میانمار میں فوجی بغاوت: فوج کا اب اگلا قدم کیا ہوگا؟

جوناتھن ہیڈ - نامہ نگار برائے جنوب مشرقی ایشیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنرل من آنگ ہلینگ

Reuters
میانمار کے نئے فوجی حکمران جنرل من آنگ ہلینگ

وہ شخص جس نے میانمار کے جمہوری تجربے کا تختہ الٹ کر دنیا کو دنگ کر دیا تھا، وہ اب تک صرف دو مرتبہ اپنی وضاحت کے لیے سرکاری ٹیلی ویژن پر عوام کے سامنے آئے ہیں۔

ٹیلی پرامٹر کے سامنے گبھرائے ہوئے سے نظر آنے والے جنرل من آنگ ہلینگ نے اپنی تقریر میں فوجی بغاوت، ملک کی منتخب سیاسی قیادت کو حراست میں رکھنے، ملک کے طول و عرض میں ہر شعبے زندگی کی جانب سے فوجی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں، عالمی برادری کی جانب سے مذمتی بیانات اور ملک پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے خطرات کے متعلق کوئی بات نہیں تھی۔

اس کے بجائے انھوں نے ملک میں اتحاد اور تنظیم کی ضرورت کے گھسے پٹے فوجی نعروں اور گذشتہ نومبر کے انتخابات میں انتخابی بے ضابطگیوں کے بارے میں اپنے ہی غیر مصدقہ الزامات کو دہرایا۔

منتخب حکومت کا تختہ الٹنے پر عوامی غم و غصہ کو کم کرنے کی کوشش میں ناتجربہ کاری کے باعث ان کی واضح بے چینی کے علاوہ، من آنگ ہلینگ نے اس خطرناک بحران کے متعلق بھی کوئی آگاہی نہیں دی جس میں انھوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے اپنے ملک کو گھسیٹا ہے۔

میانمار میں فوجی بغاوت

Reuters

باقی دنیا اور لاکھوں برمی باشندوں کے نقطہ نظر میں جو افراد غیر متوقع طور پر بہت بڑی تعداد میں آنگ سان سوچی اور ان کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے تھے، ان کے نزدیک فوج کی جانب سے طاقت کے ذریعے اقتدار پر زبردستی قابض ہونا ’فوجی بغاوت‘ ہے جسے پہلے ہی عوام نے گذشتہ انتخابات میں رد کر دیا تھا۔

اس فوج نے ایک ایسے جنرل کے ذریعے اقتدار پر قبضہ جمایا جو نہ صرف رواں برس جولائی میں ریٹائر ہو رہے، بلکہ حال میں آنے والے انتخابی نتائج کے بعد ان کا کوئی خاص کردار بھی نہیں بچا تھا۔

لیکن میانمار کے فوجی جرنیل اپنے آپ کے لیے ایسا نہیں سوچتے۔ انھوں نے ملک میں مسلح افواج کے سیاست میں غالب کردار کو برقرار رکھنے کے لیے موجودہ آئین کی تشکیل میں برسوں گزارے جس کو وہ اب بھی ‘نظم و ضبط سے فروغ پانے والی جمہوریت’ کہتے ہیں۔

وہ ہمیشہ اپنا یہ حق رکھتے تھے کہ اگر کوئی پروجیکٹ کسی ایسی سمت جا رہا ہے جس کو وہ پسند نہیں کرتے تو وہ اس میں دخل اندازی کر سکیں۔

میانمار میں کئی برسوں سے مقیم ایک سینیئر سفارتکار نے بی بی سی کو شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘میں جب بھی من آنگ ہلینگ سے ملا ہوں، انھوں نے اس پر اسرار کیا کہ فوج کی ذمہ داری جمہوریت کی حفاظت کرنا ہے۔’

میانمار، فوج

EPA

‘ان کے نقطہ نظر سے مسلح افواج کو دخل اندازی اس لیے کرنا پڑی کیونکہ ملک کی جمہوریت میں بے ضابطگیاں تھی۔ یہ ان کا موقف ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے آئین کے مطابق قدم اٹھایا ہے۔ میرے خیال میں وہ سمجھتے ہیں کہ باقی دنیا بھی سمجھ جائے گی۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے وہ فوجی بغاوت ہے۔’

میانمار کا سنہ 2008 کا آئین ملک کی قانون ساز اسمبلی نے چند چنیدہ نمائندوں کے ذریعے سابقہ فوجی دور حکومت میں تیار کیا تھا۔

اس آئین میں ‘تتماداو’ کی اصلاح مسلح افواج کے لیے استعمال کی گئی ہے اور یہ فوج کو ضمانت دیتا ہے کہ ملک کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں ایک چوتھائی نشستیں ان کی ہوں گی، اور اس بات سے بالا تر کہ کس جماعت کی حکومت ہو، ملک کی تین اہم اور طاقتور وزارتیں (دفاع، خارجہ امور، داخلی امور) بھی ان کے پاس ہوں گی۔ آئین کے مطابق وہ صوبائی انتظامیہ کے بھی بیشتر معاملات دیکھیں گے۔

اس آئین کے مطابق آنگ سان سوچی کے علاوہ کوئی بھی سیاسی رہنما جس کے اہلیہ یا بچے غیر ملکی ہوں گے ملک کا صدر نہیں بن سکتا۔

مجھے یاد ہے کہ 2006 کے آخر میں اس آئین کی مسودہ سازی کے عمل کے آغاز پر میں نے اُس وقت کے وزیر اطلاعات سے یہ پوچھا تھا کہ میانمار جمہوریت کے راستے پر چلنے کے لیے کن مثالوں کو مشعل راہ بنانا چاہتا ہے، اور انھوں نے مجھے بہت مخلصانہ طور پر بتایا تھا کہ وہ انڈونیشیا میں سوہارتو کی آمرانہ حکومت کو ایک مناسب ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

لہذا جب میانمار میں فوجی جرنیلوں نے آنگ سان سوچی کی رہائی کے بعد 2010 کے آخر میں ملک میں جمہوری دور حکمرانی کا آغاز کیا تو ان سے یہ توقع کی گئی کہ وہ اس نظام کو اپنی چھڑی کے نیچے رکھیں گے۔

انھیں توقع تھی کہ ان کی پراکسی پارٹی، یو ایس ڈی پی، غیر منتخب فوجی اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر 2015 کے انتخابات میں کافی حد تک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور آنگ سان سوچی کی پارٹی این ایل ڈی کو ایک پارٹی کی حکومت بنانے سے روکنے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن وہ بری طرح اپنی شکست پر حیران رہ گئے تھے۔

میانمار، مارشل لا

EPA

این ایل ڈی کی حکومت کی گذشتہ پانچ برسوں میں بری حکمرانی کے بعد یو ایس ڈی پی کو انتخابات میں اپنی بہتر نتائج کی توقع تھی لیکن ان کی نشستوں کا حصہ مزید سکڑ کر سات فیصد سے بھی کم ہو گیا۔

یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ جنرل من آنگ ہیلنگ اصل میں اس بات پر یقین رکھتے ہوں کہ یو ایس ڈی پی کی بری انتخابی کارکردگی دراصل انتخابی دھاندلی اور فراڈ کی وجہ سے تھی اور یہی وجہ ہے کہ ان کی جماعت گذشتہ انتخابات میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔

اب جب کہ میانمار کی مسلح افواج نے اپنی طرز کی جمہوریت بچانے کے لیے ملک کے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے، ان کا اگلا قدم کیا ہو گا؟

ان کا فوری چیلنج فوجی بغاوت کے خلاف قومی مزاحمتی تحریک میں بدلتی تحریک سے نمٹنا ہے۔

میانمار میں جو بات سب کے ذہنوں میں ہے وہ یہ کہ کیا بڑی تعداد میں لوگوں کو مارے بغیر ایسا کر پائیں گے، جیسا کہ ماضی میں وہ کرتے رہے ہیں۔

لیکن جنتا کو قانونی سیاسی حکومت کی بحالی کی راہ پر واپس جانے کی ضرورت ہے۔

میانمار کی فوج نے خود کو اپنے زیر سایہ بنائی ہوئی سیاسی جماعت کی انتخابی مقبولیت بحال کرنے کے لیے ملک میں ایک سال کی ایمرجنسی نافد کر کے وقت دیا ہے، البتہ اس دورانیہ میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

میانمار میں فوجی بغاوت

تھائی ماڈل

برمی جرنیلوں کے پاس اس نظام کی پیروی کرنے کے لیے ایک مثال موجود ہے اور وہ ہے ہمسایہ ملک تھائی لینڈ کا نظام حکومت۔

وہاں فوجی بغاوت کرنے والے سنہ 2014 میں اس مسئلے کا شکار تھے کہ ملک کی مقبول سیاسی جماعت کو کیسے روکا جائے۔

یہاں فھیو تھائی نامی سیاسی جماعت جس کی سربراہی تھاکسن شھنوترا اور ان کی بہن ینگلک کرتے ہیں، جس نے سنہ 2001 سے ہونے والے ہر انتخاب میں کامیابی حاصل کی ہے۔

منتخب حکومت کے مقابلہ میں 250 نشستوں پر مشتمل سینیٹ کے ساتھ ایک نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کے علاوہ تھائی لینڈ میں جنتا نے بڑی احتیاط سے انتخابی نظام کو نئے سرے سے مرتب کیا ہے تاکہ یہ یقینی بنائے جا سکے کہ سیاسی جماعت فھیو تھائی کم نشستیں جیت سکے۔

میانمار میں بھی فوج کچھ ایسا ہی کرنے والی ہے۔ این ایل ڈی کی وسیع پیمانے پر مقبولیت اسے پہلے سے موجود نظام میں ووٹوں کے تناسب کے مقابلے میں کہیں زیادہ نشستوں کا حصہ دیتی ہے۔

تھائی فوج نے الیکشن کمیشن کے اراکین کو بھی تعینات کیا ہے اور آئینی عدالت کی رکنیت پر بہت اثر ڈالا ہے۔

ان دونوں اداروں نے یہ یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے کہ انتخابی قوانین کی تشریح اس انداز میں کی جائے جس سے فوج کی پراکسی پارٹی کو فائدہ پہنچے اور یہ کہ عدالتی فیصلے ہمیشہ سیاست میں فوج کے کردار کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کے حق میں نہ آئیں۔

میانمار میں فوج آنگ سان سوچی اور منتخب صدر، ون مائنٹ کے خلاف پہلے ہی مضحکہ خیز مجرمانہ الزامات عائد کرچکی ہے۔

امکان ہے کہ این ایل ڈی کے ہیڈ کوارٹرز اور ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر پر رات کے وقت مارے جانے والے چھاپے ان دستاویزات کے حصول کے لیے ہیں جو فوج کو این ایل ڈی کے خلاف انتخابی دھوکہ دہی کا مقدمہ بنانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں، جس کا مقصد اس جماعت یا اس کی اعلیٰ قیادت کو آئندہ انتخابات کے لیے نااہل قرار دینا ہے۔

لیکن تھائی لینڈ میں ملک کو حقیقی طور پر تقسیم کیا گیا تھا جب آبادی کا ایک بڑا حصہ تھاکسن شناوترا کے سخت خلاف تھا۔

وہاں فوج کی حمایت یافتہ جماعت پی پی آر پی نے حقیقت میں کسی بھی دوسری پارٹی کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کیے، اگرچہ ان کی نشستیں کم تھیں اور وہ الیکشن کمیشن کی مدد سے ایک حکمران اتحاد قائم کرنے میں کامیاب رہی۔

امریکہ اور دیگر کے ‘کنٹرول کی کمی’

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف عوام کے غیر معمولی غصے کی شدت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں بھی اگر ملک میں قدرے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے تو یو ایس ڈی پی یا جس پارٹی کو بھی تاتماڈو (مسلح فوج) کی حمایت حاصل ہے وہ گذشتہ نومبر کے مقابلے میں بھی بدتر کارکردگی دکھائے گی۔

مستقبل قریب میں کسی بھی انتخاب کو انجینیئر کرنے کے لیے انتخابی ہیرا پھیری اور جبر کی بہت ضرورت ہے تاکہ فوج کی حمایت یافتہ پارٹی انتخاب جیت سکے اور کسی بھی حکومت کی تشکیل کو خطرے میں ڈال سکے۔

اس کا متبادل فوجی حکومت کے کئی اور برس ہیں۔ میانمار کے فوجی جرنیل یہ امید کر رہے ہیں کہ 75 سالہ آنگ سان سوچی کی بڑھتی عمر اور اقتدار سے بے دخلی انھیں اور ان کی جماعت این ایل ڈی کو سیاسی منظر نامے سے غائب کر دے گی۔

پچھلے دس برسوں میں ہونے والی زبردست بہتری کے بعد میانمار کے لیے یہ بہت تاریک اور برے امکانات ہیں۔

سینیئر سفارتکار کا کہنا تھا کہ ‘میں یہ جانتا ہوں کہ اس پر یقین کرنا مشکل ہے لیکن مسلح افواج حقیقی معنوں میں یہ سوچ رہی ہے کہ وہ ملٹی پارٹی جمہوری نظام کی جانب کام کر رہے ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘انھیں بتانے کے ضرورت ہے کہ اگر انھوں نے یہ اقدامات اٹھائے تو وہ باقی دنیا کو سمجھا نہیں پائیں گے۔ انھیں اس طرح کی مدد اور سرمایہ کاری نہیں مل سکے گی جو گذشتہ ایک دہائی سے ان کے پاس آئی ہے۔ یہ مسلح افواج کو اس طرح سے بتانے کی ضرورت ہے جس کے کوئی غلط فہمی نہ پیدا ہو۔’

امریکہ میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے پہلے ہی نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ میانمار کی فوج اور اس کے وسیع کاروباری مفادات لیکن تاتماڈو پر ان کا اثر و رسوخ محدود ہو گا۔

آنگ سانگ سوچی

Reuters

میانمار میں جمہوری نظام کے آغاز کے بعد سے میانمار کے لیے پہلے امریکی سفیر ڈریک مچل کا کہنا ہے کہ ‘ ہمارا پوری طرح سے اثر نہیں ہے۔ اس کی کنجی ہمارے اتحادی ہیں۔ یہ ایک کٹھن راستہ ہےکیونکہ ہمارے کچھ اتحادیوں جس میں جاپان، انڈیا کوریا شامل ہیں نے وہاں کافی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ وہ وہاں چین کے بڑھتے اثر رسوخ سے پریشان ہوں گے۔ ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کوئی حل نکالنا ہو گا تاکہ ہم اس پر مسلسل دباؤ ڈال سکیں اور اس کو تسلیم نہ کریں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘لیکن ہم پرانی طرز کی پابندیوں کی جانب نہیں جانا چاہتے، اب ان پابندیوں کو پیسہ، ہتھیار اور وقار وہ تمام چیزیں جو فوج کی ضرورت ہے کو مدنظر رکھ کر بڑے احتیاط سے بنانا ہو گا۔ جس چیز کا انھیں سب سے زیادہ خطرہ ہے وہ ملک کاچین جیسے کسی دوسرے بڑے پڑوسی ملک پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ ہمیں یہ بتانا ہوگا کہ اس کی ایک قیمت ہے ، اگر آپ اپنے تعلقات میں توازن چاہتے ہیں تو آپ اسے اس طرح حاصل نہیں کر سکتے ۔ فوج کو یہ سمجھنا چاہئے۔’

کیا وہ سمجھیں گے؟ میانمار کی معیشت کووڈ 19 کی وبا کے باعث پہلے ہی سخت متاثر ہو چکی ہے اور تاتماڈو کے ذریعہ روہنگیا مسلمانوں کی نسلی کشی کے بعد سے سنہ 2017 سے غیر ملکی سرمایہ کاری بھی ختم ہو چکی ہے۔

پابندیوں کا ایک محدود اثر پڑ سکتا ہے ، لیکن غیر ملکی کمپنیاں اس طرح کی غیر مقبول فوجی حکومت کے تحت کام کرنے کے باعث اپنی ساکھ کو ہونے والے نقصان سے بچنے کے لیے ویسے بھی ملک سے اپنی سرمایہ کاری نکال سکتی ہیں۔

اور مقامی کاروبار نے خبردار کیا ہے کہ جنتا کی جانب سے انٹرنیٹ تک رسائی بند کرنے کوشش، احتجاجوں کو روکنے کی کوشش ملک کی معیشت کو سنگین نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ اب ملک میں چھوٹی کاروباری کمپنیاں اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے فیس بک کا استعمال کرتی ہیں۔

شدید معاشی پریشانی شاید جرنیلوں کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کردے۔ لیکن اقتدار کی شراکت کے انتظام کو تباہ کرنے کے بعد جس نے پچھلے 10 برسوں میں جمہوری نظام کی داغ بیل رکھی، یہ واضح نہیں ہے کہ چاہ کر بھی وہ اپنی فوجی بغاوت سے کیسے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

آنگ سان سوچی، جو 20 برس تک نظر بند رہنے کے باوجودجرنیلوں کے خلاف رہی ہیں اور جس طرح سے انھیں معزول کر دیا گیا ہے شاید ہی انھیں کوئی مراعات دیں۔ انھیں رہا کرنا عوامی سطح پر فوجی بغاوت کی تحریک کو جلا بخشنے کے مترادف ہو گا۔

زیادہ امکان یہ ہے کہ جرنل من آنگ ہیلنگ اپنا اقتدار جاری رکھتے ہوئے میانمار کی فوجی بدانتظامی کے طویل المیے کی تاریخ میں اپنا مایوس کن باب رقم کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17698 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp