امریکہ میں سخت گیر خیالات اور سازشی نظریات نے کیسے اپنے پنجے گاڑے

ایلسٹر کولمین - بی بی سی مانیٹرنگ، ڈس انفارمیشن ٹیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیو اینون
Getty Images
سازشی نظریات رکھنے والے گروہ کیو اینون تقسیم کی وجہ بنے جنہوں نے 6 جنوری کو ہونے والے فسادات کو ہوا دی

پس منظر

واشنگٹن ڈی سی میں 6 جنوری کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کی بنیاد معاشرے میں کئی برسوں سے پڑنے والی وہ دراڑیں تھیں جو انلائن دنیا میں بے بنیاد سازشی نظریات کے پھیلاؤ کی وجہ سے پڑیں اور جنہیں دائیں بازو کے سیاستدان اور میڈیا کی شخصیات نے خوب بڑھاوا دیا جبکہ اپنی مدت صدارت کے اختتام کو پہنچنے والے صدر مسلسل انتخابی دھاندلی کے بے بنیاد دعوے کر رہے تھے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کی ڈس انفارمیشن ٹیم کے ایلسٹر کولمین نے بی بی سی ریڈیو 4 سے گفتگو کرتے ہوئے فرام آور اون کورسپانڈنٹ پروگرام کے لیے ایک تجزیاتی گفتگو ریکارڈ کروائی اور یہ بتایا کہ اس پرتشدد واقعےکے پیچھے کیا محرکات تھے، جو اس میں شامل تھے وہ اب کس رخ جا رہے ہیں اور بی بی سی مانیٹرنگ نے انلائن سازشی نظریات کو کس طرح پھیلتے دیکھا اور جن کے نتائج اب حقیقی دنیا میں نظر آئے ہیں۔

اس مضمون کے اگلے حصے میں جو کچھ درج ہے وہ ایلسٹیر کے نشریے کا تحریری ریکارڈ ہے، جسے 30 جنوری کو پہلی بار نشر کیا گیا تھا۔

واشنگٹن ڈی سی میں 6 جنوری کو ہونے والے ہنگاموں نے بہت سوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

لیکن ہم میں سے وہ لوگ جو ٹرمپ کے دور صدارت میں شدت پسندی پر نظر رکھے ہوئے تھے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ آخر حکام کو بظاہر حالات اس طرف جاتے کیوں نظر نہیں آئے۔

ہم نے جب سازشی نظریات کی بڑھتی ہوئی لہر کو دیکھا تو ہمیں اس بات کا شک ہوا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ ہوسکتا ہے۔

یہ مواد سخت گیر خیالات رکھنے والے معاشرے سے الگ تھلگ گروہوں سے انلائن حلقوں جیسا کہ یوگا گروپس، بچوں کی پرورش کے بارے میں فورمز اور مقامی لسٹنگ پیجز تک کیسے پہنچا؟

بی بی سی مانیٹرنگ کی ڈس انفارمیشن ٹیم سخت گیر خیالات پر مبنی مواد اور اس کی انلائن نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہماری ٹیم دو سال پہلے اُس وقت بنی جب انتخابات میں بڑھتی انلائن مداخلت اور نام نہاد ‘جھوٹی خبروں’ میں اضافہ نظر آیا۔

ویکسین کے خلاف مہم۔ فائیو جی مخالف گروہ۔ کیو اینون کی سازش۔ ہم نے انٹرنیٹ کے کچھ تاریک کونوں پر نظر ڈالی تاکہ یہ جان سکیں کہ یہ بے بنیاد نظریات کہاں سے آئے ہیں اور یہ اتنے وسیع پیمانے پر اتنی تیزی سے کیسے پھیلے ہیں۔

ہم نے فلوریڈا میں ایک جوڑے کے بارے میں خبر دی جنہوں نے انلائن یہ پڑھا اور اس پر یقین کر لیا کہ کوڈ – 19 کی وبائی مرض ایک ڈھونگ ہے۔

ان دونوں ہی کو وائرس لگا، اور مجھے وہ لمحہ یاد ہے جب ہماری ٹیم کو یہ جان کر سخت دھچکہ لگا کہ اُن میں سے ایک کی موت واقع ہوگئی ہے۔

اب ہم واشنگٹن میں لوگوں کو مرتا ہوا دیکھ رہے ہیں ایک ایسا المیہ جس کی توقع تھی جس کی شروعات کئی برسوں پہلے ہوئی۔

اس کی بنیاد 2016 میں ہلیری کلنٹن کے ای میل سرور کے بارے میں عجیب و غریب اور بے بنیاد نظریات کی وجہ سے پڑی تھی جس نے بدل کر کیو اینون کی شکل اختیار کرلی۔

یہ شاید ایک گھٹیا مذاق کے طور پر شروع ہوا ۔ ہیلری کی ای میلز کو بچوں سے غیرفطری جنسی رغبت رکھنے والے گروہ کا ایک خفیہ اشارہ سمجھا جانے لگا اور یہ کہ یہ گروہ ایک پیزا ریستوراں سے چلایا جاتا ہے ۔ یہ آپے سے باہر ہوگیا کیونکہ لوگ واقعتاً اس بات پر یقین کرنے لگے کہ ڈیپ سٹیٹ میں قاتل اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے لوگ ہیں جنہیں صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی ہرا سکتے ہیں۔

اس نظریہ کو امریکی سیاسی نظام میں زرخیز زمین ملی جو پہلے ہی گہری تقسیم کا شکار تھی۔

کیو اینون کی طرف رغبت لوگوں میں خدا اور حب الوطنی کے احساس کو سہارا بنا کر ابھری اور مخالفین کو بچوں کے جنسی استحصال کرنے والے قاتل کہہ کر مسترد کیا گیا اور اس نے لوگوں کو جذباتی سطح پر چھوا۔

یہ سب حقیقی دنیا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا جس میں مسلح ملیشیا گروپس تھے جن کے اپنے نظریات انلائن سازشی نظریات سے عملی طور پر مختلف نہیں تھے۔

ایک ایسا نظریہ جو منتقی سوچ کی دھجیاں اڑاتا ہے وہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر انسانوں کا خون پینے والی اشرافیہ انسانیت کو غلام بنا رہی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ وہ عظیم جنگجو ہیں جو اُنہیں بچانے کے لیے آئے ہیں۔

اور کیو اینون کے کچھ پیروکاروں کو واقعی اس بات پر یقین تھا کہ نئے صدر کی حلف برداری ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی سے رک جائے گی۔

اُن کا اعتقاد تھا کہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہونگی، مقدمے چلیں گے اور سزائے موت دی جائیں گی۔ یہ وقت آخر کار آنے والا ہے جسے وہ دی سٹارم کہتے تھے۔

لیکن جیسے ہی گھڑی پر دوپہر کے بارہ بجے اور کیو پرافیسی یا ایک اور پیش گوئی سچ ثابت نہ ہوئی تو کچھ کو احساس ہوا کہ وہ دھوکہ کھاگئے ہیں۔

ٹرمپ کے کٹر حامی انلائن اکٹھے ہو کر غصے اور الجھن میں پھوٹ پڑے۔

ایک پیروکار نے کہا ‘مجھ الٹی آرہی ہے میں قہہ کرنا چاہتا ہوں۔’

‘میں تمام جھوٹی معلومات اور جھوٹی امیدوں سے اکتا گیا ہوں۔’

ایک اور نے لکھا ‘سب ختم ہو گیا اور ہم دھوکہ کھا گئے۔’

بڑے پیمانے پر کوئی گرفتاریاں نہیں ہوئیں، ٹرمپ نے ہنگامی نشریاتی نظام پر کوئی خطاب نہیں کیا۔۔۔ ایک خاتون جن کے شوہر کیو اینون کے پیروکار ہیں انہوں نے ہمیں بتایا کہ نئے صدر کی حلف برداری کا دن ان کی زندگی کا سب سے مایوس کن دن تھا۔

لیکن بہت سوں کے لیے حالات نے جو رخ اختیار کیا وہ ان کی دنیا کا خاتمہ نہیں تھا۔

‘صف آراء رہیں! یہ سب منصوبے کا حصہ ہے’ یہ خیال بار بار دہرایا گیا اور وہ اس نظریے پر یقین کرنے لگے کہ یہ حلف برداری کی تقریب ہی جعلی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ ابھی بھی صدر ہیں لیکن فلوریڈا میں ہیں۔

اور خاص کیو اینون کے انداز میں اب ایک اور تاریخ کا زکر ہو رہا ہے جب دی سٹرام یا وہ طوفان آنے والا ہے۔ وہ تاریخ ہے 4 مارچ۔

ہم نے ایسے لوگوں کا انٹرویو کیا جو سازشی نظریات پر یقین رکھتے ہیں، اور ہم نے اُن کے اہل خانہ اور اُن کے دوست احباب سے بھی بات کی۔ اور ہم نے اکثر یہ سنا کہ ماضی میں عقل و فہم رکھنے والے یہ لوگ یوٹیوب وڈیوز اور فیس بک پیجز دیکھ دیکھ کر ایک الگ ہی دنیا کی طرف کھینچے چلے گئے جس میں حقیقت کو پلٹ کر دکھایا گیا تھا۔

ہم اس خطرے سے واقف ہیں کہ اگر آپ ایک لمبے عرصے پاتال تک ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے رہیں تو اس کا ذہنی صحت پر اثر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم اپنی ٹیم کے ساتھ کام کے اختتام پر گفتگو کرتے ہیں تاکہ ہم ان چیزوں پر تبادلہ خیال کرسکیں جو ہم نے دیکھی ہیں۔

جب فیس بک اور ٹوئٹر ان انلائن انتہا پسندوں پر پابندی عائد کرنے کے لیے متحرک ہو ئے تو ہم نے دیکھا کہ کس طرح لوگوں نے ان پلیٹ فارمز کو ترک کر کے دوسرے ڈجیٹل پلیٹفارمز کی طرف رجوع کیا جو سخت گیر خیالات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ان خیالات کو ٹوئٹر نما پلیٹفارم گیب پر جگہ ملی اور یہ سگنل جیسی فون ایپس اور ماضی میں اسکول کے دنوں میں رائج انٹرنیٹ میسج بورڈز پر پائے گئے۔

معاشرے سے الگ تھلگ گروہ اب ان پلیٹفارمز پر ٹرمپ کے حامیوں اور کیو اینون کے بھٹکے ہوئے پیروکاروں کی تلاش کر رہے ہیں۔

تشویش کی بات یہ ہے کہ امریکی ملیشیا گروپ کھلے عام لوگوں کو انلائن بھرتی کر رہے ہیں۔

یہاں تک کہ ایسے ایک گروہ کے پاس لوگوں کو بھرتی کرنے کی مکمل گائیڈ بھی ہے۔ وہ ناراض اور مایوس افراد کی ٹوہ میں رہتے ہیں اور ڈیجیٹل دنیا میں ان کے کندھوں سے کندھے ملاتے ہیں اور ان سے دنیا حاصل کر لینے کے بڑے بڑے وعدہ کرتے ہیں۔

یہ نظریات بدلنے کا وہی طریقہ ہے جو انلائن جہادیوں نے پچھلی دو دہائیوں میں استعمال کیا ہے۔

ہماری ٹیم نے اس شعبے کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کیا ہے اور (اِن دونوں سخت گیر خیالات رکھنے والے گروہوں) کے طریقوں میں ہم آہنگی واضح ہے۔

اور جب ہم نے کیو (اینون) کے ماننے والوں کا سُراخ لگانے اور اُن پر نظر رکھنے کی مزید کوشش کی تو یہ واضح ہوگیا کہ جہاد کی طرف راغب ہوجانے والوں کے لیے جس طرح ازسر نو تعلیم و تربیت کے پروگرام ہوتے ہیں اِن افراد کے کو بھی اپنے اہل خانہ کی طرف واپس لوٹانے کے لیے بڑے پیمانے پر تربیتی پروگرام کی ضرورت ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17692 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp