ دے دیے گئے ہیں اور وہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17818 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp